مارچ میں ایک معتبر شخصیت کو بتایا تھا کہ تسلسل نہ دیا تو معیشت بکھر جائے گی: سینیٹر شوکت ترین 

مارچ میں ایک معتبر شخصیت کو بتایا تھا کہ تسلسل نہ دیا تو معیشت بکھر جائے گی: سینیٹر شوکت ترین 

اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمت بڑھا کر مہنگائی کے ستائے عوام پر بم گرا دیا گیا ہے، جب تک یہ عوام کے مفاد کیلئے کھڑے نہیں ہوں گے، سب ان کو ڈنڈا ماریں گے، رواں برس مارچ میں ایک معتبر شخصیت کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ معیشت بڑھ رہی ہے، تسلسل نہیں دیں گے تو بکھر جائے گی۔ 

تفصیلات کے مطابق چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہونے والے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت بڑھا کر عوام پر بم گرا دیا گیا اور بجلی کی قیمت میں انہوں نے گزشتہ روز 47 فیصد اضافہ کیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا وژن تھا کہ عا آدمی پر کسی صورت بھی بوجھ نہیں ڈالنا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ 60 فیصد ڈیزل پاکستان کی مقامی ریفائنری بناتی ہے جو پہلے 18 اور اب 70 فیصد مارجن لے رہی ہے جبکہ ہمارے دور میں ڈیزل کا مارجن 14روپے تھا۔ 

جب تک یہ کوام کے مفاد کیلئے کھڑے نہیں ہوں گے سب ان کو ڈانڈا ماریں گے، پچھلے سات دن میں پیٹرول 60 روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا۔ پی ٹی آئی کی حکومت پہلی مرتبہ آئی اور جو معیشت ملی اس وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس گئے مگر انہیں کہہ دیا کہ بجلی کے نرخ بڑھائیں گے اور نہ ہی 700 ارب روپے کے ٹیکسز لگائیں گے۔ 

شوکت ترین نے کہا کہ ان کے اپنے نمبرز ہیں کہ ہمارے دور میں جی ڈی پی گروتھ ساڑھے پانچ فیصد ہوئی، عمران خان نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم لوگوں پر بوجھ نہیں ڈالیں گے، انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا کہ پاور ٹیرف پانچ روپے بڑھائیں تو ہم نے جواب دیا کہ سوچیں گے، ہم 6 ماہ آئی ایم ایف کے سامنے کھڑے رہے لیکن موجودہ عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط کے باعث قیمتیں بڑھا رہی ہے۔ 

سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے آئی ایم ایف کی بات مان لی اور اب عالمی مالیاتی ادارے نے انہیں ڈنڈے مارنا شروع کر دئیے، جب تک یہ عوام کے مفاد کیلئے کھڑے نہیں ہوں گے، سب ان کو ڈنڈا ماریں گے، اب مزید مہنگائی شروع ہونے والی ہے۔ 

سینیٹر شوکت ترین نے کہا کہ رواں سال مارچ میں ایک معتبر شخصیت کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ معیشت بڑھ رہی ہے لیکن اگر تسلسل نہیں دیں گے تو معیشت بکھر جائے گی، میرا مطالبہ ہے کہ حکومت استعفیٰ دے اور الیکشن کرائے۔

مصنف کے بارے میں