پاکستان منی لانڈرنگ میں ٹاپ تھری ملکوں میں سے ہے، رپورٹ

پاکستان منی لانڈرنگ میں ٹاپ تھری ملکوں میں سے ہے، رپورٹ

image by facebook

اسلام آباد : فارن بینک اکاؤنٹ کیس میں اسٹیٹ بینک  نے انکوائری  رپورٹ میں کہا کہ پاکستان منی لانڈرنگ میں ٹاپ تھری ملکوں میں سے ہے جبکہ   5027پاکستانیوں کی دبئی میں جائیدادوں کا انکشاف کیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق فارن بینک اکاؤنٹ کیس میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے انکوائری رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی گئی ، رپورٹ میں انکوئری کا دائرہ یو کے اور یو اے ای سے آگے بڑھانے کی سفارش کی گئی اور کہا گیا ہے کہ اثاثے واپس لانے والی کمیٹی کا دائرہ اختیار عالمی قانون کے تحت باہمی معلومات تک بڑھایا جائے۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کی رپورٹ میں پاکستان کا نام لیاگیا، پاکستان منی لانڈرنگ میں ٹاپ تھری ملکوں میں سے ہے، تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 150 بلین ڈالرز کی پرائیویٹ پراپرٹیز منظرعام پر آئیں۔

دبئی میں 16-2015 میں 135 بلین درہم چھپائے گئے، یو اے ای، یو ایس اے، یو کے، سوئٹزر لینڈ، ہانگ کانگ پناہ گاہیں ہیں، ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے 5366افراد نے اثاثے ظاہر کیے، اسکیم کے ذریعے 8.1بلین یو ایس ڈالرز کی جائیدادیں سامنے آئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا فارن اکاؤنٹس انکوائری میں سست روی کی وجہ کمزور نظام ہے، انکوائری میں تاخیرکی وجہ انٹرنیشنل قوانین بھی ہیں ، دوسری جانب جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں ایف آئی اے نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا ، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 110 ارب روپے مالیت کی 5027 پاکستانیوں کی دبئی میں جائیدادیں ہیں، بیرونی ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں کا تخمینہ150 ارب ڈالرز ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ سے ریکارڈ کی تفصیلات درکارہیں، ایف آئی اے اب تک 54 فوجداری انکوائریاں درج کرچکا ہے، دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کا ریکارڈ نہ ملنے سے تحقیقات تعطل کا شکار ہیں۔

ایف آئی اے رپورٹ کے مطابق 626 پاکستانیوں کی دبئی میں جائیدادیں فرسٹ سورس سےپتہ چلیں جبکہ 7614 جائیدادیں سائبرانٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر سامنے آئیں، جائیدادوں کی ریکوری کیلئے باہمی قانونی تعاون کی درخواست کرنا ہوگی۔