پشاور کے ہندو مردے جلانے کے بجائے دفن کرنے پر مجبور

پشاور کے ہندو مردے جلانے کے بجائے دفن کرنے پر مجبور

پشاور:صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پاکستان کے قیام سے بھی پہلے ہزاروں کی تعداد میں آباد ہندو آباد تھے او ابھی بھی ہندووں کی بڑی تعداد صوبے میں آباد ہے مگر اُن کے لیے شمشان گھاٹ کی سہولیات نہ ہونے کے باعث وہ اپنے مردوں کو جلانے کی بجائے اب انہیں قبرستانوں میں دفنانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔


خیبر پختونخوا میں تقریباً پچاس ہزار کے قریب ہندو کمیونٹی رہائش پذیر ہے۔ اس کے علاوہ فاٹا میں بھی ہندووں کی ایک اچھی خاصی تعداد زندگی کے مختلف شعبوں سے منسلک ہیں۔

 کچھ عرصہ سے ہندو کمیونٹی کے لیے صوبے اور فاٹا کے مختلف مقامات پر شمشان گھاٹ کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے اب وہ اپنے مرنے والوں کو مذہبی رسومات کے برعکس یعنی جلانے کی بجائے انہیں دفنانے پر مجبور ہوچکے ہیں۔