ایون فیلڈ ریفرنس میں گواہ واجد ضیا پر چھٹے روز بھی جرح جاری

ایون فیلڈ ریفرنس میں گواہ واجد ضیا پر چھٹے روز بھی جرح جاری

اسلام آباد: شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء پر جرح کے دوران نواز شریف کے وکیل کے سوال پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں اس موقع پر نامزد ملزمان سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے واجد ضیاء پر جرح کے دوران جے آئی ٹی رپورٹ کے والیم ٹین سے متعلق استفسار کیا جس پر واجد ضیاء نے بتایا کہ والیم ٹین کی کاپی کے لئے اپلائی کیا تھا اور وہ مل گئی ہے اور سات ایم ایل ایز سے متعلق ریکارڈ مل گیا ہے۔ اس موقع پر پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے سات ایم ایل ایز پر خواجہ حارث کے سوال پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ ایک ہی سوال بار بار نہیں پوچھا جا سکتا۔

 

مزید پڑھیں: بدعنوانی جہاں بھی ہو احتساب کرنا نیب کا کام ہے، وزیراعلیٰ پنجاب


خواجہ حارث نے کہا کہ آپ میرا سوال ریکارڈ پر لے آئیں یہ جواب نہیں دینا چاہتے تو نہ دیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سوال بھی ریکارڈ پر نہیں آ سکتا۔

 

خواجہ حارث نے کہا نہ سوال ریکارڈ پر آ سکتا ہے نہ جواب اور صرف واجد ضیاء کا بیان ریکارڈ پر آ سکتا ہے۔ خواجہ حارث کے جملے پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

 

جے آئی ٹی سربراہ نے عدالت کے روبرو والیم ٹین سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ سربمہر والیم ٹین کا باہمی قانونی مشاورت کے تحت 7 خطوط کا ریکارڈ ملا ہے اور مکمل والیم ٹین نہیں ملا۔

 

نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ 'آرڈر میں واضح کردیں کہ مکمل والیم 10 پیش نہیں کیا گیا جس پر واجد ضیاء نے کہا مجھے مکمل بات کرنے دیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ میں فارسی یا عربی میں نہیں بلکہ اردو میں پوچھ رہا ہوں۔

 

یہ خبر بھی پڑھیں: حکومت کو خادم حسین رضوی کی گرفتاری میں مشکلات ہیں، ملک احمد خان

واجد ضیاء نے بتایا کہ باہمی مشاورت قانون کے تحت 7 خطوط میں 1980 کے معاہدے کا ریفرنس دیا ہے جس پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا واجد صاحب آپ مؤقف بدل رہے ہیں۔

 

واجد ضیاء نے کہا کہ میں مؤقف نہیں بدل رہا اور خواجہ حارث نے کہا کہ آپ اپنا مؤقف بدلیں گے انشاءاللہ اور حقیقت کی طرف آئیں گے۔

 

نیب پراسیکیوٹر نے پھر مداخلت کی اور خواجہ حارث کو کہا کہ گواہ سے براہ راست بات نہ کریں کیونکہ تین دن سے آپ ایک ہی سوال کر رہے ہیں۔جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ آپ کو اعتراض ہے تو الگ بات ہے لیکن میں سوال ضرور کروں گا کیونکہ جب گواہ جھوٹ بولے گا تو سچ اگلوانے کے لئے سوال کرنا پڑیں گے۔ جرح میں سچ اگلوانے کیلئے مختلف زاویوں سے سوال پوچھے جاتے ہیں۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سوال قانون شہادت کیخلاف جائے گا تو میں ضرور ٹوکوں گا۔

 

نواز شریف کے وکیل نے سوال کیا کہ باہمی مشاورت قانون کے تحت کون سے خطوط میں قانونی سوال پوچھے گئے اور کون سے خطوط انٹرنیشنل کارپوریشن ڈیپارٹمنٹ کو لکھے گئے جس پر واجد ضیاء نے بتایا کہ 4 خطوط میں قانونی سوال پوچھے گئے اور چاروں خطوط 15 جون 2017 کو لکھے گئے۔

 

واجد ضیاء نے بتایا کہ 12 جون 2017 کو سینٹرل اتھارٹی کو ایک ایم ایل اے بھجوائی گئی جس کے ساتھ متعدد دستاویزات بھی بھجوائی گئیں اور دستاویزات میں 1978 کا معاہدہ بھجوایا تھا۔

 

خواجہ حارث نے کہا کہ آپ نے اس ایم ایل اے میں 1980 کا معاہدہ نہیں بھجوایا جس پر واجد ضیاء نے کہا کہ حیران ہوں آپ کو والیم ٹین کی مجھ سے زیادہ معلومات کیسے ہیں۔ یہ درست ہے اس ایم ایل اے کے ساتھ 1980 کا معاہدہ نہیں لگایا گیا تھا۔ خواجہ حارث نے بتایا کہ مجھے سپریم کورٹ میں والیم ٹین دکھایا گیا تھا۔

نیب پراسیکیوٹر نے خواجہ حارث کو کہا کہ آپ گواہ کو ایسے نہ کہیں کہ اس نے دھوکا دیا ہے جس پر انہوں نے کہا کہ میں نے واجد ضیاء کو دھوکے باز نہیں کہا۔

 

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ گواہ قابل احترام شخصیت ہے اس کی ذات پر بات نہ کی جائے۔ عدالت فیصلہ کرے گی کہ کس نے دھوکا دیا اور آپ ایسے تبصرے سے اجتناب کریں۔

 

خواجہ حارث نے اس پر کہا کہ انہیں کوئی دیانت داری کا سرٹیفکیٹ دینا ہے تو دے لیں جس پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور احتساب عدالت کے جج نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ کس نے ایسا کہا ہے جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ہمیں اپنا مؤقف سامنے لانا ہے اس میں کوئی چیز ذاتی نہیں ہے۔

 

نواز شریف کے وکیل نے واجد ضیاء سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رحمان ملک کو شامل تفتیش کیا تھا جس پر انہوں نے کہا جی کیا تھا۔ خواجہ حارث نے سوال کیا کیا آپ جانتے ہیں کہ سورس دستاویزات کیا ہوتی ہیں۔ واجد ضیاء نے جواب دیا سورس دستاویزات وہ ہوتی ہیں جو معلومات پر مبنی ہو۔

 

خواجہ حارث نے سوال اٹھایا کیا یہ درست ہے سورس دستاویزات جس معلومات پر بنتی ہیں وہ سنی سنائی باتیں ہوتی ہیں جس پر پراسیکیوٹر نیب نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوال قانون شہادت کے مطابق نہیں ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں