پانامہ کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے ہاتھ میں تسبیح

پانامہ کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے ہاتھ میں تسبیح

اسلام آباد: پاناما لیکس کی درخواستوں کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ہاتھ میں آج پہلی مرتبہ تسبیح بھی نظر آئی۔ اس سے پہلے والے بینچ اور سنہ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کے ہاتھ میں کبھی بھی تسبیح نہیں دیکھی گئی۔ تاہم آج جب بھی بینچ میں شامل کوئی جج ریمارکس دیتے یا پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری سے کوئی سوال پوچھتے تو عمران خان کے دائیں ہاتھ کی انگلیاں تسبیح پر زیادہ تیزی سے چلنا شروع ہوجاتی تھیں۔کمرہ عدالت سے نکلنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے تسبیح اپنی جیب میں ڈال لی۔


تفصیلات کے مطابق سماعت کے دوران عمران خان متعدد بار اپنی نشست سے کھڑے بھی ہوتے رہے۔ نعیم بخاری جب اپنے دلائل دے رہے تھے تو عمران خان، جہانگیر ترین اور اسد عمر اپنے وکلا کو سرگوشیوں میں مشورے بھی دیتے رہے۔آج  جب ان درخواستوں کی سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے میڈیا کے نمائندوں کو مخاطب  کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹی وی پر ان درخواستوں کی سماعت کے بارے میں ٹاک شوز میں ججز کے ریمارکس کو زیر بحث نہ لایا کریں۔

درخواستوں کی سماعت ختم ہوئی تو بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے میڈیا کے نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹی وی پر ان درخواستوں کی سماعت کے بارے میں ٹاک شوز میں ججز کے ریمارکس کو زیر بحث نہ لایا کریں۔انھوں نے پاکستان تحریک انصاف کے ایک ترجمان فواد چوہدری کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان درخواستوں کی سماعت میں وقفے کے دوران انھوں نے باہر جاکر میڈیا کے نمائندوں کو بریف کرنا شروع کردیا لہذا اس سے اجتناب کیا جائے۔اسی دوران عمران خان روسٹرم پر آئے اور انھوں نے کہا کہ وہ حزب مخالف میں ہیں لہذا ان کا کام الزام لگانا ہے جبکہ ثابت کرنا حکومت کا کام ہے۔ اس جملے کے بعد کمرہ عدالت میں ایک زرودار قہقہ لگایا گیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس کے بارے میں ان کی طرف سے کی جانے والی تقاریر اور پریس کانفرنس کو عدالتوں پر دبا ؤ نہ سمجھا جائے.