کلبھوشن یادیو کیس سے متعلق پاکستان نے بھارتی دعوی مسترد کر دیا

کلبھوشن یادیو کیس سے متعلق پاکستان نے بھارتی دعوی مسترد کر دیا

اسلام آباد: پاکستان نے کلبھوشن یادیو سے متعلق بے بنیاد اور جھوٹے بھارتی دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چودھری کے مطابق بھارتی خارجہ امور کی وزارت کا کلبھوشن یادیو کے خلاف قانونی کارروائی پراعلامیہ بے بنیاد ہے۔ یہ شاہد ہے کہ بھارت ہائی کمیشن کے وکیل پر اعتراضات اٹھا کر مقدمہ کی قانونی کارروائی سے فرار چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی سرکار ذہن میں رکھے کہ پاکستان نے عالمی عدالت برائے انصاف کے فیصلے پر من و عن عمل کیا ہے اور اس فیصلے کی روشنی میں بھارتی ہائی کمیشن کو بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے ملنے کی اجازت دی گئی۔ 

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ اس فیصلے کی ہی روشنی میں بھارت کے ہائی کمیشن کو کلبھوشن یادیو کے لئے وکیل کرنے کو کہا گیا اور یہ سہولت دینے کا مقصد ہی قانونی کارروائی کو آگے بڑھانا تھا.

زاہد حفیظ چودھری نے کہا سفارتی سطح پر ہونے والی گفتگو میں بھارتی ہائی کمیشن نے وکیل مقرر کرنے انکار کیا تھا۔ ہائی کمیشن کے خیال میں وکیل مقرر کرنے سے بھارت کا استثنی کا حق ختم ہو جائے گا۔ بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث پاکستان کو جاسوس کلبھوشن کے خلاف قانونی کارروائی آگے بڑھانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو آگاہ کیا کہ ماضی میں شہری محمد اسماعیل کے لیے بھارتی ہائی کمیشن نے مسٹر نون کو وکیل مقرر کیا، بھارتی وزارت خارجہ کے جھوٹے بیان کے برعکس کلبھوشن کے کیس کو اسماعیل کیس کے تناظر میں دیکھنے کی زحمت نہیں کی گئی، یہ دونوں کیس مختلف نوعیت کے تھے، اسماعیل کیس کا حوالہ صرف بھارتی ہٹ دھرمی ظاہر کرنے کے لیے دیا گیا۔

زاہد حفیظ چودھری نے بتایا کہ پاکستان پہلے بھی دو بار بھارتی ہائی کمیشن کو قونصلر رسائی دے چکا ہے۔ پاکستان نے کیس پر نظرثانی اور از سر نو غور کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے ، بھارئی ہائی کمیشن کو تیسری بار کلبھوش تک رسائی دینے کی پیشکش موجود ہے، بھارت تاخیری اور اوچھے ہتھکنڈے استعال کرنے سے گریز کرے، بھارت ایسے ہتھکنڈوں کی بجائے کلبھوشن کیس میں عملی اقدامات کرے۔