نازک ہی نہیں نشے کے دور سے

نازک ہی نہیں نشے کے دور سے

نیازی صاحب کا شکریہ جنہوں نے جرمنی جاپان کی سرحدیں ملائیں، سال کے بارہ موسم، رحونیت کے بعد بتا دیا کہ جب پاکستان بنا تو آبادی 40 کروڑ تھی آج 22 کروڑ ہے تو احساس ہوا کہ وطن عزیز نازک ترین نہیں شوکت ترین اور نشے کے دور سے گزر رہا ہے۔ جیسا کہ جب سے بچپن کا دور گزرا ایک فقرہ انتہائی بے چینی اور کرب کے ساتھ ضرور دہرائے جاتے پڑھا اور سنا ہے کہ پاکستان اپنے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ چلیں نازک ترین دور کبھی لکھنے والے بدترین، سیاہ ترین، منافق ترین ہی لکھ دیتے۔ دور بے شک وہی رہتا احساس اور وجہ تو معلوم ہو جاتی۔ 1950 سے 1969 تک کی تاریخ اگر ہماری نہ ہوتی تو مستقبل بھی ہمارا ایسا نہ ہوتا۔ وطن عزیز یوں تو پہلے دن ہی آزادی کے بعد نازک ترین دور میں داخل ہو گیا تھا مگر اس کے ساتھ بہت سی آلائشیں ادارہ جاتی نظام میں در آئیں۔ مہاجرین کی آباد کاری نے جو بدعنوانی کی مضبوط بنیادیں رکھیں اس کی جڑوں نے تمام دیگر محکمہ جات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا پھر بدعنوانی ہی روزگار ٹھہرا۔ کہیں بھی قوم کا شکست خوردہ ہونا ذلت ہی ہے۔ 1971 وہ نازک ترین دور تھا جس سے تعمیر نو ناممکن تھی مگر قیادت نے ایک دن نہ کہا کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ جی ہاں، گریٹ ذوالفقار علی بھٹو کا دور وطن عزیز کی تعمیر نو کا دور اور خوشحال ترین دور تھا آج یہ جو بیرون ممالک پاکستانی اور ان کی اولادیں انہیں کے دور میں روٹی، کپڑا اور مکان دیکھ پائی تھیں۔ ہماری نسل کے لوگ گریجویٹ ہوئے، اس کے بعد ضیا نے نجی تعلیمی ادارے ایسے کھلوائے کہ مہنگی ترین اور ناقص تعلیم، جس میں تربیت بھی نہیں، نے نئی قوم کی بنیاد رکھی، نئی معاشرت کی راہ کھولی لیکن والدین کی ان کے اجداد کی طرف سے کی گئی تربیت نے معاشرت کو جکڑے رکھا۔ الفاظ کا چناو¿، رشتوں کی پہچان، انسانوں سے برتاو¿ کیسا ہوتا ہے، ضیا کے خونیں دور کے بعد بھی دیکھا گیا۔ خالص سیاسی بات کروں تو میاں نوازشریف کی سیاست میں انٹری نے سیاست کے انداز بدل دیئے مگر انہوں نے لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑا، لوگوں کا انفرادی اور اجتماعی طور پر سوچا۔ پھر سیاست میں ایسا نظام رائج ہوا کہ نظام کہنا نظام کی توہین ہے۔ تاریخ کا دروازہ کھولو تو بند 

کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جہاں ایک طرف کشمیر غلامی کی دلدل میں داخل ہوا وہاں آزادی کی قدر بھی نہ کر سکے۔ وطن عزیز نازک ترین دور سے گزرتا ہوا اب 2014 سے نشے کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ جس کا نقطہ عروج 25 مئی 2018 کے انتخابات سے شروع ہوتا ہے۔ محترمہ بے نظیر کی شہادت کے باعث عدم موجودگی نے جس طرح حکومت کے کنٹرول شیڈ میں پی ٹی آئی کی افزائش کی اور ایک برائلر تیار کیا جو اپنی ٹانگوں پر کھڑا نہ ہو سکتا تھا۔ جب وہ اپنے ہی وزن سے گر گیا تو خطرناک نہیں خوفناک ہو گیا، نشے کے دور میں داخل ہونے کے بعد جس جس کو ہوش آیا اس نے دیکھا کہ معیشت، معاشرت، تمدن، آئین کی حکمرانی زمین بوس ہو چکی۔ انتقام، الزام تراشی، گالی، دشنام طرازی، جھوٹ جھوٹ اور صرف جھوٹ کا بول بالا ہے۔ اب نشے کے دور کی بات کو کون یاد رکھتا ہے۔ یہ ایسا دور چلتا ہے کہ دوسرے یاد کراتے ہیں کہ تم نے یہ کیا تھا، تم یہ باتیں کر رہے تھے، تم گالیاں بک رہے تھے یہ نشے کا دور ابھی جاری ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بالآخر عمران نیازی کے لیے کہا کہ عمران خان جتنا جھوٹا، مکار اور ملک دشمن آج تک پیدا نہیں ہوا۔ اسے ایک ادارے نے پالا مگر اس نے اداروں کو تقسیم کیا۔ کیا قوم کو تقسیم نہیں کیا؟ شوکت ترین کی خط والی حرکت تو کوئی دشمن بھی نہیں کرتا یقینا پاکستان نشے دور سے گزر رہا ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ بڑے تجزیہ کار کہلانے والے عجیب موضوع، عمران نیازی کے توہین عدالت کیس کا کیا ہو گا، دہشت گردی کے مقدمے کا کیا بنے گا؟ کوئی یہ بات نہیں کرتا کہ عمران نیازی پونے چار سال اداروں کے کندھوں پر بیٹھ کر حکومت کرتا رہا، 70 سال کا قرض ایک طرف اور اس کے پونے چار سال میں اس کے وزیر خزانہ شوکت ترین کے بقول 76 فیصد قرض لیا گیا۔ اور یہ حالیہ ناپاک قصے کا تو گھٹیا ترین شخص بھی متحمل نہیں ہو سکتا مگر ڈھٹائی ہے کہ اللہ کی پناہ۔ نیازی صاحب کی پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان، بلوچستان میں حکومت ہے پونے چار سال وفاق میں عیاشی کی ہے کوئی ان پونے چار سال کا حساب اور احتساب کرنے کو تیار نہیں۔ الیکشن کمیشن نے تو ان کے پارٹی کے بانی رکن کی درخواست اور ثبوتوں پر کرپشن کے انباروں کی نشاندہی کر دی۔ مافیاز کی حکومت کا پتہ دیا۔ مافیاز نوازے گئے، مافیاز متعارف ہوئے، مخالفین کے لیے وطن عزیز بے آئین زمین بنا دیا گیا۔ نیازی صاحب قریش کی چوری کے الزام میں سزا پانے والی خاتون کی بڑی بات کرتے ہیں اپنی جدید ریاست مدینہ میں فرح گوگی اور اس کے گروپ کا دفاع کرتے ہیں توشہ خانہ کو اندرون خانہ سمجھتے ہیں۔ عدالتی نظام اور اپنے گروپ کو نوازنے کے حوالے سے کوئی سابقہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی بات نہیں کرتا، سابقہ چیئرمین نیب کے قصے کیا ہوئے، ریاض ملک کی آڈیو کیا ہوئیں، شہزاد اکبر کی ڈراما بازیاں کدھر گئیں۔ ریاست مدینہ، چین، ترکیہ، سعودیہ، ملائیشیا اور یورپ کا نظام لانے والوں نے اپنے نظام کو زمین بوس کر دیا۔ آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کو ذاتی نکاح سمجھا کہ واٹس ایپ پر قصہ فارغ ہو جائے گا۔ یہ دنیا اب گلوبل ویلیج ہے آئی ایم ایف میں دنیا کے امیر ترین موثر ترین ممالک شامل اور انوسٹر ہیں، شوکت ترین کو علم ہے اس سے معاہدے کی پاسداری اور NOC کے بغیر کوئی ملک مدد یا کاروبار کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ پی ٹی آئی ملک کی واحد جماعت ہے جو چار صوبوں میں حکومت میں ہونے کے باوجود ملک کی بربادی اس کو سری لنکا بنانے کی خواہش مند ہے۔ صرف اس لیے کہ بزرگ نوجوان وزیراعظم نہیں رہا۔ سوشل میڈیا کا لیڈر سوشل میڈیا کو خوفناک ہتھیار بنائے بیٹھا ہے۔ اداروں کے عزت دار سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ہونے والی بکواس سے گھبراتے ہیں۔ نشہ اترے گا تو پتہ چلے گا گھڑی کدھر کھو دی، عزت کہاں گنوا دی، معاشرت ہوا کرتی تھی اس کا کیا ہوا، سیاست رسوا ہوئی اور سب سے بڑھ کر اس ملک کے لوگوں اور ملک کے امکان سے جو کھلواڑ کیا اس کے نتائج کب تک بھگتنا ہوں گے۔ وطن عزیز اس نشے کے دور سے گزر رہا ہے جس میں صرف اقتدار مطمع نظر ہے سیلاب، مہنگائی اور بربادی نہیں۔ بجلی کے بلوں کی قیامت کی خبر نہیں، جس گھر میں بجلی کا بل جائے گا اس گھر میں حکومت کے مخالفین کو جانے کی ضرورت نہیں، پیاز، ٹماٹر سمیت دیگر زرعی اجناس کی درآمد بھی صرف اور صرف طبقہ امرا کے مفاد میں ہے، غریب کا اس سے بھلا نہ ہو گا، لیکن ابھی وطن عزیز نشے کے دور سے گزر رہا ہے، نازک دور کا احساس نہیں۔

مصنف کے بارے میں