سیاسی جنگ اور معاشی بحران

سیاسی جنگ اور معاشی بحران

پورا ملک سیاسی افراتفری کی لپیٹ میں ہے پاکستان ایک زبردست معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے پاکستان بیورو آف شماریات کے نئے اعداد و شمار حوصلہ افزا نہیں ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی سے مارچ تک کے نو ماہ کے عرصے میں ملک کا تجارتی خسارہ 70 فیصد تک بڑھ کر 35.4 بلین ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، جس کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کا قرضہ زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر دو ماہ کے درآمدہ سطح تک پہنچ جائیں گے۔  یہ برآمدات میں تقریباً 25 فیصد اضافے کے باوجود ہے، جس کا اثر درآمدات میں تقریباً 49 فیصد اضافے سے ختم ہو جاتا ہے۔ یہ مسائل عالمی توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہے - بڑھتی ہوئی مہنگائی روس اور یوکرین جنگ کی وجہ سے سپلائی میں رکاوٹ کا نتیجہ۔  تازہ ترین تجارتی ڈیٹا اس بات کی نشاندھی کرتا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مارچ میں بڑھ کر 13 بلین ڈالر ہو سکتا ہے، جو پچھلے مہینے میں ریکارڈ کئے گئے 12 بلین ڈالر سے تھا۔ 2022 میں پاکستان کے کل قرضے 127 بلین ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور مقتدر اشرافیہ اقتدار اور عیش و عشرت کے نشے میں مست ہے اسے کوئی فکر نہیں کہ پاکستان کے قرضے کون اتارے گا۔ تجارتی اور بیرونی کھاتوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت اور مرکزی بینک کی جانب سے پچھلے چھ مہینوں میں دوہری تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات زیادہ تر ناکام رہے ہیں۔ ان اقدامات میں سود کی شرح میں نمایاں اضافہ، اشیا کی درآمد کے لیے بھاری نقد مارجن کی ضرورت کا تعارف، اور صارفین کی مالی اعانت میں کمی شامل ہے۔

سابق وزیر اعظم عمران خان کا بیانیہ کہ اپوزیشن کی مدد سے انہیں گرانے کی سازش کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے، آئی ایم ایف کے اپنے فنڈنگ پروگرام کو روکنے کے فیصلے کے پیچھے ایک بڑی وجہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔  درحقیقت، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ طے شدہ غیر ملکی قرضوں اور دیگر ادائیگیوں کی وجہ سے 11 بلین ڈالر کے کمزور اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مزید  اگر 'دوستانہ' ممالک کی جانب سے فوری بین الاقوامی 'مدد' جلد نہ آئی تو ملک کو ممکنہ ڈیفالٹ کے دہانے پر دھکیل دیا جائے گا۔  تیزی سے کمزور ہوتی ملکی کرنسی آنے والی چیزوں کی شکل کی صرف ایک علامت ہے۔  موجودہ سیاسی حالات میں معیشت کی بحالی، بیرونی کھاتہ کے استحکام اور غیر ملکی قرض دہندگان سے اپنی فنڈنگ دوبارہ شروع کرنے کی توقع رکھنا حماقت ہے۔ معاشی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ شہباز شریف پاکستان کی معیشت کو بہتر کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن موجودہ ملک کی صورتحال میں معاشی حالات بہتر ہونے کی امید نہیں ہے، کیونکہ معاشی حالات کا گہرا تعلق سیاسی استحکام سے ہے جو ملک میں نظر نہیں آ رہا۔ ملک سیاسی عدم استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے پاکستان کی معیشت پر بہت برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے جلسوں سے اس بات کا اشارہ مل رہا ہے کہ نئی بننے والی حکومت بھی اس کے خلاف ردعمل دے گی۔ پی ٹی آئی کے احتجاج اور جلسے حکومت روکنے کی کوشش کریں گے جس سے کشیدگی بڑھے گی اور پھر ان حالات میں کوئی سرمایہ کار اپنا پیسہ نہیں لگائے گا۔ جب ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہوگی تو معاشی حالات میں میں بہتری نہیں ہوگی چاہے شہباز شریف صاحب جتنی کوشش کریں۔ عمران خان کراچی اور لاہور جلسہ کے بعد اسلام آباد مارچ کرنے جا رہے ہیں جس سے پاکستان میں حالات مزید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو نگے۔ ''سیاست اور معیشت کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا اگر ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوگا تو کوئی اپنا سرمایہ لگانے کو تیار نہیں ہوگا۔

پاکستان کے سیاسی رسہ گیروں نے مل کر جو پاکستان کی معیشت کی تباہی کا سبب بنے، جس کی مماثلت پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں پائیں گئیں۔

تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی کا راستہ ہوتی ہے لیکن تینوں پارٹیز نے اس شعبے پر توجہ نہیں دی یہ ہی وجہ ہے آج 2 کروڑ پچیس لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ غریب کا بچہ کھیل کی عمر میں مزدوری کرنے پر مجبور ہے۔

غربت کا نعرہ تو سب نے لگایا لیکن ان تینوں کے ادوار میں غریب، غریب سے غریب تر ہوتا چلا گیا آج 7کروڑ 60 لاکھ لوگ سطح غربت سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق 40 فیصد گھرانوں میں شدید نوعیت کی غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ حکومت نے سال 19ء-2018ء کے غربت کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ 2016ء میں ملک میں غربت 24.3 فیصد تھی جو قبل از کورونا یعنی مالی سال 2019ء میں 21.9 فیصد ہوگئی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں کورونا سے قبل تقریباً آدھی آبادی کو ملازمت ختم ہونے اور آمدنی میں تخفیف کا سامنا ہے۔

تینوں ادوار میں سودی معیشت پر انحصار کیا گیا جس کا نتیجہ ہے 2022 میں پاکستان 51 ٹریلین روپے کا مقروض ہے

ہر بلاول ہے دیس کا مقروض

پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے

پاکستان ہر آئے دن کرپشن میں ترقی کر رہا ہے جس کا نتیجہ ہے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دنیا کے 180 ممالک میں بدعنوانیاں کے بارے میں 2022 میں سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی تین پوائنٹس کم ہونے کے بعد 124 سے گِر کر 140 تک پہنچ گئی ہے۔ اور اس کرپشن کے ذمہ دار تینوں عمران خان، آصف علی زرداری اور شریف برادران ہیں۔ ان کے ممبران قومی اسمبلی کی تعریف شاعر نے کیا خوب کی ہے

چھوٹی سی خواہش

ساڈے جو ارادے تھے

کڈے سدھے سادھے تھے

ہم نے سو چ رکھا تھا

بن کے ایک دن ممبر

اکو کام کرنا ہے

ایک دو پلازوں کو

چار چھے پلا ٹوں کو

پنجی تیہہ مربعوں کو

اپنے نام کرنا ہے

شکر اے خداوندا

تو نے اس نمانے کی

نِکی جِنی خواہش کو

سن لیا ہے نیڑے سے

(خالد مسعود )

البتہ مہنگائی تو تینوں کے ادوار میں ہوئی لیکن سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں مہنگائی 10 سال کی بلند ترین سطح پر رہی۔ جو 13فیصد کے قریب ہے۔

وزیراعظم اور اپوزیشن کو چاہئے اپنے مفادات کے بجائے ملکی مفادات کو ترجیح دیں، مل کر اپنی اور اداروں کی کرپشن کو روکیں جس سے 3 سو گنا وطن عزیز کی آمدن میں اضافہ ہوجائے گا، سیاسی جنگ کے بجائے افہام وتفہیم سے مسائل کو حل کریں۔ پہلے سڑکوں پر وزیر اعظم شہباز شریف ان کے ساتھ آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن تھے تینوں کے اوپر کرپشن کے الزامات، دلائل اور ثبوت کے ساتھ موجود ہیں دوسری طرف آج عمران خان صاحب کرپٹ ٹولے کی قیادت کرتے ہوئے سڑکوں پر نظر آرہے ہیں۔ جس کا نتیجہ معاشی تباہی ہوگا۔ اور معاشی تباہی کا نتیجہ سری لنکا کی طرح ہوگا۔

مصنف کے بارے میں