متحدہ اپوزیشن کا اسمبلی بحال کر کے انتخابی اصلاحات کے بعد نیا الیکشن کرانے کا مطالبہ

متحدہ اپوزیشن کا اسمبلی بحال کر کے انتخابی اصلاحات کے بعد نیا الیکشن کرانے کا مطالبہ

اسلام آباد: متحدہ اپوزیشن نے اسمبلی بحال کرنے اور انتخابی اصلاحات کے بعد نیا الیکشن کرانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ کل عمران نیازی نے ملک میں سول مارشل لاءنافذ کیا جبکہ بلاول بھٹو زرداری بولے اعلیٰ عدلیہ ضیاءاور مشرف کا مارشل لاءنہیں روک سکی، عدلیہ سے امید اور درخواست ہے کہ عمران خان کے مارشل لا کو روکیں۔ 

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیقی اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کل کا دن پاکستان کی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، عمران نیازی نے غیرآئینی سول مارشل لاءنافذ کیا۔ آرٹیکل 5 کے زمرے میں کوئی چیز آرہی تھی تو سپیکر نے تحریک 24 مارچ کو کیوں منظور کی، اس تحریک میں کسی قسم کا ردوبدل ممکن نہیں تھا اور گزشتہ روز اسے ووٹنگ کیلئے پیش کیا جانا تھا۔ 

شہباز شریف نے کہا کہ ہمارے سفیر نے 16 مارچ کو الوداعی ڈنر دیا جس کی انہوں نے ٹوئٹ بھی کی جبکہ اس ڈنر میں سفیر نے متعلقہ امریکی عہدیدار کو بھی بلایا جس پر دھمکی کا الزام ہے، ہمارے سفیر نے اپنے ٹویٹ میں ڈونلڈ لو کا اچھے تعلقات اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور ان کے حواریوں نے آئین کی خلاف ورزی کی، بالکل اسی طرح 3 نومبر 2007 کو پرویز مشرف نے بھی یہی حرکت کی تھی۔ کل اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کو آناًفاناً فلور دیا اور انہوں نے کاغذ پر لکھا ہوا آرڈر پڑھا، عمران نیازی کی فسطائی سوچ غالب آئی اور سپیکر کو آلہ کار بنا کر اسے استعمال کیا گیا۔ یہ بات درست ہے کہ ایوان کی کارروائی کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا لیکن وہاں آئین کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں کیا اس کو کوئی تحفظ حاصل ہے؟

صدر مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد پر اگر کوئی اعتراض تھا تو لیوگرانٹ کیوں کی گئی، تحریک کو کل ہر صورت ووٹنگ کیلئے پیش کیاجانا تھا اور اٹارنی جنرل نے بھی کہا تھا کل ہر صورت ووٹنگ ہو گی جبکہ تحریک میں کسی قسم کا ردو بدل ممکن نہ تھا ، عدالت نے کل کہا ماورائے عدالت کام نہ کیا جائے مگر عمران نیازی ماورائے آئین اقدام تو کل اٹھا چکا۔ 

انہوں نے کہا کہ عمران نیازی اپنی سیاسی شکست کا سامنا نہیں کرسکتے تھے جس کے باعث انہوں نے جمہوریت کو مسخ کیا، آئین شکنی کی جس کے باعث کل رات سے قوم ایک ویکیوم میں جا رہی ہے۔ عمران نیازی نے سازشی ذہن کے ساتھ آئین توڑا اور ہمیں غدار بنا دیا، یہ آئین پاکستان کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔ صدر، عمران خان اور ڈپٹی سپیکر نے آئین شکنی کی ہے، ہم تو آئین پر عمل کررہے ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ صدرکے غیر آئینی خط کا جواب دیں، آئین شکن صدر کے خط کا جواب کیسے دیں۔

اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ ضیاءاور مشرف کا مارشل لاءنہیں روک سکی، عدلیہ سے امید اور درخواست ہے کہ عمران خان کے مارشل لا کو روکیں، ہماری درخواست ہے، عدلیہ سے کہتے ہیں آپ کے فیصلے سے ملک کی قسمت لکھی جائے گی، عمران نے جو یہ کام کیا ہے آپ کا فیصلہ یہ فیصلہ سنائے گاکہ کیا ہمارا آئین ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے یا وہ اسلامی جمہوری وفاقی نظام کو جوڑنے والی دستاویز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم آئین کا دفاع کرتے رہیں گے لیکن جو کل ہوا ہے اعلیٰ عدلیہ سے درخواست ہے کہ اس آئینی بحران کو ایڈجسٹ کرنے کیلئے فل کورٹ بینچ تشکیل دیا جائے، فل کورٹ بینچ اس کا فیصلہ سنائے، ہمیں اگر پھانسی چڑھانا ہے تو چڑھا دیں لیکن عدم اعتماد پر ووٹنگ کرا دیں۔ اگر ہم قومی اسمبلی میں آئین نافذ نہیں کر سکتے تو ملک میں بھی نہیں کر سکتے، ہم سب خوش ہیں عمران خان کی حکومت ختم ہوگئی۔

مصنف کے بارے میں