آمروں اور ان کے سلیکٹڈ انگائیڈڈ میزائلوں نے جمہوریت برباد کردی: بلاول بھٹو

آمروں اور ان کے سلیکٹڈ انگائیڈڈ میزائلوں نے جمہوریت برباد کردی: بلاول بھٹو
کیپشن:   آمروں اور ان کے سلیکٹڈ انگائیڈڈ میزائلوں نے جمہوریت برباد کردی: بلاول بھٹو سورس:   file

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی  بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ  جن لوگوں نے قائدِ عوام کو شہید کیا تھا انہوں نے درحقیقت قوم کے بانی اجداد کے خوابوں کا قتل کیا، ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کر کے پاکستان کی آئندہ نسلوں کے مستقبل کو دفن کرنے کی کوشش کی گئی۔ 

اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کے یومِ شہادت پر پیغام میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر قائدِ عوام کو شہید نہ کیا جاتا تو آج پاکستان متحرک معیشت و معاشرے کے ساتھ ایک فلاحی ریاست ہوتا۔آج پاکستان پوری دنیا کے لیے ایک رول ماڈل اسلامی ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔

  

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو ایک بے مثال رہنما تھے، قائدِ عوام نے اس ملک کے معاشی، سیاسی اور جمہوری ڈھانچے کی بنیادوں کو مساوات پر رکھا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ باتیں جنہیں آج ہم زیادہ اہمیت نہیں دیتے، وہ شہید بھٹو کی مرہونِ منت ہیں، جیسا کہ بالغ حقِ رائے دہی اور آئین کے تحت یکساں حقوق کی ضمانتیں، نقل و حرکت کی آزادی۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا ہے کہ مذہب، سیاسی وابستگی اور یونین سازی کے حقوق، جو متفقہ طور پر منظور کیئے گئے 1973ء کے آئین میں شامل ہیں، اس آئین کی منظوری آج تک اس ملک کی سب سے بڑی جمہوری کامیابی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بھٹو شہید کی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک میں بڑے صنعتی، معاشی اور تجارتی منصوبے وجود میں آئے، قائدِ عوام نے چند ہاتھوں میں جمع ہونے والی دولت کو عوام کے ہاتھوں میں تقسیم کر کے ملک میں انقلاب برپا کر دیا۔

  

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بدقسمتی تھی کہ آمر ضیا نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر پاکستان کو عدم رواداری، انتہا پسندی اور غربت کی دلدل میں دھکیل دیا، قوم پر مسلط ہونے والے آمروں اور ان کے سلیکٹڈ انگائیڈڈ میزائلوں نے جمہوری، معاشرتی اور معاشی تانے بانے کو برباد کیا۔

انہوں نے کہا کہ آمروں اور کٹھ پتلیوں نے اختیارات کو دوبارہ چند لوگوں کے ہاتھوں میں واپس دے دیا، جس کے نتیجے میں ان فوائد کو بھی ختم کر دیا جو عوام کو اختیارات منتقل کرنے سے ہوئے تھے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ ہمیں اس وقت شہید بھٹو کی تعلیمات اور وژن کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے، ملک کو ایک بار پھر حقیقی جمہوریت کی راہ پر گامزن کرنے کی اشد ضرورت ہے۔