افغانستان کا نیا منظر نامہ

Ghulam Nabi Madni, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

گزشتہ 4 مہینوں سے افغانستان میں گھمسان کی جنگ  جاری ہے۔امریکا نیٹو کے فوجی انخلا کے ساتھ ہی افغان طالبان نے کارروائیاں تیز کر دیں۔ گزشتہ چار مہینوں میں  طالبان کو 230سے زائد اضلاع پر قبضہ کرنے کا موقع ملا۔افغانستان کے 425اضلاع میں سے طالبان کے پاس 310 سے زائد اضلاع ہیں،جب کہ کابل حکومت کے کنٹرول میں محض 70 اضلاع ،باقی پر قبضے کی جنگ جاری ہے۔افغان طالبان کے ذرائع بتاتے ہیں کہ گزشتہ چار مہینوں میں کابل حکومت کے 15ہزار سے فوجی پولیس اہلکار اورسرکاری عہدیدار ان کے سامنے سرنڈر ہوئے ہیں، جب کہ ان چار مہینوں میں طالبان کے ساتھ مقابلے میں لگ بھگ 5ہزار کابل فوجی ہلاک زخمی یا قیدی بنے ہیں۔دوسری طرف کابل حکومت کی وزارت امن و صلح کے مطابق گزشتہ چار ماہ میں 24 ہزار سے زائد طالبان قتل یا زخمی کیے گئے ہیں۔افغا ن طالبان کابل حکومت کے ان دعووں کی تردید کرتے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں ان کے مجاہدین کو قتل کرنا کابل حکومت کے بس میں نہیں ہے۔

دوسری طرف امریکا نے اگست کے آخر تک مکمل فوجی انخلا کا عندیہ دیا ہے۔افغانستان کے 34صوبوں میں سے صرف کابل صوبے اور کابل دارالحکومت میں ہی امریکی افواج موجود ہیں۔تقریباً 600 کے قریب امریکی فوجی کابل میں موجود ہیں،گزشتہ دنوں خاموشی سے کابل میں واقع ایک امریکی فوجی چھاؤنی سے300 سے زائد امریکی فوجی روانہ ہوئے ہیں جن کے بارے کابل کو خبرتک نہیں کی گئی جس طرح بگرام ائیربیس سے امریکی افواج کے انخلا کے وقت افغان فوج کو بتایا تک نہیں گیا تھا۔کابل حکومت کے صدر اشرف غنی نے موجودہ صورتحال کی ذمہ داری امریکا پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے امریکا کو بتایا تھا کہ فی الحال فوجی انخلا نہ کریں کیوں کہ طالبان افغانستان کے شہروں پر قبضہ کرسکتے ہیں لڑائی بڑھا سکتے ہیں۔اشرف غنی نے پارلیمنٹ کے حالیہ اجلاس میں طالبان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ 6 ماہ کے اندر طالبان کا صفایا کردیا جائے گا،ایک بھی طالب زندہ نہیں چھوڑا جائے گا،6 ماہ تک  افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوجائے گی۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اشرف غنی کی اس نئی دھمکی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کرپٹ اور امریکی ایجنٹوں کا وقت ختم ہوگیا ہے،6ماہ تک اشرف غنی حکومت کا خاتمہ کرکے پورے افغانستان پر اسلامی امارت کو بحال کردیا جائے گا۔دوسری جانب سابق کابل صدر حامد کرزئی نے اپنے تازہ انٹرویو میں امریکا کو الزام دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کو جنگ پر امریکا نے اکسایا ہے،امریکا اگر طالبان کے گھروں پر بمباری نہ کرتا تو وہ دوبارہ جنگ نہ کرتے،طالبان پرامن ہوگئے تھے لیکن امریکا نے طالبان کو اشتعال دلایا ہے۔اس سے قبل حامد کرزئی امریکا کو شکست خوردہ قرار دے چکے ہیں کہ امریکا افغانستان کی جنگ ہار چکا ہے۔کابل حکمرانوں کے متضاد اور مضحکہ خیز دعوے تو جاری ہی ہیں،ادھر امریکا نیٹو  کابل فضائیہ کی ہلمند ہرات قندھار اور دیگر صوبوں میں وحشیانہ بمباری جاری ہے،جس میں مساجد مدارس ہسپتال عوامی املاک سمیت سرکاری عمارتوں کوبھی تباہ کیا جارہاہے۔طالبان کے ذرائع بتاتے ہیں ہلمند ہرات میں بھارتی جنگی جہاز بھی بمباری کررہے ہیں۔ہلمند کا مشہور ہسپتال آریا نا بھارت ہی کے جنگی جہازوں کی بمباری سے تباہ کیا گیا ہے۔طالبان ذرائع بتاتے ہیں کہ بھارت نے کابل فضائیہ کے جنگی جہازوں کا کلر بھارتی جہازوں پر کرکے بمباری شروع کررکھی ہے۔کابل میں واقع امریکی ایمبیسی طالبان کو نہتے شہریوں کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے،دوسری طرف ہرات میں اسماعیل خان ملیشیا کے سربراہ کو فون کرکے امریکی سفیر داد دے رہے ہیں کہ امریکا نیٹو طالبان کے خلاف لڑائی میں مکمل 

حمایت اور سپورٹ کرے گا۔یہ سطور تحریر کرتے وقت کا منظرنامہ کچھ اس طرح ہے کہ ہلمند کے مرکزی شہر لشکرگاہ میں 5 دنوں سے جب کہ ہرات کے مرکزی شہر میں 6 دنوں سے شدید لڑائی جارہی ہے۔طالبان ہلمند کے لشکر گاہ کے اہم علاقوں پر قبضہ کرچکے ہیں۔سرکاری ٹیلی ویژن سمیت 14ریڈیواسٹیشن پر بھی قبضہ کرچکے ہیں جہاں سے وائس آف شریعہ کے نام سے 20 سال بعد امارت اسلامی کی نشریات بھی بحال کی جاچکی ہیں۔جب کہ کابل حکومت نے بھی سیکڑوں فوجی کمانڈوز دستے طالبان سے لڑنے کے لیے ہلمند ہرات پہنچائے ہیں۔طالبان نے بھی بھرپور طاقت سے ہلمند ہرات پر چڑھائی کررکھی ہے۔امریکی ذرائع ابلاغ پر رپورٹس نشر ہورہی ہیں کہ طالبان ہلمند ہرات پر قبضے کے بعد کابل کا رخ کریں گے اور کابل پر بھی قبضہ کرلیں گے۔

دوسری جانب طالبان کی سیاسی قیادت سے مختلف ممالک رابطہ بحال کرکے مستقبل کے سفارتی تعلقات کے لیے معاہدے کررہے ہیں۔چین  نے پہلی بار طالبان کی سیاسی قیادت کو بیجنگ کی دعوت دی جہاں چینی وزیرخارجہ وانگ ژئی نے طالبان سیاسی سربراہ ملاعبدالغنی برادر کا پرجوش استقبال کیا  اور افغانستان کی سرزمین سے چین پر حملے نہ ہونے کی ضمانت طلب کی۔طالبان قیادت نے چینی قیادت کو اعتماد دلایا کہ افغانستان کی سرزمین قطعاً چین یا کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ طالبان صوبہ بدخشاں میں واخان ضلع پر قبضہ کرچکے ہیں،جہاں پرپاکستان چین کا تاریخی منصوبہ واخان کوریڈور  بنایا جائے گا،جس سے پاکستان سنٹرل ایشیا اور یورپ تک باآسانی جاسکے گا۔اس واخان کوریڈور کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے ذریعے پاکستان تاجکستان اور دیگر سنٹرل ایشیائی ریاستوں سے جڑے گا تو چین کا زمینی رابطہ افغانستان اور خلیجی اور مشرقی ایشیائی ریاستوں سے ممکن ہوسکے گا۔چین ایران کے ساتھ 420 ارب ڈالر کے معاہدے کرچکاہے،عراق میں بھی چین کی بھاری سرمایہ کاری جاری ہے۔چین کا خواب ہے کہ عراق ایران سے پٹرول گیس کی پائپ لائن افغانستان اور پاکستان کے ذریعے چین تک لائی جائے۔اس کے لیے چین افغانستان میں سکیورٹی صورتحال بہتر کرنا چاہتاہے۔طالبان قیادت سے حالیہ ملاقات میں مستقبل کے تجارتی معاشی منصوبوں پر چین نے کھل کر بات کی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق چین افغانستان میں 60 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کرنا چاہتاہے۔طالبان قیادت سے اس حوالے سے چینی وزیرخارجہ نے بات کی ہے۔طالبان قیادت نے چین کو سرمایہ کاری کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی ہے۔پاکستان کے سی پیک اور گوادر پورٹ کی کامیابی کے لیے بھی افغانستان میں امن واستحکام ضروری ہے اس کے لیے پاکستان بھرپور جدوجہد کررہاہے۔دوسری طرف روس کے لیے بھی افغانستان میں امن بہت ضروری ہے۔روس نے تاجکستان میں افغانستان سے ملحقہ سرحدو ں پر روسی فوج اور جنگی اسلحہ منتقل کیا ہے۔تاکہ خانہ جنگی اور داعش بلیک واٹرز سی آئی اے را ایجنسی اور دیگر کرائے کے قاتلوں کے ذریعے روس کی پڑوسی ریاستوں میں انتشار فساد نہ پھیلے۔روس نے کابل انتظامیہ اور امریکا پر الزام عائدکیا ہے کہ طالبان جب داعش کے خلاف آپریشن کرتے ہیں تو امریکا اور افغان فوج داعش کو بچانے میدان میں آجاتی ہے۔چینی صدر شی جن پنگ نے بھی پیپلز لبریشن آرمی کی حالیہ کانفرنس میں فوج کو افغانستان سرحدوں پر متحرک رہنے اور تیاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کیوں کہ امریکی انخلا کے بعد خانہ جنگی کے خطرات سے چین متاثر ہوسکتاہے۔اسی طرح پاکستان نے بھی پاک افغان باڈر پر مستقل فوجی دستے متعین کردیے ہیں جس سے سمگلنگ دہشت گردی اور تخریب کاری میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔افغانستان کے پڑوسی ملک تاجکستان ازبکستان ترکمانستان ایران کی فوجیں بھی ہائی الرٹ ہیں،تاجک ازبک فوجوں نے مشترکہ فوجی مشقیں افغان سرحد پر شروع کررکھی ہے۔

اس ساری صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ افغانستان کا امن خطے کے امن کے لیے بہت ضروری ہے۔مشرق ومغرب کے دوبلاکوں کی باہمی کشمکش میں افغانستان مرکزی کردار ادا کررہاہے۔افغانستان میں طالبان کی گرفت مضبوط ہے اور کابل حکومت آخری سانسیں لے رہی ہے۔افغانستان میں طالبان حکومت سے کئی پڑوسی ملکوں کو فائدہ ہو گا خصوصاً پاکستان ایران چین کو۔اسی لیے ان تینوں ملکوں کے خلاف کابل انتظامیہ بار بار الزامات لگارہی ہے کہ یہ تینوں ملک طالبان کو سپورٹ کررہے ہیں۔