عدلیہ کو ساتھ دینا ہوگا، اکیلا کرپشن سے نہیں لڑ سکتا: وزیراعظم عمران خان

عدلیہ کو ساتھ دینا ہوگا، اکیلا کرپشن سے نہیں لڑ سکتا: وزیراعظم عمران خان
کیپشن: شہریوں نے ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو سخت فیصلے کریں گے: وزیراعظم 
سورس: file

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لوگوں نے کورونا ایس او پیز پر عمل نہیں کیا تو مجبوراً سخت فیصلے کرنا پڑیں گے۔ ابھی ہم فیکٹریاں بند نہیں کر رہے لاک ڈاؤن نہیں لگا رہے ۔

وزیراعظم عمران خان نے آپ کا وزیر اعظم آپ کے ساتھ میں عوام کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ  پوری دنیا میں کورونا کے باعث 15 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے گئے ۔ کورونا کے باعث سب سے زیادہ متاثر غریب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کورونا کی تیسری لہر انتہائی خطرناک ہے ۔ نہیں پتا یہ کب تک جاری رہے گی۔ عواماسک استعمال کریں ، احتیاط کریں۔کوورنا پھیل گیا تو  سخت فیصلے کرنے پڑیں گے ۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ  یورپ میں ویکسی نیشن کے باوجود لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے ۔ ہم لاک ڈاؤن کی طرف نہیں جا رہے۔ اللہ نے کورونا کے حوالے سے پاکستان پر بہت  کرم کیا، پاکستان میں بھارت،بنگلہ دیش اور دیگر ممالک جیسی تباہی نہیں ہوئی۔

گھبرانے کی ضرورت نہیں مہنگائی کنٹرول کر رہے ہیں

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ڈالر مہنگا ہونے سے مہنگائی ہوئی،بجلی کی قیمت میں اضافہ ہوا ۔ ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے چینی کی قیمت میں اضافہ ہوا۔  پاکستان میں مافیاز قیمتیں بڑھاتے ہیں۔چالیس لاکھ ٹن گندم درآمد کرنا پڑی،اس سے بھی مہنگائی بڑھی .کہاگیابہت چینی  پڑی ہے، ایکسپورٹ  کرنےکا کہا گیا جب چینی ایکسپورٹ کی گئی تویہاں پرقیمتیں بڑھادی گئیں۔

انہوں نے کہاکہ مڈل مین کی زیادہ منافع خوری کی وجہ سےمہنگائی ہے۔ ایسا نظام لارہےہیں کہ کسان براہ راست منڈیوں تک چیزیں پہنچائیں. گھبرانےکی ضرورت نہیں،مہنگائی کنٹرول کرنےپربھرپورتوجہ دےرہےہیں۔ ذخیرہ اندوزی کرکےآٹےکی قیمتیں بھی بڑھائی جاتی ہیں۔اب تک ہماری ساری توجہ صرف مہنگائی کنٹرول کرنےپرہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم 70فیصددالیں امپورٹ کررہےہیں۔ 

                                                                                                                               

قومیں معیار تعلیم سے ترقی کرتی ہیں

وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ قومیں معیاری تعلیم سے ترقی کرتی ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں بڑی تبدیلیاں کرنے لگےہیں ۔اپنے وژن کے مطابق چیئرمین ایچ ای سی لا رہے ہیں۔ عمارتیں بنانے سے تعلیم بہتر نہیں ہوگی،اساتذہ کا معیار یقینی بنانا ہوگا۔

گیس کم ہو رہی ہے

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان میں قدرتی گیس کم ہو رہی ہے۔ صرف 27 فیصد پاکستانیوں کو گیس میسر ہے۔ باہر سے مہنگی گیس منگوانی پڑ رہی ہے،قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں گیس کے کنویں نہیں کھودے گئے۔اب ہم پاکستان میں نئے کنویں کھودیں گے۔ہم نے نئے معاہدے بھی کیے ہیں ۔عوام کے لیے سستی گیس لا رہے ہیں۔

صحت: بہتری کیلئے نجی شعبے کو سہولیات دے رہے ہیں

ادویات مہنگی ہونے اور ڈاکٹروں کی ادویہ ساز کمپنیوں سے کمیشن کے لیے من مانی ادویات کی تجویز دینے کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صحت کا شعبہ صوبوں کے پاس ہے تاہم 3 صوبوں اور گلگت-بلتستان میں ہر شہری کو صحت کارڈ فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے بہت بڑا انقلاب آئے گاڈ

ان کا کہنا تھا کہ اس کے ذریعے نجی سیکٹر کے ہسپتال گاؤں دیہات میں کھل رہے ہیں، سرکاری زمینوں کو سستے داموں ہسپتالوں کے قیام کے لیے نجی شعبوں کو فراہم کیا جائے گا جس سے ہسپتالوں کے درمیان مقابلہ بڑھے گا اور صحت کی سہولیات بہتر ہوں گی۔

کرپشن سے صرف قانون کے ذریعے نہیں لڑا جا سکتا

کرپشن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہون نے کہا کہ کرپشن ایک ایسا کینسر ہے جو دنیا کے ہر غریب ملک میں پھیلا ہے۔  حکمران جب کرپشن کرتے ہیں تو وہ اپنا پیسہ ملک میں نہیں رکھ سکتے اور پھر وہ پیسہ ملک سے باہر بھیج کر ملک کا دوگنا نقصان پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق غریب ممالک سے ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر چوری ہوکر امیر ممالک میں جاتا ہے۔ ہم پورا زور لگارہے ہیں کہ امیر ممالک سے ہمارا پیسہ واپس آئے تاہم وہ اس میں رکاوٹ اس لیے ڈال رہے ہیں کیونکہ انہیں فائدہ ہورہا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خلاف صرف قانون کے ذریعے نہیں لڑا جاسکتا، پوری قوم مل کر کرپشن کا مقابلہ کرتی ہے۔ عمران خان اکیلا اس کرپشن سے نہیں لڑسکتا، عدلیہ کو بھی اس میں ساتھ دینا ہوتا ہے، نیب کو صحیح کیسز بنانے ہوتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے یہاں کرپٹ لوگوں کو دعوتوں میں ایسے بلایا جاتا ہے جیسے انہوں نے کشمیر فتح کیا ہو، کرپٹ لوگ جیل سے یا نیب سے نکل رہے ہوتے ہیں تو لوگ ان پر پھول پھینک رہے ہوتے ہیں۔ قانون کی بالادستی، عدل و انصاف اصل مسئلہ ہے اور پاکستان میں اسی کی جنگ چل رہی ہے۔

  

قبضہ مافیا کے خلاف اعلان جنگ 

وزیر اعظم نے ایک کالر کی کراچی میں پلاٹ کے لیے رقم ادا کرنے پر بھی پلاٹ نہ ملنے کی شکایت پر ان کی پریشانی کو حل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ پاکستان کے لیے قبضہ مافیا عذاب بنا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قبضہ مافیا بغیر پولیس اور سیاسی پشت پناہی کے بغیر کام نہیں کرسکتے، کئی اراکین اسمبلی اور سیاسی لوگوں نے بھی ملک میں قبضے کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام سے اپیل ہے کہ کسی بھی سرکاری زمین پر کسی گروپ نے قبضہ کیا ہے تو اس کی سٹیزن پورٹل پر نشاندہی کریں، ہم نے ان کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے۔