پرویز صالح کی تجویز اور فتنہ عمرانیہ

پرویز صالح کی تجویز اور فتنہ عمرانیہ

سب سے پہلے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے بات کرتے ہیں جناب پرویز صالح کا فون آیا انہوں نے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حکومت کو تجویز دی۔ پیپلز پارٹی کے سابقہ سینٹرل کمیٹی کے رکن، ایم آر ڈی کے مرکزی کنوینر محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے سپیشل ایڈوائز، رکن ائنانس کمیشن، چیئرمین لیٹریسی کمیشن پاکستان جناب پرویز صالح جو ضیا الحق کے مارشل لاء دور میں 12 دفعہ زائد جیل، شاہی قلعہ، 4 مرتبہ گھر پہ نظر بند رہے، ذاتی جائیداد عوامی جمہوریہ حق پر خرچ کی اور جمہوریت کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں سے اگلے روز فون پر بات ہوئی انتخابی اصلاحات کے حوالے سے کہنے لگے کہ چونکہ موجودہ حکومت انتخابی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے اور اسے اپنی اولین ترجیحات میں سے ایک قرار دیتے ہیں، لہٰذا میں نہ صرف برسراقتدار حکومت کو بلکہ پوری اپوزیشن کوایک انتہائی اہم تجویز دینا چاہوں گا جس سے وہ بہ احسن طریقے سے اس مشکل صورتحال سے نمٹ سکے۔ ایک بات جو بہت اہم ہے اور جسے ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے وہ یہ کہ NA/PA کے انتخابات، اور یہاں تک کہ لوکل باڈیز کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کروڑوں یا اربوں لگانے کی قطعاً ضرورت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ پیسے کے استعمال نے کم از کم 95 فیصد آبادی بشمول درمیانی طبقے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی عملی طور پر الیکشن لڑنے سے محروم کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ انتخابات میں پیسے کے بے دریغ استعمال اور مہنگے انتخابی عمل کی وجہ سے اعلیٰ طبقے کے ایماندار اور دیانتدار لوگ بھی اس میں شامل ہونے سے محروم رہتے ہیں۔ یہاں یہ پوچھنا انتہائی معقول ہو سکتا ہے کہ قانونی طور پر محنت کی کمائی والا ایماندار شخص انتخابی مہم پر اتنا خرچ کیوں کرے؟ لہٰذا یہ سمجھنا اور یہ نتیجہ اخذ کرنا کافی حد تک منطقی ہے کہ صرف وہی لوگ انتخابات میں بطور ایم این اے یا ایم پی اے یا حتیٰ کہ کونسلر کے طور پر حصہ لیں گے جو اقتدار میں آکر یا جیت حاصل کر کے اپنی آمدنی متعدد بار (multiply) بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس طرح انتخابی عمل نے ہمارے ہاں جمہوریت کو اک فریب بنا کر رکھ دیا ہے۔تاکہ ان چند افراد کی ہر حکومت اور اسمبلیوں میں اجارہ داری برقرار رہے۔ ہماری جمہوریت کو حقیقی رنگ/شکل دینے کے لیے، پیسے کے اتنے زیادہ استعمال پر کڑی نگاہ رکھیں اور قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جائے اور اس بات پر توجہ مرکوز کریں کہ کہیں کوئی قانون شکنی تو نہیں کر رہا۔ علاوہ ازیں نمائندوں کو آمادہ کیا جائے، اور آگاہ کیا جائے کہ کوئی بھی سرکاری اور مقرر کردہ حد سے تجاوز نہ کرسکے، جبکہ دوسری طرف شہری و دیہی حلقوں میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انتخابی اصلاحات میں کرپشن اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے نااہلی اور عبرتناک سزاؤں کا اطلاق بھی لازمی ہو‘‘۔

