نوڈیرو: پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی آج برسی منائی جا رہی ہے۔ انہیں قتل کے ایک مبینہ مقدمے میں 39 سال قبل آج ہی کے دن تختہ دار پر لٹکایا گیا تھا۔

 

سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر سڑکوں پر لانے والے ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ ميں پيدا ہوئے۔ انہوں نے کيلی فورنيا اور آکسفورڈ سے قانون کی تعليم حاصل کی۔

 

1963 ميں ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب خان کی کابینہ میں وزير خارجہ بنے اور بعد میں سیاسی اختلافات پر حکومت سے الگ ہو گئے۔

 

بعدازاں ترقی پسند دوستوں کے ساتھ مل کر انہوں نے 30 نومبر 1967 کو پاکستان پيپلز پارٹی کی بنیاد رکھی جو اپنے نظریات کی بدولت ملک کی مقبول ترین جماعت بن گئی۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر اسلام کی بنیاد پر آزاد ہوگا: آسیہ اندرابی

 

1970 کے الیکشن میں ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا۔ تاہم انتخابات میں کامیاب ہو کر جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو ملک دو لخت ہو چکا تھا جس کی وجہ سے وہ سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور پھر 1971 سے 1973 تک پاکستان کے صدر رہے جبکہ 1973 سے 1977 تک وہ منتخب وزيراعظم رہے۔

 

ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو متفقہ آئین دیا اور بھارت سے شملہ معاہدہ کر کے پائیدار امن کی بنیاد رکھی اور ہزاروں مربع میل رقبہ اور جنگی قیدیوں کو بھارت سے چھڑایا۔

 

یہ خبر بھی پڑھیں: بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریا کہ قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ سے ملاقات


بھٹو کے دور میں پسے ہوئے طبقات کے حقوق کے لیے کئی اقدامات کیے گئے تاہم مبینہ داخلی اور خارجی سازشوں کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور قتل کے الزام ميں مقدمہ چلا کر 4 اپریل 1979 کو انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

 

ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کی سیاسی فکر کو ان کی بیٹی بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا اور ان کی شہادت کے بعد اب بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا کے سیاسی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں