عمران خان کی ساڑھے تین سالہ حکومت اور عوام کے سوال

عمران خان کی ساڑھے تین سالہ حکومت اور عوام کے سوال

دنیا میں ہر چیز کی تلافی کی جا سکتی ہے لیکن وقت کی تلافی کبھی نہیں کی جا سکی۔ جن قوموں نے وقت کی اہمیت کو نہیں سمجھا وہ زوال کا شکار ہو گئیں۔ جو قومیں آج ہمیں ترقی یافتہ نظر آتی ہیں انہوں نے اپنے ایک ایک منٹ کی قدر کی ہے۔ پاکستان کو بنے ہوئے 75 برس ہو گئے ہیں لیکن ترقی کی سمت ہی متعین نہیں کی جا سکی۔ بقول شاعر

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

عمران خان نے اپنی 22 سالہ جدوجہد کے دوران قوم کو تبدیلی کے خواب دکھائے۔ غربت، بے روزگاری اور پسماندگی کے بحرانوں میں گھری قوم میں ایک امید پیداہوئی تھی۔ 2018 کے انتخابات میں قوم خاص طور پر نوجوانوں نے تحریک انصاف کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا۔ عمران خان نے قوم سے ایک نئے پاکستان کا وعدہ کیا تھا۔ کرپشن سے پاک پاکستان جہاں امیر اور غریب کے لئے ایک قانون ہو گا۔ دو نہیں ایک پاکستان۔ تحریک انصاف حکومت کی ساڑھے تین سالہ 

کارکردگی کا جائزہ لیں تو لگتا ہے امیر اور غریب کا فرق مزید بڑھ گیا ہے۔ احتساب کا نعرہ لگا وزیر اعظم بننے والے عمران خان قوم کا لوٹا ہوا ایک روپیہ بھی واپس نہیں لا سکے۔ اقتدار میں آ کر بھی وہی باتیں کرتے رہے کہ کرپٹ مافیا کو سزا ملنی چاہیے۔ انہیں جیلوں میں ہونا چاہیے۔ قوم کا سوال یہ ہے کہ یہ باتیں تو آپ اپوزیشن میں بھی کیا کرتے تھے تو اقتدار میں آ کر آپ نے کیا کیا؟ عمران خان نے قوم کو بروقت اور جلد انصاف کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا۔ اقتدار میں آ کر انصاف کی جلد فراہمی کے لیے کیا کیا؟ لوگ پچاس پچاس سال سے عدالتی راہداریوں میں دھکے کھا رہے ہیں لیکن انہیں ان کا حق نہیں مل رہا۔ آپ نے جوڈیشل ریفارمز کے لیے کیا کوششیں کیں۔ کیا عدالتوں پر تنقید کر لینا ہی کافی ہوتا ہے؟ اگر آپ کے پاس ریفارمز اور نئی عدالتوں کے قیام کے لیے اسمبلی میں عددی اکثریت نہیں تھی تو کیا اس کے لیے دیگر معاملات کی طرح ایک صدارتی آرڈیننس جاری نہیں کیا جا سکتا تھا۔ عمران خان کا ایک وعدہ ملک میں میرٹ لانا تھا۔ اس 

معاملے میں اگر تحریک انصاف حکومت اور پچھلے ادوار کا موازنہ کیا جائے تو کوئی فرق نہیں نظر آتا۔ میرٹ کی جس طرح دھجیاں پہلے اڑائی جاتی رہی ہیں اب بھی ایسا ہی ہے۔ کسی شہر کو چلانے کے لیے دو تعیناتیاں بڑی اہم ہوتی ہیں ایک ڈپٹی کمشنر اور دوسرا علاقے کا ایس ایچ او۔ آئے روز یہ الزامات سامنے آتے رہے کہ ٹرانسفر پوسٹنگز عوامی خدمت اور تحفط کے بجائے ذاتی پسند اور ناپسند پر کی جاتی رہی ہیں۔ حالت زار تو یہ ہے کہ تمام تر دعووں کے باوجود ہم اپنے عوام کو پٹوار سسٹم کی چیرہ دستیوں سے نجات نہیں دلا سکے۔ بلکہ واقفان حال بتاتے ہیں کہ رشوت کا ریٹ بڑھ گیا ہے۔ تو عوام حق بجانب ہیں کہ آپ کس انصاف اور کرپشن سے پاک پاکستان کے دعوے دار ہیں؟ عمران خان جب اقتدار میں آئے تو انہوں نے چین، ملائیشیا اور ترکی جیسے نظاموں کی مثالیں پیش کیں۔ ان ملکوں کی ترقی کو وہاں موجود نظام انصاف سے جوڑا۔ میرا ماننا ہے کہ اگر عمران خان چین سے صرف ایک اصول ادھار لے لیتے تو پورا پاکستان مکمل طور پر کرپشن سے پاک ہو جاتا۔ چین میں کرپشن ثابت ہونے پر موت کی سزا دی جاتی ہے۔ آج چین میں کرپشن کا سوچنے والا بھی نہیں ملتا۔ ایک فیصلے نے ڈیڑھ ارب آبادی کے ملک کو غربت سے نکال کر دنیا کی سب سے بڑی معیشت بنا دیا ہے۔ ادھر عمران خان کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے ملک کے لاکھوں پاؤنڈ مبینہ چوروں کے تعاقب میں گنوا دیئے۔ ایک کوڑی بھی وصول نہیں کر سکے۔ آخر میں ہنس کر آئی ایم سوری کہا اور استعفیٰ دے کر چلے گئے۔ کوئی پوچھنے والا ہے کہ قوم کے اربوں روپے لگا کر کچھ نہ ملا اس کا حساب کون دے گا؟ یا تو آپ کا بیانیہ غلط تھا یا پھر آپ کا مشیر نا اہل۔ دونوں صورتوں میں نقصان قوم کا ہوا ہے۔ کپتان نے اپنے پہلے 100 دن کے ایجنڈے میں جن معرکہ آرا تبدیلیوں کا وعدہ کیا تھا۔ قوم آج بھی 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں ڈھونڈ رہی ہے۔ 22 برس کی جدوجہد کے دوران کیا عمران خان ایک ایسی ٹیم نہیں بنا سکے جو ڈلیور کرتی۔ مانگے تانگے کے الیکٹ ایبل کو ساتھ ملا کر اقتدار میں پہنچے جس کا انجام سب کے سامنے ہے۔ ان ساڑھے تین برس میں سمجھ نہیں آیا کہ ریاست چلانے کا سرا کہاں سے پکڑنا ہے۔ پنجاب میں ایک ایسے شخص کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا جس کا صرف تحصیل سطح پر حکومت چلانے کا تجربہ تھا۔ عثمان بزدار کام سیکھتے رہے اور پورا صوبہ گورننس کے شدید بحران کا شکار رہا۔ بالآخر مستعفی ہو گئے۔ بیورو کریسی کو قابو کرنے کے لیے نیب کا استعمال کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں گھاگ بیوروکریسی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔ اس کے نتیجے میں گورننس کے شدید مسائل پیدا ہو گئے۔ عوام وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے شکایت پورٹل پر اپنی دہائیاں دیتے رہے لیکن عملی طور پر کچھ بھی نہ ہو سکا۔ بعد ازاں بیوروکریسی کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی گئی لیکن ناتجربہ کاری کی وجہ سے جو تیر کمان سے نکل چکا تھا وہ واپس آنا ممکن نہیں تھا۔ عمران خان کی حکومت میں ماسوائے نیب کے ادارے مزید کمزور ہوئے۔ عدالتیں، الیکشن کمیشن، پولیس، بیوروکریسی سمیت کوئی بھی کپتان کی تنقید سے نہ بچ سکا۔ عمران خان صاحب وزیر اعظم بننے کے بعد عوام کی توقع تھی کہ آپ اصلاحات کا ایجنڈا نافذ کریں گے لیکن افسوس آپ تو اپوزیشن والے رول سے ہی نہ نکل سکے۔ کپتان سے صرف ملک کے اندر ہی نہیں بلکہ بیرون ملک پاکستانیوں کو بھی بڑی امید تھی۔ عمران خان کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے دل کھول کر پیسہ دیا۔ تاکہ ملک میں تبدیلی لائی جا سکے۔ کل کو ان کے بچے محفوظ مستقبل کی ضمانت پر وطن واپس آ سکیں۔ آج سب سے زیادہ مایوس بھی یہی لوگ ہیں۔ ان کا بھجوایا گیا پیسہ کیسے آیا اور کہاں استعمال ہوا۔ اس کا جواب ابھی تحریک انصاف نے فارن فنڈنگ کیس میں دینا ہے۔ عمران خان کے وعدوں اور ان کی عدم تکمیل پر ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ دکھ اس بات کا نہیں کہ یہ وعدے پورے نہیں ہوئے۔ غم یہ ہے کہ عام آدمی کے خواب ٹوٹے ہیں۔ اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔ اگر عمران خان طیب اردوان اور مہاتیر محمد کی طرح صرف اور صرف عوام کے لیے کام کرتے تو اس طرح بے بس نہ ہوتے۔ عوام کا ایک سمندر ان کے پیچھے کھڑا ہوتا ہے۔ مہنگائی کے ہاتھوں شکستہ عوام میں اتنی ہمت نہیں کہ اب وہ کسی تبدیلی کے خوش کن نعرے کے پیچھے خوار ہوں۔

مصنف کے بارے میں