اب آتے ہیں، بقول محترمہ مریم نواز ’’فتنہ عمرانیہ‘‘ کچل دینا چاہیے۔ ان کی مراد یہ ہے کہ جو نظریہ جہالت، جھوٹ، دھوکہ دہی، الزام تراشی، دشنام طرازی، خود ستائشی، خود فریبی پر مبنی ہو۔ اس کو جمہوری نظریات کے ذریعے کچلنا ہو گا۔ جتنا غم اور غصہ عمران خان اور ان کے فالوورز میں پایا جاتا ہے اتنا غصہ تو حقیقی طور پر منتخب حکومتوں کے ٹوٹنے پر سابقہ ادوار میں نہیں ہوا۔ کیا عمران خان کو علم نہیں کہ جنرل حمید گل سے اب تک یہ کس کس کی مدد سے اقتدار میں آئے۔ ق لیگ اور پیپلز پارٹی، ن لیگ، آزاد ارکین کو زور زبردستی پی ٹی آئی کا حصہ بنایا گیا۔ کرپشن کے بیانیے سے آنے والے کے دور میں 

2018 میں جب نوازشریف اقتدار چھوڑ کر گئے کرپشن کی ریٹنگ میں پاکستان 117 ویں نمبر پر تھا، 2022 میں 140ویں نمبر پر ہے۔ مالیاتی کارکردگی کے حوالے سے صورت حال بدترین نہیں تباہ کن تھی۔ شہبازشریف کہتے ہیں ہمیں بربادی کا اندازہ تھا مگر اس قدر بربادی کا سوچا نہیں تھا جس قدر یہ بربادی کر کے گئے ہیں۔ عمران خان Post truth politics یعنی احساسات، ذاتی رائے کو حقائق سے زیادہ اہمیت دیتا اور لوگوں میں پائے جانے والے جذبات سے کھیلنا Populist politics کرتے ہیں یعنی عوام میں پائے جانے اضطراب، مطالبات، ضروریات کو ابھارنا اور ان کے حل کے لیے خیالی قلعے تعمیر کرنا۔ عمران حکومت کے خاتمے کے چند آئین، قانون، اخلاقیات سے روگردانی کرنے والے واقعات کا لامتناہی سلسلہ دوسری قوموں کی زندگی میں صدیوں بعد بھی دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ قریب ترین ہٹلر کی مثال دی جاتی ہے جس نے بل پیش ہونے پر مسترد کر دیا اور نازی پارٹی حکومت قائم کر دی گئی۔ چند باتیں قابل غور ہیں کہ اسد قیصر استعفیٰ دیتے وقت فرماتے ہیں کہ عمران کی میری دوستی 30 سالہ ہے میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا۔ اس کا مطلب ہے کہ اسد قیصر نے جو ایک میں گھنٹے کے اندر درجنوں بل منظور کیے ایک جانبدار سپیکر کی طرف سے ووٹنگ پر دی گئی تمہاری رولنگ جانبدار تھی جبکہ آئین اسد قیصر کو غیر جانبدار دیکھنا چاہتا ہے۔ اسد قیصر کے اس ایک بیان پر اس کی تمام رولنگز جانبداری کی وجہ سے ایک قلم سے عدالت عظمیٰ فارغ کر سکتی ہے۔ صدر اور گورنر کو آئینی استثنیٰ حاصل ہے کہ ان کو دوران عہدہ عدالت نہیں بلایا جا سکتا اگر یہ آئین سے ہی انحراف کریں تو پھر عدالت فیصلہ کرے گی کہ ان کا مستقبل کیا ہے؟ عمران خان کے فالوورز اس نظریے پر یقین رکھتے ہیں کہ King can not do wrong یعنی اللہ نے بادشاہ کو اختیار دے دیا کہ وہ غلطی نہیں کر سکتا۔ مسجد نبوی میں بے ادبی، بدتمیزی اور بے حرمتی خان صاحب مخالفین کے اعمال کا نتیجہ قرار دیتے ہیں تو پھر نتیجہ تو یہ ہے کہ بے حرمتی کرنے والے دنیا بھر میں ذلیل ہوئے اور ان کے مخالفین کے لیے روضہ رسولؐ اور خانہ کعبہ کے دروازے کھل گئے۔ مجھ ایسے گناہگار کو یہ سعادت نصیب ہو جائے تو میں اس کے بدلے میں ہزار زندگیاں قربان کر دوں۔ 27 کی رات کو مولوی طارق جمیل کی موجودگی میں عمران خان کا ایک حامی تقریر کرتا ہے کہ اگر عمران خان کی قدر کی جائے تو شب قدر کی ضرورت نہیں۔ نعوذ باللہ۔ آقا کریمؐ کے وقت میں صحابہؓ شب قدر کی فضیلت پر سوال کرتے اور حصول شب قدر کے لیے طاق راتوں میں عبادت کرتے، بھلا جن کو رسولؐ کی صحبت اور ان کی حیات طیبہ کے دوران ان فضاؤں میں سانس لینا نصیب ہوا پھر قرآن میں سورۃ مبارکہ نازل ہو جائے۔ ان کو تو شب قدر کی تڑپ رہی، عمران کی قدر کرنے والوں کو شب قدر کی ضروت نہیں۔ نہ جانے ان کی موجودگی میں مجھے مسجد ضرار کے کردار کیوں یاد آتے ہیں۔ عمران خان کے فالوورزایک جوشیلے فرقے کے طور پر عمل و رد عمل کرتے ہیں۔ ان کے سوچنے کی حس ساقط ہو چکی۔ رہی بات اوریا مقبول جان، مولوی طارق جمیل ایسے لوگوں کی ہم نے تو عاشقان رسول سنے اور دیکھے ان کے بدن کے کپڑے خستہ، پیٹ خالی، نیند تھوڑی، دنیا سے رغبت نہ ہونے کے برابر اور یہ نئے عاشقان رسول دیکھے کوئی ارب پتی سے کم نہیں۔ عشق رسولؐ ان کا کاروبار بن کر رہ گیا ہے۔ قیمتی گاڑیاں، درجنوں خادمین، امپورٹڈ ہیئر کلر واہ رے واہ اور اس میں اگر زاہد حامد کا تڑکہ لگا لیں جو بادل برسنے، کسی کے ہاں بچی بچہ پیدا ہونے یا نہ پیدا ہونے کو بھی امریکی سازش سمجھتا ہے تو پھر ہماری قوم کا مستقبل کیا ہو گا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ عمران خان کی خود ستائشی کا اندازہ لگائیں کہ فرماتے ہیں جس طرح اللہ کا پیغام پیغمبر لوگوں میں لے کر جاتے تھے آپ بھی میرا پیغام لوگوں تک پہنچائیں، استغفراللہ۔ ان کے مذہبی حوالے، سیاسی حوالے سے بیانات، سوشل میڈیا پر موجود ہیں، ذرا سن لیں۔ ان کی تو جماعت ہی سوشل میڈیا کی پیداوار ہے۔ نوازشریف کے خلاف فیصلے دینے والی عدلیہ نے آئینی فیصلے دیئے تو عدلیہ بُری لگنے لگ گئی۔ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کی کردار کشی شروع کر دی۔ شہباز گل، شہزاد اکبر اور فرح گوگی ملک چھوڑ گئے۔ فرح کے لیے این آر او سے انکار کے بدلے میں ملک میں انارکی اور خانہ جنگی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ سیانے اتنے کہ چاند رات کی کال دی ہے جب شہر تو شہر دیہات میں بھی لوگ سڑکوں پر ہوتے ہیں۔ عمران خان نوجوانوں کو پکارتے ہیں نوجوان کہلانے کے لیے کئی بابے بھی ساتھ ہو لیتے ہیں حالانکہ ان کی پورے ملک کے نوجوانوں میں جتنی فالوونگ ہے صرف لاہور میں نوازشریف کے کئی گنا زیادہ فالوورز ہیں۔ سندھ، جنوبی پنجاب میں بلاول بھٹو کے فالوورز ہیں۔ دراصل اس کے فالوورز بدتمیزی، گالی، دشنام طرازی، ڈھٹائی، بے ہودگی کی وجہ سے پہچانے جاتے اور نمایاں ہوتے ہیں لہٰذا اس کو محترمہ مریم نواز نے عمرانی فتنہ قرار دیا۔ ایسے فتنے چاہے کسی بھی صورت ہوں آئین کی بالادستی اور قانون کی عملداری سے کچلے جائیں تو بہتر ہے۔

مصنف کے بارے میں