دھند کے باعث 13سے زائد گاڑیوں میں تصادم، 16 افراد جاں بحق

دھند کے باعث 13سے زائد گاڑیوں میں تصادم، 16 افراد جاں بحق

پنڈی بھٹیاں: موٹروے پر13سے زائد گاڑیوں دھند کی وجہ سے ایک دوسرے سے ٹکرانے کے نتیجہ میں وجہ دو حقیقی بھائیوں سمیت کم از کم 16 زائرین جاں بحق ہوگئے اور 146 افراد زخمی ہوگئے جن میں سے 15کی حالت تشویشناک ہے، ریسکیو آپریشن میں تاخیر کی وجہ سے مبینہ طو رپر ہلاکتیں زیادہ ہوئیں، گورنر پنجاب اور وزیر اعلیٰ کا اظہار افسوس جبکہ علاج معالجے کی بہترین سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت کردی۔


مبینہ طو رپر نوشہرہ، اکورہ خٹک اور پشاور سے تین بسوں پر 146 سے زائد زائرین رائےونڈ تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لئے جا رہے تھے جب ان کی بسیںصبح ساڑھے چھ بجے سکھیکی سروس ایریا کے قیرب پہنچیں تو موٹر وے پر پہلے سے کھڑے دو ٹرکوں سے شدید دھند اور تیز رفتاری کی وجہ سے یکے بعد دیگرے ٹکرا گئیں اور اسی دوران مزید دس سے زائد گاڑیاں مزید آ ٹکرائیں، جس کے نتیجہ میں دو افراد فوری طور پر جاں بحق ہو گئے۔

دو سے اڑھائی گھنٹے تک زخمیوں کے بے یار ومدد گار موٹر وے پڑھے رہنے کی وجہ سے موقعہ پر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 9ہو گئی، ریسیکو 1122 اورموٹر وے پولیس اور محکمہ صحت کی ٹیموں نے زخمیوں اور جاں بحق ہونے والوں کی نعشیں تحصیل ہیڈ کوراٹر پندی بھٹیاں، ٹراما سنٹر حافظ آباداور دوسرے ہسپتالوں میں پہنچایا۔

پنڈی بھٹیاں ہسپتال میں دو افراد جبکہ دو افراد الائیڈ ہسپتال فیصل آباد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے،جاں بحق ہونے والوں میں دو حقیقی بھائی میر واظ اور صفدر شامل ہیں جو کہ اکوڑہ خٹک کے رہائشی تھے، دیگر جان بحق ہونے والوں میں حامد، مختار، خوشنود، زرتاج، عامر، ابرار اور مروت شامل ہیں۔

چار افراد کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی، زخمیوں میں عمر حیات، سعید، وکالت خان، نیاز احمد، بیدار خان، محمد نواز، ذاکر شرافت وغیرہ شامل ہیں جن کا تعلق اکوڑہ خٹک ، پشاور اور نوشہرہ سے ہے، گورنر پنجاب محمد رفیق رجوانہ اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد نواز شریف نے اس حادثے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے ہمدردری کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ جاں بحق ہونے والے افراد کی نعشیں سرکاری خرچ پر ان کی نعشیں ان کے گھروں میں پہنچائی جائیں اور زخمیوں کاعلاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں، وزیر اعلیٰ کے حکم پرڈی سی او حافظ آبادمحمد علی رندھاوا اور ڈی پی او حافظ آباد غیاث گل نے جائے حادثہ پر پہنچ کر اپنی نگرانی میں امدادی کام کی نگرانی کی اور بعد زاں ٹرام سنٹر میں زخمیوں کی عیادت کی۔ حادثہ کی اطلاع ملتے ہی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافظ کرک ے تمام ڈاکٹروں اور عملے کو ہسپتا لوں میں بلا لیا گیا تھا۔

نیوویب ڈیسک< News Source