ٹیسٹ کے بعد دھونی نے ون ڈے اور ٹی 20 کی کپتانی سے بھی استعفی دے دیا

ٹیسٹ کے بعد دھونی نے ون ڈے اور ٹی 20 کی کپتانی سے بھی استعفی دے دیا

مہندر سنگھ دھونی نے انڈین ٹیم کی کپتانی سے استعفیٰ دے دیا۔لیکن انہوں نے فی الحال کرکٹ کو خیر باد نہیں کہا۔اور وہ دورہ آسٹریلیا کیلئے ٹیم کو دستیاب ہونگے۔انہوں نے یہ فیصلہ اپنی بیٹنگ پر زیادہ توجہ دینے کیلیے کیا. ویرات کوہلی کی زیرقیادت بھارتی ٹیسٹ سائیڈ مسلسل عمدہ کھیل پیش کر رہی ہے. ایسے میں بعض حلقے انھیں دیگر فارمیٹس میں بھی کپتان بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس سے پہلے کہ بورڈ استعفیٰ طلب کرے دھونی نے از خود قیادت چھوڑ دی۔


مہندرا سنگھ دھونی کو ہندوستان کے کامیاب ترین کپتانوں میں سے ایک مانا جاتا ہے، ان کی قیادت میں انڈین ٹیم نے 2007 میں پہلا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتا جبکہ 2011 میں ہندوستان میں منعقدہ ورلڈ کپ اور چمپیئنز ٹرافی 2013 میں چمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

ہندوستانی ٹیم نے دھونی کی قیادت میں 199 ایک روزہ اور 62 ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے جبکہ 2011 کے ورلڈ کپ میں چمپیئن بننے کے علاوہ 2015 کے ورلڈکپ کے سیمی فائنل تک رسائی کی۔ان کی قیادت میں کھیلے گئے 191 میچوں میں ہندوستان کو 104 میں کامیابی اور 72 میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 62 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں سے 36 میں فتح اور 24 میں شکست ہوئی۔ دھونی نے 30 دسمبر 2014 کو ٹیسٹ کرکٹ سے کنارہ کشی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ویرات کوہلی کو ٹیسٹ کا نیا کپتان مقرر کیا گیا۔ان کی قیادت میں ٹیم نے 60 ٹیسٹ میچز کھیلے جس میں 27 میں فتح اور 18 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 15 میچ برابر ہوئے۔ہندوستان نے دھونی کی قیادت میں 2013 میں 40 سال بعد پہلی مرتبہ آسٹریلیا کو وائٹ واش کرنے کا ریکارڈ بنایا تھا۔

جنوری میں انگلینڈ سے ہوم سیریز کے دوران دھونی بطور وکٹ کیپر بیٹسمین ٹیم کو دستیاب ہوں گے، اسکواڈ کا اعلان 6 جنوری کو کیا جائے گا۔ دریں اثنا بھارتی بورڈ نے بطور کپتان خدمات پر دھونی کو خراج تحسین ادا کیا ہے۔