بھٹو، ولی خان، مفتی محمود، نواز شریف یا عمران خان: غدار کون؟

بھٹو، ولی خان، مفتی محمود، نواز شریف یا عمران خان: غدار کون؟

ہمارے سیاسی کلچر میں اپنے مخالف سیاستدانوں کے خلاف سب سے زیادہ استعمال ہونے والا سنگین ترین الزام ’’غداری‘‘ ہے اور اس الزام کے بعد متعلقہ سیاسی پارٹی کو کالعدم قرار دے کر اس پر پابندی کا مطالبہ معمول کی بات ہے۔ تازہ ترین واقعہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن کے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے متعصبانہ فیصلے کے بعد ان کے مخالفین نیشنل میڈیا پر آ کر عمران خان کو ’’غدار‘‘ قرار دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے الیکشن کمیشن میں فنڈز کے حوالے سے جو تفصیل میں نے دیکھی ہے اس کے مطابق ہر جماعت نے تکنیکی غلطیاں کی ہیں لیکن سب سے بُرا حال جے یو آئی کا ہے اور جب الیکشن کمیشن نے ان جماعتوں کے فیصلے بھی شفاف اور پی ٹی آئی کے پیٹرن پر کیے تو یہ سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہو گا اور یہ جماعتیں بھی غدار ٹھہریں گی۔ پی ٹی آئی کے خلاف غداری مہم میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، مولانا فضل الرحمان، ایم کیو ایم اور اے این پی پیش پیش ہیں۔ 

ریکارڈ کے لیے عرض ہے کہ اس موقع پر ذوالفقار علی بھٹو جیسے غدار کو بھی یاد کر لیں جس نے ’’اِدھر ہم اُدھر تم‘‘ کا نعرہ لگا کر پاکستان کے دو ٹکڑے کیے۔ NAP پر پابندی لگائی اور اپنے مخالفین کو کچلا۔ بھٹو نے ایٹمی طاقت بنانے سمیت اچھے کام بھی کیے ہوں گے جن کی تعریف کی جانی چاہیے۔ لیکن قائداعظم کے پاکستان کے محض اپنے اقتدار کے لیے دو ٹکڑے کرنے کی سازش میں شامل ہونا سب سے بڑا گناہ ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت ذوالفقار علی بھٹو نے شیخ مجیب اور ان کی جماعت پر غداری کا فتویٰ دیا۔ البتہ خان عبدالولی خان نے شیخ مجیب کے مینڈیٹ کی حمایت کی اور بعد میں سزا بھی بھگتی۔

پاکستان کی سیاسی جماعتوں پر پابندی کی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن وقت نے ثابت کیا کہ جس جس نے ایسا کیا بعد میں اسے اپنا تھوکا چاٹنا پڑا جس میں ایوب خان ، ملٹری ڈکٹیٹرز یحییٰ خان، سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف، مولانا فضل الرحمان کی مثال دی جا سکتی ہے۔ جس NAP کو ذوالفقار علی بھٹو نے غدار قرار دے کر اس کے لیڈر خان عبد الولی خان کو پابند سلاسل کیا اسے عزت ملی ایک آمر ضیا الحق نے اسے باعزت رہا کیا اور بعد میں پیپلز پارٹی نے اپنے تھوکے کو چاٹتے ہوئے اسی غدار NAP کی نئی شکل ANP سے اتحاد کیا۔ پاکستان میں اس کی مثالیں موجود ہیں جہاں اپنے 

وقت کی ایک سیاسی جماعت نیشنل عوامی پارٹی (NAP) کو اس وقت کے حکمرانوں کی جانب سے ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگانے کے بعد دو مرتبہ فعال سیاست میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔

اگرچہ پہلے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور دوسرے پاکستانی صدر ایوب خان نے 1962 میں اقتدار میں آنے کے بعد چار سال تک تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کیے رکھی تھی، لیکن صرف نیشنل عوامی پارٹی کو 26 نومبر 1971 اور فروری کو دو بار ڈی نوٹیفائی کیا گیا۔ تیسرے صدر آغا یحییٰ خان اور پھر بالترتیب ملک کے نویں وزیر اعظم اور چوتھے سربراہ مملکت ذوالفقار علی بھٹو کے ذریعے بھی یہ حرکت کی گئی۔ NAP بالآخر 1986 میں عوامی نیشنل پارٹی (ANP) کے طور پر سیاسی میدان میں سامنے آئی تھی، لیکن اس سے پہلے اسے پاکستان کے طاقتور حکمرانوں سیاسی وعسکری کی طرف سے بہت زیادہ سیاسی مار پڑی تھی۔ 26 نومبر 1971 کو یحییٰ خان نے سابقہ مشرقی پاکستان میں ملٹری آپریشن کی مخالفت اور شیخ مجیب الرحمان کی حمایت کے الزام پر NAP پر پابندی عائد کر دی۔ لیکن دسمبر 1971 میں بر سر اقتدار آنے کے بعد بھٹو نے یہ پابندی ہٹا دی جس کو خان عبدالولی خان نے سراہا۔ لیکن پھر اسی بھٹو نے فروری 1975 میں NAP کو ایک بار پھر کالعدم قرار دیا اور سپریم کورٹ میں اس کے خلاف ریفرنس بھی فائل کیا جو کہ ’’حیدرآباد سازش کیس‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔

ضیا الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹا تو ملک کی تمام سیاسی قوتوں نے پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان کو غدار ٹھہرایا۔ پھر وقت بدلا مفتی محمود، نوابزادہ نصراللہ خان، خان عبدالولی خان، طفیل محمد اور دیگر نے اپنا تھوکا چاٹا اور پھر بھٹو کی یپپلز پارٹی کو گلے لگا لیا۔ جب سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھارت سے روابط بڑھائے اور نریندر مودی سمیت بھارتی قیادت کو بغیر ویزے کے اپنے رائیونڈ فارم میں مدعو کیا تو اسی پیپلز پارٹی اور مخالفین نے نواز شریف کو غدار ٹھہرایا۔ اس کے علاوہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف غداری کے ترانے گاتی رہیں، یہ بھی ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو نے مفتی محمود اور خان ولی خان کی صوبہ سرحد اور بلوچستان کی حکومتیں ختم کیں تو اسے بھی پاکستان سے غداری سے موسوم کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان ماضی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو غداری سمیت جن الفاظ سے یاد کرتے رہے ہیں، بعد میں ایک دوسرے کا تھوکا چاٹتے ہوئے پیپلز پارٹی سمیت یہ سب آج پی ڈی ایم اور حکومت میں اکٹھے ہیں۔

کراچی ایئرپورٹ پر نومبر 1970 میں مبینہ طور پر جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے پی آئی اے کے ڈرائیور فیروز عبداللہ نے استقبالی تقریب کے دوران پولینڈ کے وفد پر بس چڑھا دی جس میں پولش ڈپٹی وزیر خارجہ زگفرائڈ والنیکا جاں بحق ہو گئے۔ اس کا اصل ٹارگٹ پولش صدر ماریان سکلاسکی تھے جو خوش قسمتی سے بچ گئی۔ ایک شخص کے انفرادی فعل کو تب بھی جماعت اسلامی کی غداری سے موسوم کیا گیا لیکن یہ سب الزام ہی ٹھہرا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کے حوالے سے اس ساری تفصیل کا مقصد یہ ہے کہ تکنیکی طور پر غداری کے الزام اور سیاسی جماعتوں کو کالعدم قرار دینے کے عمل کو کبھی پذیرائی نہ مل سکی اور بالآخر جس پر الزام لگا وہ سرخرو ہوا اور الزام لگانے والوں کو تھوکا چاٹنا پڑا۔ بہتر ہے سیاستدان اپنے مخالفین کا مقابلہ سیاسی میدان میں کریں نہ کہ اداروں یا تکنیکی خامیوں کے پیچھے چھپ کر، ورنہ سب کو اپنا تھوکا چاٹنا پڑے گا۔

کالم کے بارے میں اپنی رائے 03004741474 پر وٹس ایپ کریں۔

مصنف کے بارے میں