سانحہ ساہیوال، جےآئی ٹی سربراہ کو دوپہر تک رپورٹ جمع کرانے کا حکم

سانحہ ساہیوال، جےآئی ٹی سربراہ کو دوپہر تک رپورٹ جمع کرانے کا حکم
جوڈیشل کمیشن بنانا وفاقی حکومت کا اختیار ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

لاہور: سانحہ ساہیوال میں جاں بحق خلیل کے بھائی کی درخواست پر سماعت کی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ جوڈیشل کمیشن بنانا وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔ متاثرہ خاندان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر بھی جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تھا۔


عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس وقت قانون اور تھا اب اور ہے۔ وفاق چیف جسٹس کی مشاورت سےجوڈیشل کمیشن بنا سکتا ہے۔

عدالت نے وفاقی حکومت سے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے سے متعلق جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل بتائیں جوڈیشل کمیشن پر کیا رائے ہے. چیف جسٹس سردار شمیم خان نے کہا کہ یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور وفاقی حکومت سے 7 فروری کووضاحت طلب کر لی۔

دوران سماعت جےآئی ٹی سربراہ اعجاز شاہ عدالت پیش ہوئے۔ چیف جسٹس لاہو ر ہائیکورٹ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کہا تھا تفتیشی رپورٹ پیش کریں جائیں ابھی فائل لے کر آئیں۔ عدالت نے جےآئی ٹی سربراہ کو دوپہر ایک بجے تک رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