عمران خان طالبان سے مذاکراتی عمل ، افغانستان میں قیام امن کیلئے موثر کردار ادا کر سکتے ہیں :اکانومی واچ

09:12 PM, 4 Aug, 2018

اسلام آباد:پاکستان اکانومی واچ نے عمران خان کو افغانستان میں قیام امن اور طالبان سے مذاکرات میں اہم شخصیت قرار دے دیا اور امریکہ پر زور دیا کہ وہ جنگ ترک کر کے مذاکرات کی میز پر آئے ۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضٰی مغل نے کہا کہ عمران خان طالبان سے جنگ کی بجائے مذاکرات کے حامی تھے ، طالبان ان کی بات کو کافی اہمیت دیں گے ۔

یہ بھی پڑھیئے:لاہور ہائیکورٹ نے این اے 131 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا
 
 
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ممکنہ وزیراعظم طالبان سے مذاکرات اور افغانستان میں قیام امن کے لیے کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں کیونکہ طالبان ان کی بات سنتے ہیں، امریکہ بھی گزشتہ سترہ سال سے افغانستان میں بندو ق کی نوک پر کامیابی حاصل نہیں کر سکا ہے ، اس کو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا ۔

 

ڈاکٹر مرتضٰی نے کہا کہ عمران خان کے نظریات اور دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کی کھلی مخالفت کی وجہ سے طالبان انکی بات پر توجہ دینگے جس سے امریکہ فائدہ اٹھائے جس کے لئے پاکستان کو اقتصادی تباہی کی طرف دھکیلنے اور تمام اقدامات کو افغانستان کے تناظر میں دیکھنے کی پالیسی بدلنا ہو گی۔

افغان مسئلے کے حل کیلئے امریکہ کے پاس پاکستان کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے ،  طالبان سے قطر کے بجائے پاکستان میں مذاکرات سے معاملات جلد حل ہو سکتے ہیں جس سے پاکستان میں دہشت گردی منشیات اور مہاجرین کی آمد کم ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیئے:ملک میں ڈیموں کی تعمیر لازمی امر، سازشوں کے سر کچلنے ہوں گے : چیف جسٹس
 

انھوں نے کہا کہ طالبان سے  مذاکرات عمران خان کی ترجیح ہے جس کا اظہار وہ متعدد بار کر چکے ہیں اور وہ اس معاملہ میں پاکستان کے مفادات پر کسی قسم کی سودے  بازی کے بغیر امریکہ کی مدد کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔

طالبان کیلئے نرم گوشہ ان کی کمزوری نہیں طاقت ہے جو امریکہ کیلئے افغانستان سے باہر نکلنے کا ایک سنہری موقع ہے جسے گنوانے پر افغانستان میں اسکی شکست یقینی ہے ، ان معاملات پر غور کرنے سے پاک امریکہ تعلقات میں گرمجوشی آ سکتی ہے جبکہ پاکستان کے بہت سے سنگین مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

مزیدخبریں