لاہور: میڈیا رپورٹس کے مطابق موٹر بائیک ایمبولینس سروس منصوبے میں مزید گھپلوں کا انکشاف ہوا ہے۔ موٹر بائیک ایمبولینس سروس کیلئے سافٹ ویئر انتہائی مہنگے داموں خریدا گیا ایک ہی سافٹ ویئر کو مختلف اضلاع کے لیے سو بار خریدا گیا جبکہ سافٹ وئیر کی مد میں 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں اور ایمبولینس سروس کی مانیٹرنگ کیلئے منگوائی گئی ویڈیو وال بھی جواب دے گئی۔

ذرائع کے مطابق جاپانی کمپنی کی خریدی گئی ویڈیو وال چین کی کمپنیز کی نکلی جبکہ ویڈیو وال کے کچھ پرزے ایک ماہ بعد ہی کام کرنا چھوڑ گئے۔ ویڈیو وال ایک کروڑ 14 لاکھ روپے میں خریدی گئی۔

دوسری طرف ایمبولینس سروس میں خورد برد کے انکشافات پر بنائی گئی کمیٹی نے تحقیقات سے انکار کر دیا ہے اور اعلیٰ حکام نے گھپلوں کی تحقیقات وزیر اعلیٰ انسپکشن ٹیم سے کرانے کی تجویز دی ہے۔

 

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں