روبوٹ "صوفیا " کو سعودی عرب میں حجاب نہ کرنا مہنگا پڑ گیا

سعودی شہریت حاصل کرنےوالی روبوٹ " صوفیا " کی ایسی شرمناک حرکت جس نے سعودی خواتین کو آگ بگولا کر دیا

اسلام آباد: یہ تو سب کو معلوم ہے کہ گزشتہ ہفتے سعودی عرب میں دنیا کی پہلی روبوٹ خاتون کو شہریت دے دی گئی۔ صوفیہ نامی اس روبوٹ کو کسی ملک کی شہریت ملنا ایک تاریخی واقعہ قرار دیا جا رہاہے، لیکن سعودی خواتین صوفیہ سے بہت ناخوش نظر آ رہی ہیں۔
برسبن ٹائمز کے مطابق سعودی سوشل میڈیا پر خواتین صوفیہ کے بارے میں اپنی سخت آراءکا اظہار کر رہی ہیں، جن میں سرفہرست یہ اعتراض ہے کہ وہ خاتون ہونے کے باوجود حجاب کی بندش سے آزاد کیوں ہے۔ سعودی خواتین کا کہنا ہے کہ ان کے لئے تو حجاب کی بھی پابندی ہے اور وہ مرد نگہبان کے بغیر اپنی زندگی کا کوئی بھی اہم فیصلہ نہیں کر سکتی ہیں، لیکن اس کے برعکس روبوٹ خاتون سب پابندیوں سے آزاد ہے۔
تنقید کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ روبوٹ ہی سہی، لیکن صوفیہ کو خاتون تو قرار دیا گیا ہے اور اسے سعودی شہریت بھی ایک خاتون کے طور پر دی گئی ہے، تو پھر اس پر دیگر خواتین جیسی پابندیاں کیوں نہیں ہے۔ اکثر خواتین نے صوفیہ کی بے پردگی کو انتہائی قابل اعتراض حرکت قرار دے کر اپنی برہمی کا اظہار کیا ہے۔ کچھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر صوفیہ روبوٹ کو ایسی آزادی حاصل ہے تو پھر عام سعودی خواتین کو یہ حقوق دینے میں کیا رکاوٹ ہے۔