افغان طالبان وفد کی اسلام آباد آمد، شاہ محمود سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقات شیڈول

افغان طالبان وفد کی اسلام آباد آمد، شاہ محمود سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقات شیڈول
سعودی عرب اور قطر کا ایک ساتھ مذاکرات میں شامل ہونا بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، ذرائع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فوٹو/ اسکرین گریب

اسلام آباد: افغان امن عمل میں پیش رفت کا امکان، ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں افغان طالبان وفد اسلام آباد میں موجود ہے۔ افغان طالبان وفد کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات متوقع ہے جبکہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سے بھی ملاقات ہو سکتی ہے۔


ذرائع کے مطابق افغان امن عمل میں قابل ذکر پیشرفت سامنے آئی ہے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آئندہ دور اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک درجن سے زائد طالبان رہنما اسلام آباد میں موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق طالبان کے ساتھ مذاکرات میں قطر کو بھی شامل کیا جائیگا۔ سعودی عرب اور قطر کا ایک ساتھ مذاکرات میں شامل ہونا بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان عمل کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا پاکستان افغان مفاہمتی عمل میں سہولت کاری کے لیے کاوشیں جاری رکھے گا اور افغانستان میں قیام امن کے لیے مفاہمتی عمل مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ادھر اسلام آباد میں موجود امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کہا امریکی قیادت افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ زلمے خلیل زاد نے امریکا اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کرانے کے لیے سہولت کاری پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان، صدق دل سے سمجھتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے افغانستان میں قیام امن کیلئے “مذاکرات” ہی مثبت اور واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین دو طرفہ برادرانہ تعلقات، مذہبی ثقافتی اور تاریخی بنیادوں پر استوار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ چالیس برس سے افغانستان میں عدم استحکام کا خمیازہ دونوں ممالک یکساں طور پر بھگت رہے ہیں ،ہمیں خوشی ہے کہ آج دنیا، افغانستان کے حوالے سے ہمارے موقف کی تائید کر رہی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خوش دلی کے ساتھ گذشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین بھائیوں کی میزبانی کرتا چلا آ رہا ہے اور ہم نے افغان امن عمل میں مشترکہ ذمہ داری کے تحت نہایت ایمانداری سے مصالحانہ کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پرامن افغانستان پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے ناگزیر ہے، ہماری خواہش ہے کہ فریقین مذاکرات کی جلد بحالی کی طرف راغب ہوں تاکہ دیرپا، اور پائیدار امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔

اس موقع پر افغان طالبان کے اعلیٰ سطحی وفد نے افغان امن عمل میں پاکستان کے مصالحانہ کردار کی تعریف کی۔