بینا سے بصد احترام

بینا سے بصد احترام

بینا سے پہلا تعارف کراچی یونیورسٹی کے نیو گیسٹ ہائوس میں صبح کے ناشتے پر ہوا تھا۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ تین سال قبل کراچی یونیورسٹی شعبہ اردو کی دعوت پر دنیا بھر سے دو درجن سے زائد مندوبین پانچ روزہ بین الاقوامی’’ صد سالہ سر سید احمد خان یادگاری کانفرنس‘‘میں شرکت کے لیے کراچی پہنچے‘مندوبین کی رہائش کا انتظام کراچی کے مختلف ہوٹلز اور گیسٹ ہائوسز میں کیا گیا تھا،لاہور سے جانے والوں کو یونیورسٹی کے نیو گیسٹ ہائوس میں ٹھہر ا دیا گیا۔فرسٹ فلور کے اکیس نمبر کمرے میں ڈاکٹر ضیاء الحسن اور راقم کو جگہ ملی جبکہ بائیں جانب کے کمرے میں چند خواتین مندوبین کو ٹھہرایا گیا۔رات کے ایک بجے کا وقت تھا‘میں لاہور سے آخری فلائٹ سے کراچی پہنچا تو گیسٹ ہائوس میں خواتین کے پرزور قہقہوں نے میرا استقبال کیا۔میں نے اپنے ایک میزبان سے پوچھا کہ محترم یہ بائیں جانب والے کمرے میں رات کے اس پہر اتنا شور شرابا کیسا؟وہ بولا سر یہاں خواتین کا بسیرا ہے ، یوں میں معاملے کی نزاکت سمجھ گیا۔ہم پہلی صبح ناشتے کی میز پر اکٹھے ہوئے تو رات والے قہقہے دوبارہ گونجے اور یوں میں ساری صورت حال سمجھا کہ اصل قہقہے تو بینا کے تھے‘باقی خواتین کو میں یوں ہی شک کی نظر سے دیکھ رہا تھا۔یہ تعارف اگرچہ اتنا بھر پور نہیں تھا مگر اس واقعے سے یہ تو اندازہ ہو گیا کہ بینا ایک زندہ دل انسان ہے‘یہ زندگی کو اس کے تمام جمالیاتی پہلوئوں کے ساتھ جینے کی قائل ہے۔یہ نہ صرف جینا جانتی ہے بلکہ دوستوں کو بھی زندگی گزارنے کے بجائے جینے کا درس دیتی ہے۔

کانفرنس کے پہلے ہی دن عشایئے کے بعد مندوبین کے اعزاز میں ایک مشاعرے کا اہتمام کیا گیا تھا‘ جہاں بینا کی نظمیں سنیں تو بینا کا بطور شاعرہ تعارف سامنے آیا۔ان کی نظمیں‘ان کے قہقہوں سے زیادہ بھرپور اور زندگی سے لبریز تھیں،کیاہی عمدہ ڈکشن‘موضوعات کا تنوع اور 

خیالات کی ندرت‘یہاں سے بینا گوئندی کچھ اپنی اپنی لگیں۔کانفرنس کے دوسرے روز بینانے سرسید احمد خان پر گفتگو کی تو بینا کا ایک اورچہرہ سامنے آیا یعنی بینا ایک بہترین نقاد بھی ہے، تاریخ کی قاری بھی ہیں اور چشمِ بینا رکھنے والی دور اندیش بھی۔اس کانفرنس کے بعد بینا سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا‘ اکادمی ادبیات پاکستان کی کانفرنس ہو یا ساہیوال کی علمی و ادبی کانفرنس‘ہر جگہ بینا اپنی گفتگو اور مقالوں کی وجہ سے عوام کی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔بلکہ ساہیوال اور فیصل آباد کی کانفرنسوں میں بینا اور میرے مقالوں کے سیشنز اکٹھے تھے۔صاحبانِ صدارت کی جانب سے بینا کے مضمون کوخوب سراہا گیا تھا اور عالمگیریت پر بینا کی دور اندیشی کو الگ سے نمبر دیے تھے۔

یہ تو بینا سے ملاقاتوں کا احوال تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوا ۔ایک ہفتہ قبل جب شاہد رضا نے بینا کی تازہ کتاب ’’بصد احترام‘‘ بھیجی اور مضمون لکھنے کا حکم کیا تو سچ یہ ہے کہ میںکشمکش کا شکار ہو گیا، بینا کو بطور مقالہ نگار دیکھوں، بطور شاعرہ دیکھوں یا بطور دوست، ان کا ہر حوالہ اس قدر مضبوط اور حسن سے بھرپور ہے کہ سب حوالے الگ الگ مضمون کے متقاضی ہیں، کیوں کہ بینا نے زندگی کی جمالیاتی قدروں کو بھی سمجھا ہے اور ثقافتی شناخت کے بیانیے کو بھی سمجھا اور اس پر لکھا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری دوست بینا گوئندی نے شرق و غرب کی تہذیبی و ثقافتی شکست و ریخت کو جس انداز میں سمجھا ہے، ہمارے ہاں خواتین نے ایسا سمجھا اور نہ سوچا۔ان کے مضامین کو پڑھتے ہوئے لطف کا یہ عالم ہوتا ہے کہ یہ تحریریں کہیں مضمون لگتی ہیں تو کہیں انشائیے کا مزا دیتی ہیں‘کچھ تحریریں تو افسانہ بھی معلوم ہوئیں جیسے ’سانولی حسینہ‘، ’دھند ہی دھند‘، ’شاہی موت گاہیں‘ اور ’مٹی کی پیالی‘۔ یہ تحریریں اس قدر خوبصورت ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تحریریں بینا گوئندی کا مستند حوالہ ثابت ہوں گی۔

بینا گوئندی کا مشاہدہ انتہائی وسیع ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بینا ایک طویل عرصے سے امریکہ میں مقیم ہیں، انھوں نے امریکہ سمیت مختلف ملکوں کی سیاحت بھی کی۔ اس میں قطعاً دو رائے نہیں کہ سیاح کا مشاہدہ اور مطالعہ عام آدمی سے یکسر مختلف اور بہتر ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے دورانِ سفر نہ صرف سیر سپاٹے کیے ہوتے ہیں بلکہ وہ جن جن علاقوں سے گزرتا ہے، وہاں کی سیاحت کے ساتھ ساتھ تہذیبی و ثقافتی اور لسانی و سماجی ماحول کا بھی بھرپور مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں جتنے بھی قلم کار، سیاحتی زندگی سے لطف اندوز ہوئے، ان کی تحریروں میں تنوع اور مزاج میں ندرت ہوتی ہے جو ان کو دیگر معاصرین میں ممتاز کرتی ہے۔ بینا گوئندی کا بھی مسئلہ یہی ہے، وہ جہاں سے گزرتی ہیں، کچھ نہ کچھ حاصل کرتی ہوئی گزرتی ہیں، وہ سفر و حضر میں کچھ نیا کرنے اور سوچنے کی جستجو میں رہتی ہیں، اس جستجو سے ہی بینا کو بھرپور حسین و جمیل زندگی ملی۔

یہ چونکہ خود دوستوں کی دوست ہیں لہٰذا یہ ماحول سے بھی دوستی کرنے کا ہنر جانتی ہیں‘ان کے مضامین اس بات کے گواہ ہیں کہ جس ماحول سے گزرتی ہے‘ جس زمانے کی سیر کرتی ہے‘اسے اپنے مضامین میں قید کر لیتی ہیں۔ان کی تحریریں مصور کی وہ تصویریں ہیں جن میں زندگی کے وہ سارے رنگ موجود ہیں جو آج ہے استعماری ماحول میں تربیت پاتے انسان کو سکون کے لیے درکار ہیں۔آپ ’’بصد احترام‘‘کے مضامین تصویریں سمجھ کر اپنی کمرے میں رکھیں‘صبح و شام ان کا مطالعہ کریں اور آپ خود محسوس کریں گے کہ آپ کی زندگی کی کھوئی ہوئی جمالیاتی قدریں واپس آ گئی ہیں اور آپ دوبارہ زندگی گزارنے کے بجائے زندگی جینے لگے ہیں۔میں اپنی اس دوست کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے ایسی متنوع اور زندگی سے بھرپور تحریریں لکھ کر ہم سب پر احسان کیا ہے۔

مصنف کے بارے میں