قاہرہ: مصرمیں ایک رکن پارلیمنٹ کی جانب سے بیٹی کی خاطرجامعہ کی ایک خاتون سیکیورٹی اہلکار کو تھپڑ مارنے کے بعد اس کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق رکن پارلیمنٹ کی اس نازیبا حرکت پر عوام الناس میں سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب مصری وزیر تعلیم نے رکن پارلیمان کے خلاف فوری قانونی کارروائی کرنے اور معاملہ اسپیکر کے سامنے اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد عبدالغفار نے ایک بیان میں کہا کہ ایک رکن پارلیمان کو کسی خاتون پر تشدد زیب نہیں دیتا۔ اگر انہوں نے خاتون اہلکار کے منہ پر تھپڑ مارا ہے تو یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ اس معاملے کی پوری انکوائری ہونی چاہیے اور اسپیکر کو رکن پارلیمان کا احتساب کرنا چاہیے۔
جامعہ الفیوم کے چیئرمین ڈاکٹر خالد حمزہ نے واقعے کی مکمل رپورٹ وزیرتعلیم ڈاکٹر خالد عبدالغفار کے سامنے پیش کردی ہے۔انہوں نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ رکن پارلیمنٹ منجود الھواری کی بیٹی ایک دوسری نامعلوم لڑکی کے ہمراہ جامعہ میں داخل ہونا چاہتی تھی مگر ان کے پاس ضروری شناختی دستاویزات نہیں تھیں جس پر سیکیورٹی عملے نے انہیں روکا۔ اس پر دونوں طالبات اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تو تکار شروع ہوگئی۔ لڑکی نے اپنے والد کو مدد کے لیے طلب کرلیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے رکن پارلیمنٹ منجود الھواری تیزی کے ساتھ یونیورسٹی کے گیٹ سے اندر داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے کہ اس دوران ایک طالب علم ان کی گاڑی سے تلے آنے سے بال بال بچا۔ اس موقع پر کئی دوسرے طلباءبھی جمع ہو گئے۔ الھواری نے خاتون سپر وائزر کو تھپڑ مارا تو طلباءمشتعل ہوگئے اور انہوں نے رکن پارلیمنٹ کی گاڑی پر حملہ کردیا۔