نام کے ہماری شخصیت پر حیران کن اثر ات، نیا دعویٰ سامنے آگیا

لاہور: کہتے ہیں نام ہماری شخصیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے، مگر کچھ لوگ اس بات سے پر یقین کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ ایسے افراد کیلئے امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دعویٰ سامنے آیاکہ انسانی شخصیت اپنے نام کے مطابق ڈھل جاتی ہے اور یہ ایک حقیقی اثر ہے۔

نام کے ہماری شخصیت پر حیران کن اثر ات، نیا دعویٰ سامنے آگیا

لاہور: کہتے ہیں نام ہماری شخصیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے، مگر کچھ لوگ اس بات سے پر یقین کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ ایسے افراد کیلئے امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دعویٰ سامنے آیاکہ انسانی شخصیت اپنے نام کے مطابق ڈھل جاتی ہے اور یہ ایک حقیقی اثر ہے۔


یہ تحقیق طبی جریدے جرنل آف پرسنلٹی اینڈ سوشل سائیکولوجی میں شائع کی گئی ہے۔ امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کی تحقیق میں بتایا گیا کہ نام کے شخصیت پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اس حوالے سے بہت زیادہ تفصیل بتانا تو ممکن نہیں مگر ایک چیز واضح ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ ثقافتی رواج یعنی نام اور چہرے کے درمیان مماثلت میں تعلق پیدا ہوگیا ہے۔

تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ لوگ کسی شخص کے چہرے کو دیکھ کر حیران کن حد تک درست نام بتا دیتے ہیں۔تحقیق کے مطابق یہ حیران کن ہے کہ ہمارا نام جو کہ دیگر افراد یعنی والدین منتخب کرتے ہیں وہ بھی ہماری شخصیت کے نظرآنے پر اثرانداز ہوتا ہے۔اس تحقیق کے دوران محققین نے فرانس اور اسرائیل میں سینکڑوں رضاکاروں کی خدمات حاصل کیں اور ان کے چہرے دیگر افراد کو دکھا کر پانچ ناموں کی فہرست میں سے ایک نام منتخب کرنے کا کہا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ 40 فیصد نے چہرے کو دیکھ کر درست نام بتا دیا جس میں عمر، نسل اور سماجی حیثیت جیسے عناصر بھی شامل تھے تاہم یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ فرانس میں لوگ اپنے ملک کے باسیوں کے نام تو شناخت کرسکے مگر اسرائیلیوں کے معاملے میں وہ غلط ثابت ہوئے۔ایک اور تجربے میں محققین نے ایک کمپیوٹر الگورتھم بنا کر کمپیوٹر کو 94 ہزار سے زائد چہروں کے نام شناخت کرنے کا موقع دیا جس نے انسانوں سے زیادہ درست شناخت کی۔محققین کا ماننا ہے کہ ثقافتی روایات ممکنہ طور پر کسی فرد کو لاشعوری طور پر اپنی شخصیت کو نام کے مطابق تبدیل کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔تحقیق کے مطابق اگر نام شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے تو یہ دیگر چیزوں پر بھی اثرات مرتب کرتا ہوگا جس کے حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے مگر والدین کو مشورہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے زیادہ بہتر ناموں کا انتخاب کریں اور اس حوالے سے احتیاط سے کام لینا چاہئے۔