ملک کی مشہور سیلولر کمپنی کو بغیر بتائے صارف کی سم بند کرنا مہنگا پڑ گیا

لاہور :مقامی عدالت نے بغیر انتباہ صارف کی سم بند کرنے پر سیلولر کمپنی کو 10لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کردیا۔
لاہور بار ایسوسی ایشن کے سابق فنانس سیکریٹری ایڈووکیٹ سید فرید الحق چشتی نے یوفون کے خلاف درخواست دائر کی تھی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ جب وہ 2014میں دبئی میں تھے تو ان کی سم کو بند کردیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ سم بند ہوجانے کے باعث ان کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان اٹھانے کے ساتھ ساتھ ذہنی پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔
عدالت کی کارروائی کے دوران مدعی ایڈووکیٹ سید فرید الحق چشتی کے وکیل شعیب سلیم نے موقف اختیار کیا کہ سیلولر کمپنی نے سم بند کرنے سے قبل مدعی کو آگاہ نہیں کیا جس کے باعث مدعی کا پانچ روز تک عوام سے رابطہ نہیں ہوا اور انہیں 1 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
کمپنی نے موقف اختیار کیا کہ مدعی کی سم زیادہ پیغامات بھیجنے کے باعث بند ہوئی، انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی( پی ٹی اے) کے قوانین کے مطابق ایک ساتھ اتنے زیادہ پیغامات کرنا منع ہے جس کے باعث صارف کا نمبر اسپیمنگ میں شامل ہوجاتا ہے جبکہ مدعی نے 30 مئی 2014 کو 4406 اور 27 جون 2014 کو 4578 پیغامات بھیجے تھے۔
مدعی نے دعویٰ کیا کہ اس کا ایک کروڑ 35 لاکھ روپے نقصان ہوا ہے تاہم عدالت نے ثبوت ناکافی ہونے پر اسے ماننے سے انکار کردیا۔اس موقع پر مقامی عدالت کے جج اعجاز احمد امتیاز نے ریمارکس دیئے کہ مدعی کا کنیکشن سیلولر کمپنی کی جانب سے بغیر کسی قابل اعتراض جواز کے بند کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اگر مدعی نے اسپیمنگ کی تھی یا ایک دن میں 3 ہزار سے زائد ایس ایم ایس بھیجے تھے تو کمپنی کو مدعی کی کال کرنے کی سہولت بند کرنے کا حق تھا۔