ایل ڈی اے میں احد چیمہ کے دور میں بھرتیاں، نیب نے تحقیقات شروع کر دیں

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایل ڈی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ کے دور میں ہونے والی بھرتیوں کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔

 

نیب کی جانب سے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ اب نیب کی جانب سے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ کے دور میں کی گئی بھرتیوں کا ریکارٖڈ بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ نیب حکام نے ایل ڈی اے سے 2012-2013ء میں ہونے والی بھرتیوں کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق احد چیمہ کے دور میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کے عہدے سے لے کر نائب قاصد تک کی 59 غیر قانونی بھرتیاں ہوئیں۔ ان غیر قانونی بھرتیوں میں 7 اسسٹنٹ ڈائریکٹر عہدے کی آسامیاں بھی شامل ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیں: بھارتی وزیر دفاع نے چین، پاکستان کے ساتھ جنگ کا عندیہ دیدیا

میڈیا رپورٹس کے مطابق احد چیمہ نے اپنی ایک قریبی رشتہ دار خاتون کو بھی ایل ڈی اے میں بھرتی کیا اور ان کی رشتہ دار اسسٹنٹ ڈائریکٹر خاتون کو دو کنال کا سرکاری گھر اور کرولا گاڑی سے بھی نوازا گیا۔

احد چیمہ کی جانب سے مبینہ غیر قانونی بھرتیوں میں ان کے ساتھی خالد پرویز کا نام بھی گردش کر رہا ہے۔ احد چیمہ نے سی ای او قائد اعظم تھرمل پاور کمپنی بننے کے بعد خالد پرویز کو نوازا۔ خالد پرویز قائد اعظم تھرمل پاور کمپنی کے جنرل مینجر ہیں۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر قانونی بھرتیوں پر انکوائری جاری ہے جسے جلد مکمل کر لیا جائے گا۔

یہ خبر بھی پڑھیں: وزارت دفاع نے نئے ائیر چیف کے انتخاب کیلئے چار نام بھیج دیئے

 

یاد رہے 21 فروری کو نیب نے نے ایل ڈی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ کو گرفتار کیا تھا جبکہ اگلے روز لاہور کی احتساب عدالت میں احد چیمہ کو جج محمد اعظم کے روبرو پیش کیا گیا اور نیب کی جانب سے ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ احتساب عدالت نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل میں گرفتار لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق سربراہ احد خان کو 11 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں