ہجوم کے سامنے پردہ اٹھتا ہے۔ شیکسپیئر کے ڈرامے ”کنگ لیئر“ کا کردار لیئر سامنے آتا ہے۔ بوڑھے بادشاہ کی کہانی میں ہجوم کے کچھ لوگوں اور خود ”بادشاہ“ کے لیے سبق ہے کہ ”ہمارے ارگرد ہمیشہ ناقابل تشریح قوتیں موجود ہوتی ہیں جو کسی بھی لغزش پر پکڑ کرلیتی ہیں۔اور ”پکڑ“ کی بازگشت میں لیئر کی بیٹی ”کارڈیلیا“ نمودار ہوتی ہے یوں فلیش بیک ختم ہوتا ہے۔ ڈان لیکس کی بازگشت حاوی ہوجاتی ہے، ”کارڈیلیا“ کے عکس میں مریم نواز سامنے آتی ہے ،اور پھر ایک فلیش بیک


دورِ پرویزیہ ہے اور نواز شریف اٹک قلعے میں ۔۔۔ اپنے والد کے لیے انتہائی فکر مندمریم نواز۔۔۔لاہور کے ایک سرمایہ دار گھرانے کی بیٹی اس قدر دلیر اور ہنگامہ خیز بھی ہوسکتی ہے کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا۔ اس وقت اگر ”اسٹیٹس کو“ کی ریسکیو قوتیں سامنے نہ آتیں یعنی سعودی عرب ڈیل نہ کراتا تو شاید یہ امیر زادی بہت کچھ تلپٹ کرنے جارہی تھی۔ یہ ایک مختصر انٹری تھی پھر تو لوگوں کے ذہنوں سے سب کچھ محو ہوگیا۔


پس پردہ اپنے والد کا سایہ بن کر چلنے والی کے کردار سے اردگرد کی عقابی قوتیں خوفزدہ ہونا شروع ہوئیں تو میڈیا میں بھی سرگوشیاں اُبھریں تاہم کردار اسٹیج پر اس وقت آیا جب ”لیکس“ پر شور اُٹھا، پوری دنیا میں ایک ہی نام گونجا مریم نواز ۔۔۔ شیکسپیئر کے شاہکار کنگ لیئر کی ”کارڈیلیا“ وہ بیٹی جو باپ سے بے پناہ محبت کرتی ہے لیکن ساتھ ہی اپنے باپ کے سمجھوتوں پر شکایت کنندہ بھی۔ یہ بھی کہہ دیا کہ ”میرے باپ نوازشریف کو بطور وزیراعظم سمجھوتے نہیں کرنے چاہئیں تھے“ ۔۔۔ ”کارڈیلیا“ کی طرح بہادر۔۔۔ اپنے اندر سمٹی سمٹی۔۔۔ سنبھلی ہوئی۔۔۔ دُھن کی پکی۔۔۔ اپنے اندر اُتری ہوئی۔۔۔ عزم اور محبت کا امتزاج۔۔۔ شخصیت ایسی کہ مخالفوں اور اپنوں دونوں کے لیے متنازع۔۔۔ تنازعات اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ جہاں تک کہ گھر تک چلے آتے ہیں۔ ہٹ دھرم اور خودپرست کہلائی۔ انتہائی مختصر وقت میں ایوانوں میں ہلچل مچائی اور اس دوران ایک جال لندن میں بچھایا گیا۔

دوسرا پردہ اٹھتا ہے ۔۔۔ لندن کا منظر۔۔۔ جے آئی ٹی کے سُپر سکس کے دو سُپر ہیرے نمودار ہیں۔۔۔ ان کا خیال تھا کہ وہ جیسے ہی لندن اتریں گے، لوگ اُمنڈے چلے آئیں گے وہ بھی ہاتھوں میں ثبوت لے کر۔۔۔ لیکن ڈھونڈنے سے بھی ملا تو ایک راجہ اختر ریاض۔ سپر سکس کے کپتان واجد ضیاءکا کزن۔ ڈان لیکس کے بعد مریم نواز کو ”نشان عبرت“ بنانے ےک لیے جال بُنا گیا۔ کیلبری فونٹ اور دستاویزات کے جعلی ہونے کا جال۔ اس کے لیے چُنے گئے مہرے۔ راجہ اختر ریاض تو برطانیہ میں قانونی مشاورت کا اہل ہی نہیں۔ ان کی فرم ”کوئسٹ“ کے اکاؤنٹ میں محض 7ہزار پاؤنڈ ملے جو قانونی فرم کے لیے ناکافی ہیں۔ برطانوی قانون کہتا ہے کہ سائل کا مقدمہ ہارنے والی فرم پر نااہلی ثابت ہونے کی صورت میں سائل کا مالی ازالہ کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے قانونی فرم کے اکاؤنٹ میں فیس سے بڑی رقم موجود ہونا ضروری ہے اور ناصرف یہ بلکہ اس کی انشورنس بھی لازم ہے۔ راجہ اختر ریاض کی فرم اس سے بھی ”محروم“ نکلی۔ نااہل فرم نے فرانزک ماہر رابرٹ ریڈلی کی خدمات لے کر دیں لیکن ان کے ساتھ بھی لین دین کا کوئی تحریری معاہدہ نہ کیا۔ فرانزک ماہر کو تحقیق کے لیے فوٹو کاپی فراہم کی گئیں جو ناقص مواد ہے۔


