سعودی خواتین ”دباب“ چلا سکتی ہیں مگر موٹر سائیکل نہیں ،یہ دباب ہے کیا؟

سعودی خواتین ”دباب“ چلا سکتی ہیں مگر موٹر سائیکل نہیں ،یہ دباب ہے کیا؟

ریاض: سعودی محکمہ ٹریفک نے واضح کیا ہے کہ خواتین "دباب"(چار پہیوں والی اسکوٹی)چلا سکتی ہیں۔

البتہ موٹرسائیکل پر بیٹھنا اور چلانا ممنوع ہے۔ محکمہ ٹریفک نے یہ فیصلہ کن بیان سعودی معاشرے میں کئی روز سے جاری اس بحث کو سمیٹنے کے لئے کیا ہے۔ جس میں کہا جا رہا تھا کہ کیا خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس دیئے جانے کے بعد انہیں دباب چلانے کی بھی اجازت ہو گئی ہے یا نہیں۔ بعض لوگ کہہ رہے تھے کہ انہیں اس کی اجازت نہیں۔ دیگر دعویٰ کر رہے تھے کہ گاڑی چلانے کی اجازت کے بعد دباب کی اجازت خود بخود حاصل ہوگئی ہے۔ محکمہ ٹریفک نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چار پہیوں والی اسکوٹی تفریحی مقامات پر چلائی جاتی ہے۔

سعودی معاشرے میں یہ دباب کے نام سے معروف ہے۔ خواتین اپنے محرم کی موجودگی میں پروقار لباس زیب تن کر کے ہی اسے چلانے کی مجاز ہوں گی۔ دباب چلاتے وقت عبایہ اتارنے کی مجاز نہیں ہوں گی۔ خواتین موٹرسائیکل اور دباب کو مستقل ٹرانسپورٹ کا وسیلہ بنانے کی مجاز نہیں۔ دباب صرف اہل خانہ کی رفاقت میں تفریحی وسیلے کے طور پر استعمال کر سکتی ہیں۔

محکمہ ٹریفک کے ترجمان کرنل طارق الربیعان نے کہا کہ ابھی تک خواتین کو موٹرسائیکل چلانے کی اجازت نہیں۔ وہ موٹرسائیکل پر سفر کی بھی مجاز نہیں۔ اس حوالے سے محکمہ ٹریفک کو نئی ہدایت نہیں ملی ہے۔