پی ڈی ایم کی اصل طاقت

Naveed Chaudhry, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

مارشل لا ادوار اور مختلف جمہوری حکومتوں کے دوران سیاسی اتحاد بننے کی پوری تاریخ موجود ہے۔ پی ڈی ایم کو ماضی کے حوالے سے اس لئے زیادہ اہمیت حاصل رہی کہ بظاہر ایک منتخب حکومت کے دور میں اپوزیشن جماعتوں نے یہ اعلان کیا کہ ان کا ہدف وزیر اعظم عمران خان نہیں بلکہ ان کو لانے والے ہیں۔ جلسے جلوسوں کے دوران جب اسی حوالے سے مہم چلی تو اقتدار کے تمام مراکز میں ہڑبونگ مچ گئی۔ یہی وقت تھا جب بیک چینل رابطے شروع ہوئے۔ پھر بعض حکام کے حوالے سے یہ بات سننے میں آئی کہ دو سے تین ماہ میں اپوزیشن کی تحریک سے ہوا نکل جائے گی۔ اسی دوران ایک واقعہ تو یہ ہوا کہ حکومت کو ہٹانے کے لئے فیصلہ کن دھرنا دینے کے بجائے پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں ضمنی انتخابات میں حصہ لینے پر آمادہ ہو گئیں۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ تجویز آصف زرداری نے دی تھی۔ اس کے بعد گلگت بلتستان میں الیکشن ہوئے تو بلاول بھٹو نے وہاں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جلسوں میں مقتدر شخصیات کے نام لینا ہماری پالیسی نہیں۔ اس بیان سے پی ڈی ایم میں اختلافات ابھرے مگر مولانا فضل الرحمن نے اگلے ہی روز یہ کہہ کر بات واضح کردی کہ جن سے شکایت ہے، نام بھی انہی کے سامنے آئیں گے۔ پی ڈی ایم کی قیادت کو پیپلز پارٹی پر شک تو پہلے سے تھا مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپوزیشن اتحاد کے اجلاسوں میں ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت آئے گی اور اندر کی خبریں میڈیا میں لیک کر کے احتجاج کا زور توڑنے کی کوشش کرے گی۔ مقتدر قوتوں کی لائن پر چلتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کو ڈی ٹریک کرنے کی کوشش کرے گی۔ مولانا فضل الرحمن ان حرکتوں پر سخت برہم تھے۔ سینٹ الیکشن اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ پیپلز پارٹی کی یہ کوشش تھی کہ وہ پی ڈی ایم میں رہ کر مزید کام ڈالے مگر مولانا فضل الرحمن نے شاہد خاقان عباسی سے شوکاز نوٹس دلوا کر باہر کا راستہ دکھا دیا۔ پی ڈی ایم کے بیانیہ کو دبانے اور عملی احتجاج کا راستہ روکنے کا مشن کامیاب ہوچکا تھا۔مولانا فضل الرحمن نے سے پی ڈی ایم میں خالی ہونے والے عہدوں پر دوسرے رہنماؤں کو موقع دیا مگر اس دوران ن لیگ کی شعلہ بیان قیادت بھی خاموش ہو چکی تھی۔ یہ حقیقت ہے کہ جے یوآئی کو اس حوالے سے ن لیگ سے بھی گلے شکوے ہیں۔ اس دوران مفاہمت کی تمام یکطرفہ کوششیں دم توڑ گئیں۔ آزاد کشمیر کے انتخابات سے واضح ہو گیا کہ انتخابی عمل میں بیرونی مداخلت رکنے یا کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ سب کچھ کھلم کھلا رہا ہے۔ سو اپوزیشن کو نظر آ گیا کہ اگلے عام انتخابات میں اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ کراچی میں جلسہ دو حوالوں سے زیادہ اہم تھا۔ سب سے پہلے تو یہ کہ اب بیانیہ کیا ہے، دوسرے یہ کہ پیپلز پارٹی کے صوبے میں ایک کامیاب شو ہو پاتا ہے یا نہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے یہ کہہ کہ ”اب انقلاب کے سوا کوئی راستہ نہیں“ بیانیہ کی تجدید کر دی۔ نواز شریف کا خطاب بھی جارحانہ تھا۔ شہباز شریف کی تقریر بہت مدہم رہی اگلے روز مفاہمت نہ مزاحمت بلکہ 2023 میں شفاف انتخابات کرانے کی بات کر کے انہوں بتا دیا کہ وہ اپنی پچھلی پوزیشن پر ہی کھڑے ہیں۔ کراچی کے جلسے میں مریم نواز کی عدم موجودگی حیرت انگیز تھی۔ بہر حال غیر جانبدار ذرائع کا کہنا ہے پی ڈی ایم ایک بڑا شو کرنے میں کامیاب رہی۔ شرکا کی تعداد نہ صرف پہلے والے جلسوں سے زیادہ تھی بلکہ ملحقہ راستوں پر بھی لوگ کھڑے تھے۔ مولانا فضل الرحمن 

نے اس جلسے سے ایک روز قبل یہ کہہ کر پیپلز پارٹی کو ٹارگٹ کیا کہ اس نے اس نے پی ڈی ایم کی پشت میں چھرا گھوپنے کی کوشش کی۔ بہر حال اس بھرپور پاور شو نے نہ صرف پی ڈی ایم میں نئی جان ڈال دی بلکہ پیپلز پارٹی کو بھی عملاً اپوزیشن سے نکال باہر کیا۔اب تک کے حالات و واقعات سے ثابت ہے کہ پی ڈی ایم کا بیانیہ ہی اس کی اصل طاقت ہے۔ دیکھنا اب یہ ہے اس بیانیہ پر قائم رہتے ہوئے احتجاجی تحریک کو آگے بڑھایا جائے گا یا پھر کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔ پیپلز پارٹی کی بے وفائی اور ن لیگ کی منہ چھپائی سے صرف پی ڈی ایم ہی نہیں پورے ملک کو نقصان پہنچا۔ عوام کا برا حال ہے تو میڈیا پر اس سے کڑا وقت پہلے کبھی نہیں آیا۔ ملک گیر وکلا کنونشن میں جب سپریم کورٹ کے ججوں کے نام لے کر تنقید کی گئی۔ ان کے احکامات غیر آئینی قرار دئیے گئے۔ قیمتی پلاٹوں کی الاٹ منٹ کا ذکر بھی آیا تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ اپوزیشن کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ بعد ازاں کراچی میں پی ڈی ایم کے جلسے کے دوران نہ صرف وکلا کی احتجاجی تحریک کی حمایت کا اعلان کیا گیا بلکہ میڈیا کے خلاف اقدامات مسترد کرتے ہوئے صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا پیغام بھی دیا گیا۔وزیر داخلہ شیخ رشید سمیت حکومتی عناصر کا اب یہ کہنا کہ مولانا فضل الرحمن غیر ذمہ دارانہ گفتگو کررہے ہیں دراصل حکومت کی اپنی بوکھلاہٹ کو واضح کررہا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ملک کے اندرونی اور بیرونی حالات سیاست کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔اگر اس بات کو سچ مان لیا جائے تو یہ کیا ہورہا ہے کہ ان حالات کے دوران ہی میڈیا کا مکو ٹھپنے کے لئے ملکی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے، سپریم کورٹ تک میں گروپ بندی کرائی جارہی ہے۔ عجیب و غریب فیصلے کرائے جارہے ہیں۔وکلا تنظیموں میں دھڑے بندیاں کرائی جارہی ہیں۔ اگلا الیکشن لوٹنے کے منصوبے بن رہے ہیں۔ کرپشن عفریت بن چکی مگر ادارے صرف سیاسی مخالفین کے پیچھے پڑے ہیں۔ وزرا بڑھکیں لگا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں اپوزیشن کو عدالتی ہتھوڑے سے ضربیں لگا کر مسمار کردیا جائے گا۔ اگلے پانچ سال بھی یہی ہائبرڈ نظام رہے گا۔ گردو پیش کے حالات کے باوجود یہ سب ہو سکتا ہے تو پھر سیاست کیوں نہیں ہوسکتی۔ ایسے میں یہ کہنا کہ اہم معاملات پر قومی اتفاق رائے ہونا وقت کی ضرورت ہے ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔اس کو حکومت کسی معاملے پر قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے اور نہ وہ اپوزیشن کو لفٹ کرانے کے موڈ میں ہے۔ حکومت اور اس کے سرپرست تو اپنی ”اتحادی“ پیپلز پارٹی کو بھی بخشنے کے لئے تیار نہیں۔ ہوسکتا ہے اس ہائبرڈ نظام کے لئے پیپلز پارٹی کی ساری قربانیاں رائیگاں چلی جائیں۔ ایسے میں شہباز شریف کے لا یعنی اور ڈھیلے موقف کی کوئی اہمیت نہیں۔ لگتا تو نہیں، پھر بھی فرض کرلیتے ہیں کہ شہباز شریف کو ”کسی“ نے کوئی تسلی دے رکھی تو اس کا حشر بھی پہلے کی طرح سو جوتے، سو پیاز سے مختلف نہیں ہوگا۔ موجودہ نظام کو عمران خان اور بزدار صرف سوٹ ہی نہیں کرتے بلکہ ان کی لازمی ضرورت بھی ہیں۔تمام تر داخلہ اور خارجہ امور، سیاسی و غیر سیاسی تقرریاں، ہر طرح کے ملکی وسائل مکمل طور پر مقتدرہ کے کنٹرول میں ہیں۔ اس سارے بندوبست کے پیچھے عالمی اسٹیبلشمنٹ اگر کھڑی نہیں تو مطمئن ضرور ہے۔ مسئلہ کشمیر کا ”حل“ انڈیا سمیت سب کے لئے قابل قبول ہے اس لئے جنگ کا کوئی امکان نہیں ویسے بھی سیز فائر ہے، ملک پر چڑھنے والے قرضے ملکی سلامتی اور خود مختاری کے لئے بیڑیاں بن کر پوری قوم کو جکڑ چکے، سی پیک پر کام معطل ہے، افغانستان کے معاملے میں اگر کسی پریشانی کا خدشہ ہے بھی تو پہلے بھی کون سا لمحہ تھا جب ملک نازک دور سے گزر نہیں رہا تھا۔اسی لئے تمام تر ملکی و عالمی واقعات سے باخبر ہونے کے باوجود مولانا فضل الرحمن نے پی ڈی ایم کے جلسے سے ایک روز قبل رکن جماعتوں کے سربراہی اجلاس میں ایک بار پھر پارلیمنٹ سے استعفے دینے اور جیل بھرو تحریک شروع کرنے کی تجویز رکھ دی۔ اس وقت نواز شریف نے بھی کہا کہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔دیکھنا پڑے گا کہ مسلم لیگ ن اس حوالے سے عملی طور پر کیا اقدامات کرتی ہے۔پی ڈی ایم کے جلسے کے اگلے ہی روز شہباز شریف نے یہ کہہ کر پھر ہاتھ کھڑے کردئیے کہ ہم مفاہمت چاہتے ہیں نہ مزاحمت بلکہ 2023 میں شفاف انتخابات چاہتے ہیں۔ کمال بات ہے کسی کوکیا پڑی ہے کہ منصفانہ الیکشن کراکے انہی کو پھر سے لے آئے جن کو طرح طرح کے پاپڑ بیل کر اقتدار سے نکالا ہے۔ پی ڈی ایم کی اصل طاقت ہے ہی اس کا بیانیہ، تر لے، منتیں رنگ لائیں گے نہ ہی دوغلی سیاست کوئی فائدہ دے گی۔ مولانا فضل الرحمن اسی لئے نہایت احتیاط سے لائحہ عمل مرتب کر رہے ہیں۔ ان کو اچھی طرح سے علم ہے اس بار مارچ ہوا تو مشن پہلے کی طرح ادھورا نہیں چھوڑا جاسکتا۔ سو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر پی ڈی ایم کی سطح پر دھرنے کا فیصلہ ہوگیا تو نتیجہ خیز ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ دوسری کسی صورت میں جے یو آئی تو بہت حد تک محفوظ اور بہتر پوزیشن میں ہی رہے گی مگر مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی کی طرح مکمل سرنڈر کرتی نظر آئے گی۔یہاں بھی ایک بڑا فرق ہے، عین ممکن ہے کہ پیپلز پارٹی کو اگلے حکومتی سیٹ اپ میں کچھ نہ کچھ حصہ مل جائے مگر ن لیگ کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آنے والا۔