مقبوضہ کشمیر میں الحاق پاکستان کی آوازخاموش

Riaz ch, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

مقبوضہ کشمیر میں الحاق پاکستان کی توانا ترین آواز آج خاموش ہو گئی کہ سینئر کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی بھارتی نظر بندی قید میں انتقال کر گئے۔ انہیں بھارت نے 12 برس سے نظر بند قید میں رکھا ہوا تھا۔ وہ طویل عرصہ سے علیل بھی تھے۔ 

علی گیلانی کی شہادت کے بعد بھارتی غیر قانونی قبضے والے کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی۔ بھارتی فوجی درندے مظلوم کشمیریوں کو دھمکیاں دیتے رہے کہ فوری تدفین کی جائے ورنہ ہم نامعلوم مقام پر تدفین کر دینگے۔ مقبوضہ وادی کی مساجد میں سید علی گیلانی کی نماز جنازہ کے حوالے سے اعلانات ہوتے رہے۔ اس موقع پر مساجد میں آزادی کے نعرے بھی لگتے رہے۔

برعظیم کی تاریخ میں محبّی و محترمی سید علی گیلانی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ کشمیر کی حالیہ تحریک آزادی میں پیش پیش رہے ہیں اور اس سلسلے میں وہ اپنی زندگی کی ایک ربع صدی یا اس سے بھی کچھ زیادہ وقت پس دیوار زندان گزار چکے ہیں۔ دل اور سرطان کے موذی امراض بھی انھیں اس جہد مسلسل سے باز نہیں رکھ سکے۔ متعدد بار گھر کی تباہی اور جسمانی و نفسیاتی تشدد بھی ان کے جذبوں کے سامنے دیوار نہ بن سکے۔ مجاہدین ِ آزادی میں وہ اس اعتبار سے ایک منفرد شخص ہیں کہ انھوں نے تحریک آزادی کی ہنگامہ خیز زندگی اور اذیت ناک جدوجہد میں بھی قلم و قرطاس سے اپنا رشتہ برقرار رکھا۔ سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ وہ پرورشِ لوح و قلم بھی کرتے رہے۔

 سید علی گیلانی کا موقف تھا کہ جب تک بھارت کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم نہیں کرتا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آمادہ نہیں ہوتا اس وقت تک بھارت سے کسی طرح کے مذاکرات کا ر لاحاصل مشق ہے۔ محض پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی و ثقافتی وفود کے تبادلے آلو،پیاز کی تجارت اور امن کی آشا سے کشمیریوں کے دکھوں کا مداوا نہیں ہو سکتا۔ تاریخ نے سید علی گیلانی کے موقف کو درست ثابت کر دیا ہے۔ 

بھارتی حکمران ابھی تک کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن یہ مذاکرات آزاد کشمیر پر ہوں گے کبھی بھارت کہتا ہے کہ ہم تجارت کے لیے مذاکرات کر سکتے ہیں۔ تجارتی و ثقافتی وفود کے تبادلے ہو سکتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ بھارتی حکمران اصل تنازع کے حل کے بجائے دیگر امور کو درمیان میں لے آتے ہیں اور بھارت غیر ضروری امور پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کر دیتا ہے جبکہ کشمیریوں نے یہ ساری قربانیاں نہ تو تجارتی و ثقافتی وفود کے تبادلے کے لیے پیش کی ہیں نہ ہی امن کی آشا کے لیے دی گئی ہیں۔ بلکہ کشمیری بھارت کے غاصبانہ قبضہ سے آزادی چاہتے ہیں۔ جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق حق خودارادیت نہیں دیا جاتا اس وقت تک کشمیریوں کی آزادی کی تحریک جاری رہے گی۔

 آل پارٹیز حریت کانفرنس (گیلانی گروپ) کے سربراہ سید علی گیلانی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ 

مقبوضہ کشمیر کا بچہ بچہ بھی اس بات کو جانتا ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد نے پاکستان کے قیام سے 24 دن پہلے ہی فیصلہ سنا دیا تھا کہ ہم انشاء اللہ بننے والے پاکستان کا حصہ ہونگے۔ لیکن بھارت کی غاصبانہ روش کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔ ہمیں اپنے خون میں پاکستان سے محبت ملی ہے۔ کشمیری اور پاکستانی ایک ہی قوم ہیں۔ ہم ایک دوسرے سے نظریاتی، مذہبی، سماجی، سیاسی اور معاشرتی وابستگی رکھتے ہیں لیکن بھارتی غاصب فوج نے ہمیں ایک دوسرے سے دور رکھا ہے۔ بھارتی فوج نے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے تمام حریت رہنماؤں کو بدترین قید میں رکھا ہوا ہے۔ عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور مقبوضہ وادی اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جیل بنی ہوئی ہے۔ سید علی گیلانی کا کہنا تھا کہ ہم تمام 22 کروڑ پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ کشمیر کو اپنی شہ رگ مانا اور اپنی اخلاقی اور سفارتی حمایت کبھی کم نہیں ہونے دی۔

باطل قوت نے آپ کو راستے سے ہٹانے کے لیے ایک درجن سے زیادہ قاتلانہ حملے کیے، مگر ”اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔“ کشمیری رہنما نے بہت عرصہ پہلے ”شہیدوں کے قبرستان“ میں دفن کیے جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ مگر کٹھ پتلی انتظامیہ نے علی گیلانی کی شہداء قبرستان میں تدفین کی اجازت بھی نہ دی۔مرحوم پاکستان کے ایک کٹر حمایتی تھے جنہوں نے اپنی زندگی کشمیر کاز اور کشمیر پر بھارتی حکمرانی کے خاتمے کے مطالبے کیلئے وقف کر رکھی تھی۔

 مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیرت قیادت نے سید علی گیلانی کی قیادت میں متحدہ ہو کر انتہائی مثبت اور تعمیری قدم اٹھایا ہے اور پوری دنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سید علی گیلانی کا موقف ہی پوری کشمیری قوم کا موقف کی بنیاد پر کامیاب ہوتی ہیں جن تحریکوں کے پیچھے کوئی نظریہ نہیں ہوتا وہ تحریکیں کامیاب نہیں ہوتی ہیں۔ کشمیر کی آزادی کی تحریک ایک نظریے کے تحت برپا کی گئی ہے یہ نظریہ اسلام، آزادی اور تکمیل پاکستان ہے۔ اسی نظرئیے کو بنیاد بنا کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں تاریخ کا عظیم جہاد برپا ہے۔ آج تک لاکھوں شہداء نے اپنا گرم گرم لہو آزادی کے لیے پیش کیا ہے۔ ہزاروں اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے ہیں۔ ہزاروں زخمی اور معذوری کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہزاروں پس دیوار زنداں ہیں۔