” مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا“

” مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا“

پاکستان اس وقت اپنی 75 سالہ تاریخ کے بدترین سیلاب کی زد میں ہے جس نے ساڑھے تین کروڑ شہریوں کی زندگی کو ملیا میٹ کردیا ہے ان کے گھر ان کے کارو بار ان کے مویشی ، ان کی فصلیں سب کچھ دریا برد ہو چکے ہیں یہاں تک کہ انہیں سر چھپانے کے لیے چھت، پینے کا پانی اور زندہ رہنے کے لیے ایک وقت کا کھانا بھی میسر نہیں ۔ یہ ایسا سیلاب ہے جس نے گلگت بلتستان سے لے کر خیبر پختونخوا، پنجاب بلوچستان اور سندھ تک ہر صوبے کو نشانہ بنایا ہے اس کا سائز اور رفتار پہلے کسی بھی سیلاب سے کہیں زیادہ ہے تباہی کے مناظر اور انسانی بے بسی کی جیتی جاگتی تصویریں اور چیخ و پکار کے جو مناظر ٹی وی سکرینوں پر پیش کیے جا رہے ہیں انہیں دیکھنے کے لیے پتھر کا جگر بھی ہو تو درد سے پھٹنے لگتا ہے۔ بقول مرزا غالب

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

اس سے بڑی کوئی قیامت ہو نہیں سکتی جو سیلاب متاثرین پر محرم کے مہینے میں قدرت کی طرف سے برپا ہوئی ہے لیکن عوام کو جن ناکردہ گناہوں کی سزا ملی ہے وہ دراصل پے در پے حکومتوں سے لطف اندوز ہونے والوں کو ملنی چاہیے تھی جن کی مجرمانہ غفلت اور کوتاہیوں اور بداعمالیوں کی وجہ سے یہ دن دیکھنا نصیب ہوئے ہیں عام طور پر جب بھی دریاو¿ں میں سیلاب آتا ہے تو ہر دور کی حکومت اور بیورو کریسی کے پاس اپنا دفاع یہ ہوتا ہے کہ ہندوستان نے بغیر اطلاع دیئے پانی چھوڑ دیا جس کی وجہ سے شملہ معاہدے اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی اور پاکستان کا اتنا نقصان ہوا یہ محض ایک بہانہ ہے آج کل سائنس اور موسمیات اتنی ترقی کر چکے ہیں کہ آپ کو انڈیا کی وارننگ کی ضرورت ہی نہیں ہے دنیا کے کونے کونے کے موسم کا حال آپ گھر بیٹھے پتہ کر سکتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ 2010ءاور 2011ءکے سیلابوں کے برعکس حالیہ یعنی 2022ءکا سیلاب Flash Flood نہیں تھا جس میں آپ کو محفوظ جگہ پر منتقل ہونے کا موقع نہ مل سکے ایسے Flood میں شرح اموات بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ حالیہ سیلاب کی تباہی Magnitudes کے لحاظ دیکھیں تو ایک ہزار سے کچھ زیادہ انسان لقمہ اجل بنے ماہرین نے 2022ءکے سیلاب کو Riverine Flood قرار دیا ہے جس میں مالی نقصانات جانی نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں۔ 10 سے 15 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے اور اس پورے تباہ حال ڈھانچے کی تعمیر نو کے لیے ایک دہائی کا عرصہ درکار ہے ۔

میں نے ذاتی طور پر ایک بات بطور خاص نوٹ کی ہے کہ لاہور کے ہر ٹریفک سگنل پر پیشہ ور بھکاریوں کے جو غول در غول گروپ نظر آتے تھے ان میں خاصی کمی دیکھنے میں آئی ہے یہ غور کرنے کی بات ہے کہ یہ لوگ جو پورے کے پورے کنبے کے ساتھ مانگا کرتے تھے اچانک کہاں غائب ہو گئے۔ ہوا یہ ہے کہ ان لوگوں نے سیلاب کو موقع غنیمت جانتے ہوئے راجن پور، ڈیرہ غازی خان اور ان تمام علاقوں پر یلغار کردی ہے جو سیلاب سے متاثر ہیں یہ لوگ ان علاقوں کی بڑی شاہراہوں پر متاثرین کا لبادہ اوڑھ کر بیٹھے ہیں اور امداد کی شکل میں مال غنیمت جمع کر رہے ہیں جہاں ان کی دیہاڑی لاہور کے ٹریفک سگنل سے کہیں زیادہ ہے، وہاں امدادی کا رروائیوں میں مصروف افراد اور اداروں کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ سکروٹنی کر سکیں یہ کام مقامی ضلعی انتظامیہ کا ہے۔ دیکھا جائے تو حکومت پاکستان سے یہ بھکاری زیادہ آرگنائزڈ ہیں جہاں کمائی کا موقع دیکھتے ہیں اپنی سٹرٹیجی اور لوکیشن فوری تبدیل کر لیتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو ان بھکاریوں سے ہی سبق سیکھ لینا چاہئے تھا کیونکہ حکومت نے پون صدی میں ایسی پالیسی پلاننگ نہیں کی جس سے ہرچند سال بعد آنے والا سیلاب اور اس کے نتیجے میں ہونے والے اربوں روپے کے نقصان سے بچا جاسکے۔ ان غیر مستحق اور دھوکے بازبھکاریوں کی وجہ سے بہت سا امدادی سامان اصل متاثرین تک نہیں پہنچ رہا۔

حکومتی بے تد بیری کے ساتھ ساتھ میڈیا کا ذکر کئے بغیر بات ادھوری رہے گی جن دنوں جنوبی پنجاب میں بستیوں کی بستیاں یکے بعد دیگرے لہروں کی نذر ہو رہی تھیں تو ہمارا پورے کا پورا قومی میڈیا شہباز گل کے کیس کی کوریج میں مصروف تھا۔ ایک فرد واحد کو ساڑھے تین کروڑ متاثرین سے زیادہ اہمیت دینا ہماری سمجھ سے تو باہر ہے جس وقت میڈیا ٹیمیں ساو¿تھ پنجاب پہنچیں اس وقت بے یارو مددگار طبقوں کو خوفناک لہروں سے لڑتے اور مرتے دو ہفتے گزر چکے تھے۔ اب بھی صورتحال یہ ہے کہ ریلیف کار روائیوں میں رضا کار تنظیموں NGOs اور مخیر حضرات کا حصہ حکومتی کارکردگی سے کہیں زیادہ ہے۔

2022ءکا سیلاب چونکہ عالمی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور پاکستان نے اقوام متحدہ اور دوست ممالک سے امداد کی اپیل کی ہے اس موقع پر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کون تمہاری مدد کو آیا ہے۔ اب تک کی صور تحال یہ ہے کہ سب سے زیادہ مالی امداد ریاستہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے 3 کروڑ 11 لاکھ ڈالر کا اعلان کیا گیا ہے جو سر فہرست ہے دوسرا نمبر چائنا کا ہے جس نے ایک کروڑ 44 لاکھ ڈالر کے عطیہ کا اعلان کیا ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش نے بھی ریلیف اشیاءخیر سگالی کے طور پر بھیجنے کا اعلان کیا جو ایک بریک تھرو ہے اس سے پہلے بنگلہ دیشی وزیرا عظم حسینہ واجد ہمیشہ اینٹی پاکستان بیان دیتی رہی۔ اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اقوام متحدہ نے ایک کروڑ 26 لاکھ ڈالر جمع کرنے کی عالمی اپیل کی ہے اس میں 125ممالک نے حصہ ڈالنا ہے۔ موازنہ کیا جائے تو 125 ممالک ایک طرف اور امریکہ بہادر ایک طرف۔ پھر بھی امریکی امداد لگ بھگ دنیا سے تین گنا زیادہ ہے۔ 

اتنے بڑے سانحہ کے باوجود پاکستان کی اپوزیشن اور حکمران جماعت دونوں اس ٹریجڈی سے اپنے لیے سیاسی فوائد کے حصول کے لیے کوشاں ہیں کئی جگہ پر امداد کے بدلے ووٹ دینے کا حلف اٹھوانے کی کوشش بھی کی گئی۔ لیکن افسوس کا سب سے بڑا پہلو یہ تھا کہ جب پاکستا ن ڈوب رہا تھا تو تحریک انصاف کی سرتوڑ کوشش تھی کہ IMF پاکستان کی امداد سے انکار کر دے۔ شوکت ترین کی پنجاب اور کے پی وزرا ئے خزانہ سے ہونے والی بات چیت منظر عام پر آچکی ہے۔ پنجاب کے وزیر خزا نہ محسن لغاری کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے IMF کو وہ متنازع خط لکھنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اس سے پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ تحریک انصاف نے محسن لغاری کو وزارت سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے وہ پارٹی کے حالیہ اجلاس میں بھی شریک نہیں ہوئے کیونکہ عمران خان کی خواہش پر انہیں اجلاس میں نہیں بلایا گیا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں قطب شمالی (Polar Region) کے علاوہ برفانی گلیشیئرز کا سب سے بڑا ذخیرہ پاکستان کے پاس ہے یہ ایک اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس پانی پر کنٹرول حاصل کر کے ملک کی سر زمین کو زیرکا شت لایا جا سکتا ہے مگر پالیسی اور صلاحیت (capacity) نہ ہونے کی وجہ سے یہ گلیشیئرز ہمارے لئے خوشحال زندگی کے بجائے موت اور تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ 

پاکستان میں قدرتی آفات سے نبٹنے کیلئے ایک سرکاری محکمہ NDMA کے نام سے موسوم ہے لیکن اس کا عملی کردار صرف وارننگ دینے یا دوسرے لفظوں میں بارشوں میں اذانیں دینے سے زیادہ نہیں ہے یہی حال ریڈ کراس کا ہے جس کی سربراہی ہمارے مایہ ناز گلو کارابرار الحق کے پاس ہے کیا ہم میں سے کسی نے سیلاب کے دوران ان دو اداروں کا کہیں کوئی نام سنا ہے۔ ان کو فارغ کر کے ایک نیا دفاعی ڈھانچہ بنانے کی ضرورت ہے جو سیلاب کے موقع پر مال اور جان کو بچا سکے۔

مصنف کے بارے میں