شیکسپیئر کے دیس کا قانون ”کارڈیلیا“ یعنی مریم کے حق میں ہے۔ قانون کے مطابق معاہدہ کرنے والے وکیل کی گواہی سب سے معتبر اور مقدم ہے۔ ایون فیلڈ فلیٹس کے معاہدہ کرنے والی فرم فری مین باکس کے وکیل نے کاغذات کو اصلی قرار دیا۔ لیکن جے آئی ٹی کے دو سپر ہیروں نے اس گواہی کا ذکر جے آئی ٹی رپورٹ میں کہیں نہیں کیا۔ جائیداد کے منیجر کی گواہی دوسرے نمبر پر مقدم کہلاتی ہے وہ بھی ہوچکی۔ نیب کے ہرکارے ایک عرصہ سے لندن میں ہیں۔ بہت کچھ ڈھونڈا جارہا ہے۔


رابرٹ ریڈلی کی گواہی ڈلوائی گئی تو اسے جرح کا علم نہیں تھا۔ اسے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے عقب میں واقع ایک بڑے ہوٹل میں طوطے کی طرح پڑھایا رٹایا گیا وہ نہ سیکھ سکا اور پھر کیمروں کے سامنے عدالت میں پکڑا گیا۔


یہ سب قانونی موشگافیاں اپنی جگہ پَر کارڈیلیا (مریم) اپنی محبت کو جیت رہی ہے۔ قانون اسے کون سی پکڑ دے یا ”اسٹار والے“ کون سی سز ادلوائیں اس سے بالکل لاتعلق۔ اپنے اندر سمٹی ہوئی اپنی سمت پر واضح۔ تاریخ کے جبر کو سہتے ہوئے بہت کہنہ مشق ہوتی جارہی ہے۔ موت تو اٹل ہے کسی کو چھوڑے گی نہیں۔ لیکن انجام سے بے خبر اپنامشن کو بروئے کار لانا ہی اس کی اصل شناخت ٹھہری۔ وہ تنازع کو بکھیرنا چاہتی ہے۔ شاید اس خیال کے تحت کہ شاید بکھرنے سے کچھ خیر برآمد ہوجائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سب کچھ ہاتھ سے جائے۔ لیکن یاد تو ہمیشہ محبت رکھی جاتی ہے، عزم اور اس سے عشق یاد رہتا ہے۔


تیسرا پردہ اُٹھتا ہے ۔ کھیل جاری ہے۔ مریم (کارڈیلیا) والد کی سچی محبت میں دُھن کی پکی۔ اپنے مشن پر ہے جب کہ کنگ لیئر کے دوسرے کردار اپنے حصوں کی وصولی میں لگے ہوئے ہیں۔ لیئر اپنے ہاتھوں سے حصے بخرے کررہا ہے۔ وقت اور ہجوم منتظر ہے۔ کیا یہ حصے دار ”سلطنت اور اقتدار“ کو برباد کرتے ہیں۔ یا بچا لیتے ہیں بوڑھا بادشاہ (نواز شریف) جب سزا بھگت رہا ہوگا تو مڑ کر کون دیکھے گا۔ مصلحتوں اور اقتدار کی بھول بھلیوں میں کھو جانا کچھ بعید نہیں۔ ایک کے بعد ایک کردار بدلے گا۔ شیکسپیئر کا فلسفیانہ سبق ”زمانے کی اونچ نیچ“ سامنے آئے گی۔ بادشاہ بوڑھا ہے اور لاغر ہوتا جائے گا۔ مڑ کر کون آئے گا۔ کارڈیلیا (مریم) تو آئے گی۔ اب کس حالت میں، اس کا فیصلہ وقت پر ہے۔ ادھر متبادل اسٹیج بھی چل رہا ہے۔ اس کے کردار بھی سامنے ہیں۔ پانچ سال۔ اس سے زیادہ یا کم۔ بہت کچھ سامنے آنا باقی ہے۔ کردار کے نام مختلف ہوں گے۔ انجام بھی مختلف ہوسکتا ہے۔ لیکن اسٹیج اور اس کا رچاؤ وہی دکھا رہا ہوگا جو ایک عرصہ سے ہجوم کی آنکھ دیکھ رہی ہے۔

میاں طاہر

(ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں)