روس اور ایران کی اجازت کے بغیر بشار نے فون نمبر ٹرمپ کو بھیج دیا

روس اور ایران کی اجازت کے بغیر بشار نے فون نمبر ٹرمپ کو بھیج دیا

دمشق :شامی صدر بشار الاسد نے اپنے ذاتی ٹیلیفون کا نمبر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ارسال کیا ہے جس کے بعد اگر ٹرمپ نے رابطے کا ارادہ کیا تو وہ شامی صدر تک جلد رسائی حاصل کر سکیں گے۔ تاہم ٹرمپ نے ابھی تک ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔امریکی میڈیا کے مطابق لبنانی تنظیم حزب اللہ کے زیر انتظام ذرائع ابلاغ میں نشر کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بشار نے امریکی کانگریس کے ایک رکن سے ملاقات کے موقع پر انہیں اپنا ذاتی فون نمبر فراہم کیا۔


یہ معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ برس کے اواخر میں امریکی کانگریس کی خاتون رکن ٹولسی گیبرڈ نے بشار الاسد سے ملاقات کی تھی۔رپورٹ کے مطابق گیبرڈ یہ جان کر حیران رہ گئیں کہ امریکی صدر کی جانب سے رابطے کی صورت میں بشار اپنے حلیفوں روسیوں اور ایرانیوں کی مشاورت کے بغیر ہی بھرپور انداز سے خیرمقدم کرے گا۔

بالخصوص جب کہ امریکیوں کا یہ گمان تھا کہ بشار ماسکو کی اجازت کے بغیر ان کے ساتھ رابطہ رکھنے کی جرات ہر گز نہیں کرے گا۔اگرچہ بشار کی جانب سے ٹرمپ کو اپنا ذاتی ٹیلی فون نمبر بھیجے ہوئے ایک ماہ ہو چکا ہے تاہم امریکی صدر نے ابھی تک وہ رابطہ نہیں کیا جس کی راہ بشار تک رہا ہے۔ بشار نے ایک بیان میں داعش کے خلاف لڑائی کے سلسلے میں امریکی انتظامیہ سے تعاون کا مطالبہ کیا تھا۔