سرخ مرچیں بریسٹ کینسر کو روکنے میں مدد فراہم کرتیں ہیں

سرخ مرچیں بریسٹ کینسر کو روکنے میں مدد فراہم کرتیں ہیں

جرمنی: ماہرین صحت نے تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ سرخ مرچ میں پایا جانے والا ایک مرکب چھاتی کے سرطان کو روکنے میں بہت مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔


بریسٹ کینسر کی کئی اقسام ہیں جن میں ایک ٹرپل نیگیٹو بریسٹ کینسر بھی ہے جو بڑی مشکل سے قابو میں آتا ہے اور یہ پاکستان سمیت دنیا بھر کی خواتین کے لیے ایک بھیانک خواب بن چکا ہے۔ لیکن اب ماہرین کا کہنا ہے کہ سرخ مرچوں میں موجود کیپسیسن مرکب اس قسم کے سرطان کو بھی بڑھنے سے روکتا ہے۔

جرمنی کے شہر بوشم میں روہر یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ سرخ مرچ میں پایا جانے والا ایک مرکب کیپسیسن اس لاعلاج بریسٹ کینسر کو بھی پھیلنے سے روکتا ہے۔ سائنسدانوں نے دوران تحقیق نوٹ کیا کہ سرخ مرچ کا مرکب ان چینلز کو کو روکتا ہے جو ٹرپل نیگیٹو کینسر میں تیزی سے پھیلتے ہیں۔

اس کے علاوہ آنتوں اور لبلبے کے سرطان میں بھی اس مرکب کو موثر دیکھا گیا جب کہ بعض جگہوں پر کینسر کے خلیات کو مرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔ ماہرین پر امید ہیں کہ مزید تحقیق کے بعد سخت جان بریسٹ کینسر کے علاج کی راہ کھلے گی۔