لاہور ہائیکورٹ میں انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 چیلنج

 لاہور ہائیکورٹ میں انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 چیلنج

لاہور :  انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔


عوامی تحریک کی جانب سے اشتیاق چوہدری ایڈووکیٹ نے لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی ہے۔ درخواست گزار نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا ہے کہ انتخابی اصلاحات میں ترمیم کا نیا قانون آئین کے بنیادی ڈھانچے اور اس کی روح کے منافی ہے، انتخابی اصلاحات میں بد نیتی کا عنصر شامل نہیں ہونا چاہیے. انتخابی اصلاحات صرف ایک جماعت کے سابق سربراہ کیلئے کی جا رہی ہیں اس لیے اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

یاد رہے کہ انتخابی اصلاحات کا بل سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی میں بھی منظور ہو گیا ہے اور اس پر صدر مملکت نے دستخط کر دیئے ہیں ۔انتخابی اصلاحات کا بل اب باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔اس ایکٹ کو منظور کروانے کا مقصد یہ تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو دوبارہ مسلم لیگ ن کا پارٹی صدر بنایا جائے۔بل کی منظوری کے موقع پر حزب اختلاف کے ارکان نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔بل کے منظوری سے قبل اپوزیشن کے اراکین نے سپیکر ڈائس کو گھیر لیا تھا اور حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی مگر اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود قومی اسمبلی نے بل کو منظور کر لیا.