لندن: تین بڑی تنظیموں نے شہزادہ سلمان کے خلاف دھرنا دینے کا اعلان کر دیا

لندن :برطانیہ میں حزب مخالف لیبر پارٹی کے حامیوں اور جنگوں کے خلاف مہم میں پیش پیش تین بڑی تنظیموں نے 8 مارچ کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے برطانیہ کے سرکاری دورہ کے خلاف ٹین  ڈاوننگ اسٹریٹ کے سامنے دھرنا دینے اور مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :-  سعودی شاہ سلمان، شہزادہ متعب اورشہزادہ ولید بن طلال کی جنادریہ میلے میں رقص کی تصاویر وائرل ہو گئیں

سعودی ولی عہد کے خلاف مظاہرہ کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ولی عہد وزیر دفاع کی حیثیت سے یمن میں سعودی اتحاد کی جنگ کے معمار ہیں جس میں پچھلے تین برس میں تیرہ ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور 49 ہزار افراد جن میں زیادہ تر بچے ہیں زخمی ہوئے ہیں، یمن کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی وجہ سےملک میں قحط کی صورت حال ہے جس کی وجہ سے آٹھ لاکھ بچے اور ڈیڑھ لاکھ افراد فاقہ کشی کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :- یمن کی جنگ سعودی عرب، امارات اور ایران کے فائدے میں نہیں، اینتونیو گوتریز

ان تنظیموں میں Stop The War Coalition ،Campaign Against Arms Trade, اور Global Justice Now شامل ہیں ۔ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ یمن کی جنگ اس وقت انسانی تباہی کا سنگین ترین عالمی بحران ہے جس میں برطانیہ نے سعودی عرب کو 6 ارب چالیس کروڑ ڈالر کی مالیت کا اسلحہ فروخت کر کے مجرمانہ کردار ادا کیا ہے۔اس موقع پر برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے نےان الزامات کے باوجود سعودی عرب کے ساتھ برطانیہ کے قریبی تعلقات کا دفاع کیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ سیکورٹی تعلقات کی بدولت برطانوی شہریوں کی جانیں بچی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :- یمن میں جنگ کے بعد ایک اور بڑا خطرہ منڈلانے لگا۔۔!!!

اس کی انہوں نے وضاحت نہیں کی۔ ٹریسا مے نے اس کا بھی ذکر کیا کہ سعودی ولی عہد کی قیادت میں قدامت پسند ملک میں سماجی اور اقتصادی اصلاحات نافذ کی جارہی ہیں ، جن کی برطانیہ حمایت کرتا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد کے دورہ میں ان سے ان اصلاحات کے ساتھ یمن کی صورت حال اور مشرق وسطی میں سیکیورٹی کے مسائل پر تبادلہ خیال ہوگا۔

ٹریسامے نے اس پر زور دیا کہ برطانیہ اور سعودی عرب کے درمیان انٹیلی جنس کے تبادلہ اور اس شعبہ میں تعاون سے دہشت گردی کے مسئلہ سے نبٹنے میں مدد ملی ہے اور اقتصادی تعلقات کی بدولت برطانیہ میں روزگار کے مواقع بڑھے ہیں اور خوشحالی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