ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران بھارت اور افغانستان کی پاکستان کے خلاف زہر افشانی

امرتسر: ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کے خلاف زہر افشانی کرتے ہوئے دہشت گردوں کی معاونت اور سرپرستی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔
ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا دوسرے روز وزارتی سطح کی کانفرنس کا باقاعدہ آغاز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور افغان صدر اشرف غنی نے کیا۔ اس موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے شرکت پر تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا لیکن ساتھ ہی پاکستان کا نام لئے بغیر دہشت گردوں کی معاونت کا الزام بھی عائد کرتے رہے۔
نریندر مودی کا کہنا تھا کہ خطے کو بدامنی کے چیلنج کاسامنا ہے جب کہ دہشت گردی افغانستان کے امن اور استحکام کے لئے خطرہ ہے، خطے میں امن کے لئے افغانستان میں قیام امن ضروری ہے جب کہ ہماری توجہ افغانستان اور اس کے شہریوں کو محفوظ بنانے پر ہے، ہمیں مل کر دہشت گردی کے نیٹ ورک کو توڑنا اور سرپرستی کرنے والوں کو روکنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے بھرپور عزم کی ضرورت ہے، دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ممالک کے درمیان روابط بڑھانا ہوں گے جب کہ دہشت گردی میں تعاون کرنے والوں کے خلاف لازمی کارروائی کی ضرورت ہے۔افغان صدر اشرف غنی کا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ افغانستان کو سیکیورٹی کے شدید خطرات لاحق ہیں اور یہ کانفرنس بھی افغانستان کودرپیش خطرات کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔
اشرف غنی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر براک اوباما، ترک صدر رجب طیب اردوان اور دیگر عالمی رہنماں کی افغان مسئلے پر توجہ کے شکر گزار ہیں۔ اشرف غنی نے ایک بار پھر پاکستان پر طالبان کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سرکردہ طالبان رہنما نے پاکستان کی جانب سے مدد ملنے کا اعتراف کیا۔
پاکستان کی جانب سے افغانستان کی تعمیرنو کے لیے 50 کروڑ ڈالرفنڈ کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن دہشت گردی ختم ہوئے بغیر پاکستان کی امداد کا فائدہ نہیں۔اشرف غنی کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کے لیے خطے میں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، بھارت بغیر کسی شرائط کے ہماری مدد کرتا ہے۔
افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے الزام لگایا کہ پاکستان افغان طالبان کو پناہ دے رہا ہے۔ طالبان تحریک کے ایک سرکردہ رہنما کاکازادہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ اگر ان کے پاکستان میں ٹھکانے نہ ہوں تو وہ ایک ماہ میں ہی ختم ہوجائیں پاکستان نے افغانستان کے لئے 50 کروڑ ڈالرز امداد کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان یہ امداد دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے استعمال کرے کیونکہ امن کے بغیر امداد کی کوئی بھی رقم افغان عوام کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی۔افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ افغانستان کو سکیورٹی کے شدید خطرات درپیش ہیں۔ افغان صدر کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت ملک میں دیرپا قیام امن اور استحکام پر توجہ دے رہی ہے۔