اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:اثاثہ جات ریفرنس میں اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق دائر نیب ریفرنس کی سماعت کے دوران ان کے وکیل نے آج احتساب عدالت میں اپنے موکل کی میڈیکل رپورٹ جمع کروائی۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران اسحاق ڈار کے وکیل قوسین فیصل مفتی نے ان کا میڈیکل سرٹیفکیٹ احتساب عدالت میں پیش کیا۔


میڈیکل رپورٹ کے مطابق اسحاق ڈار کو سینے میں تکلیف کی شکایت ہے اور ان کی شریان 45 سے 50 فیصد سکڑ گئی ہے۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آئندہ ہفتے اسحاق ڈار کا حتمی ٹیسٹ ہونا ہے لہذا انہیں کچھ وقت اور دے دیا جائے۔ اسحاق ڈار کے وکیل کا کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ برطانیہ میں ان کا طبی معائنہ کر سکتا ہے اور عدالت چاہے تو دفتر خارجہ کو احکامات دے سکتی ہے۔ اسحاق ڈار کے وکیل نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل اگلے ہفتے ایم آر آئی کرائیں گے۔

سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم جان بوجھ کر عدالت سے فرار ہے اور ہر بار ایک جیسی ہی میڈیکل رپورٹ پیش کی جاتی ہے جبکہ عدالت ایسی میڈیکل رپورٹس پہلے بھی مسترد کر چکی ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ ملزم عدالت کا وقت ضائع کر رہا ہے ایک ماہ گزر گیا ملزم کی ایم آر آئی نہیں کرائی جا سکی۔ تازہ میڈیکل رپورٹ بھی برطانوی قانون سے مطابقت نہیں رکھتی ہر سماعت پر کہہ دیا جاتا ہے ملزم کا ٹیسٹ ہونا ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ منسٹر انکلیو کے بنگلہ نمبر 18 پر بھی عدالتی نوٹس لگایا گیا اور اسحاق ڈار کے اشتہارات فیض آباد اڈے پر بھی لگائے گئے انہیں تمام عدالتی کارروائی کا مکمل علم ہے لہذا اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دیا جائے۔جس پر اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل نے کبھی نہیں کہا وہ عدالت میں پیش نہیں ہونا چاہتے۔

اثاثہ جات ریفرنس میں اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

کیس کی 29 نومبر کو ہونے والی گذشتہ سماعت پر احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کے ضامن احمد علی قدوسی کو ملزم کو پیش کرنے اور جواب داخل کرانے کے لیے آج (4 دسمبر کو) طلب کیا تھا۔

ملزم کی مسلسل غیر حاضری پر عدالت نے کہا تھا کہ ضامن بتائے کہ اسحاق ڈار کی غیر حاضری پر کیوں نہ 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے ضبط کر لیے جائیں۔ اس سے قبل 21 نومبر کو ہونے والی سماعت کے دوران مسلسل عدم پیشی پر اسحاق ڈار کو مفرور قرار دے دیا گیا تھا۔