حکومت زرداری اور نواز شریف کے مقدمات پر مذاکرات نہیں کر سکتی، فواد چودھری

حکومت زرداری اور نواز شریف کے مقدمات پر مذاکرات نہیں کر سکتی، فواد چودھری
کیپشن:   حکومت زرداری اور نواز شریف کے مقدمات پر مذاکرات نہیں کر سکتی، فواد چودھری سورس:   فائل فوٹو

لاہور: فواد چودھری نے کہا حکومت انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن سے مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن زرداری اور نواز شریف کے مقدمات پر مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا اپوزیشن جماعتیں پہلے وزیراعظم عمران خان اور اب ایک دوسرے کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہیں جبکہ پی ڈی ایم میں شامل پارٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ مخلص نہیں جبکہ آدھی جماعتیں (ن) لیگ اور آدھی پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ تک محدود ہو چکی ہے اور مریم نواز کی غیر ذمہ دارانہ سیاست نے مسلم لیگ (ن) کو پنجاب کے 8 اضلاع تک محدود کر دیا ہے۔

فواد چودھری نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ انتشار کی سیاست چھوڑ کر انتخابی اصلاحات اور دیگر ایشوز پر حکومت کے ساتھ مل کر کام کرے۔ ملک میں الیکشن کمیشن کا نظام درست نہیں کیونجکہ سینیٹ کے انتخابات اور ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں حکومت اور اپوزیشن دونوں نے انتخابی عمل پر اعتراض کیا۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے حکومت کی دعوت کے باوجود اپوزیشن روٹھے ہوئے بچوں کی طرح بیٹھی ہے، حکومت انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن سے مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن زرداری اور نواز شریف کے مقدمات پر مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے علاوہ کسی سیاسی جماعت کے پاس اتنے امیدوار نہیں کہ وہ آئندہ الیکشن میں کھڑے کر سکیں۔ تحریک انصاف ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد امیدوار کھڑے کر سکتی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے پاس ملک بھر میں کھڑے کرنے کیلئے پورے امیدوار بھی نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں کمزور نہ ہوں بلکہ وہ اتنی مضبوط ہوں کہ سیاسی عمل بہتر طریقے سے جاری رکھا جا سکے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ آئندہ قومی انتخابات الیکٹرانک ووٹ مشین کے ذریعے ہوں تاکہ دھاندلی کا امکان ہی ختم ہوجائے اور الیکٹرانک ووٹ مشین کے ذریعے انتخابات ہونے سے پولنگ ختم ہوتے ہی چند منٹوں میں نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے واضح طور پر کہا ہے کہ بیورو کریسی اپنا قبلہ درست کر لے اور جو افسر کام نہیں کرے گا وہ گھر جائیگا کیونکہ اگلے اڑھائی سال میں بیوروکریسی کو کام کرنا ہو گا اور منتخب عوامی نمائندے وژن دیں گے جبکہ عمل درآمد بیوروکریسی کرے گی اور منتخب نمائندوں کی عزت و تکریم بیوروکریسی پر لازم ہوگی۔