ہر صبح ایک گلاس گرم پانی میں دارچینی اور شہد ملاکر پینے سے آپ کے جسم میں ایسی تبدیلی آئے گی کہ یقین کرنا مشکل ہوجائے گا

دارچینی اور شہد کوملاکر کئی بیماریوں کوٹھیک کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور چین میں یہ طریقہ بہت زیادہ معروف رہا ہے۔

ہر صبح ایک گلاس گرم پانی میں دارچینی اور شہد ملاکر پینے سے آپ کے جسم میں ایسی تبدیلی آئے گی کہ یقین کرنا مشکل ہوجائے گا

بیجنگ: دارچینی اور شہد کوملاکر کئی بیماریوں کوٹھیک کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور چین میں یہ طریقہ بہت زیادہ معروف رہا ہے۔ یہ دونوں اجزاءصدیوں ہی سے استعمال کئے جارہے ہیں اور ان کی افادیت سے کسی کو بھی انکار نہیں۔ان دونوں اجزاءکو مکس کرکے آپ مختلف امراض کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ کن کن بیماریوں کو ٹھیک کرسکتے ہیں۔


دل کے امراض:ان دونوں کو مکس کریں اور ناشتہ میں استعمال کرنے سے دل کی بند شریانیں کھلنے لگتی ہیں۔اس کی وجہ سے کولیسٹرول بھی کم ہوگا اور ساتھ ہی دل بھی مضبوط ہوگا۔

جوڑوں کا درد: ایک گلاس گرم پانی میں دوکھانے کے چمچ شہد اور ایک کھانے کا چمچ دارچینی ڈالیں۔ اسے صبح اور شام میں پینے سے جوڑوں کادرد ٹھیک ہوگا۔

پتے کی انفیکشن: ایک گلاس گرم پانی میں دو بڑے چمچ دارچینی اور ایک بڑاچمچ شہد ڈالیں اور روزانہ پئیں۔اس کی وجہ سے آپ کے پتے کی انفیکشن دور ہوگی اور وہ صحت مند رہے گا۔

کولیسٹرول: ایک کپ میں دو بڑے چمچ شہد اور تین چمچ دارچینی ڈال کر پینے سے کچھ ہی دیر بعدکولیسٹرول میں10فیصد کمی ہوگی۔

سردی: اگرآپ کو سردی لگ جائے تو ایک چمچ شہد میں ایک چوتھائی چمچ دارچینی ڈال کرکھائیں،تین دن تک استعمال کرنے کے بعد آپ کی سردی ٹھیک ہوجائے گی۔

مدافعتی نظام: ان دو اجزاءکے باقاعدہ استعمال سے آپ کا مدافعتی نظام مضبوط ہوگااورکئی خطرناک بیماریاں دوررہیں گی۔

وزن میں کمی: اگر آپ بڑھتے وزن کر کنٹرول کرنا چاہتے ہیں تو ہر روز ناشتے سے کم از کم آدھ گھنٹہ قبل دارچینی اور شہد کی چائے پئیں۔دارچینی کو پانی میں ابالیں اور شہد ڈالکر ایک بار ابالا دیں،اب اسے ناشتے سے 30منٹ قبل پئیں۔کچھ ہی دن میں آپ اپنے وزن میں کمی دیکھیں گے۔

بالوں کے لئے : اگر آپ کے بال گررہے ہیں یا آپ گنجے پن کاشکار ہیں تو ایک کھانے کاچمچ زیتون کا تیل ، ایک کھانے کا چمچ شہد اور ایک چمچ دارچینی لیں۔ اس محلول کو سر میں لگائیں اور15منٹ بعد سر دھولیں۔کچھ ہی دن میں آپ بہترین نتائج دیکھیں گے۔