پاناما معمولی کیس نہیں ہے حکومت دلدل میں پھنس گئی ہے اور سخت دبائو کا شکار ہے، سراج الحق

پاناما معمولی کیس نہیں ہے حکومت دلدل میں پھنس گئی ہے اور سخت دبائو کا شکار ہے، سراج الحق

اسلام آباد:  امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پاناما معمولی کیس نہیں ہے حکومت دلدل میں پھنس گئی ہے اور سخت دباؤ  کا شکار ہے اس میں سزا بھی ہو سکتی ہے انہی خطرات کے پیش نظروکیل بدلے جا رہے ہیں تاہم وکیل بدلنے سے جان نہیں چھوٹ سکتی ہم چاہتے ہیں احتساب سب کا ہو کوئی مقدس گائے نہیں ہونی چاہیے لیکن بسم اللہ وزیر اعظم اور ان کے خاندان سے ہو .


نیو نیوز کے پروگرام "" نیوز ٹاک "" میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ احتساب کا آغاز2016سے ہو اور پھر بتدریج پیچھے کی جانب بڑھا جائے جو بھی پاناما لیکس لندن لیکس میں نام ہے اور جس نے بھی قرضے لیکر معاف کرائے ہیں اور جن کے پیسے سوئس بینکوں میں احتساب سے کوئی نہیں بچنا چاہیے جس نے بھی پیسہ لوٹا ہے اس کی باری ضرور آئے گی لیکن آغاز تو ہونا چاہیے امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ جب تک کیس عدالت میں ہے وزیر اعظم اختیارات سے دستبردار ہو جائیں مکمل تحقیق ہونی چاہیے کہ پاکستان کا پیسہ باہر کیوں منتقل ہوا پاناما لیکس میں اتنا پیسہ کہاں سے آیا احتساب ایسا ہونا چاہیے کہ آئندہ کے لیے کرپشن کا دروازہ بند ہو جائے ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے لیے سب کو ملکر جدوجہد کرنی ہو گی جو لوگ ملک کو کرپشن سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں وہ ہمارے احتجاج کا حصہ بن جائیں.

کرپشن کے خلاف ہم نے اسمبلیوں میں آواز اٹھائی کرپشن کے خلاف جو بات ہم کر رہے تھے اب وہ سب کر رہے ہیں ہمارا موقف مضبوط ہے ہم کرپشن کے خلاف ہیں کرپشن کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ دینا چاہیے انہوں نے کہا کہ آئیڈیل تو یہی ہے کہ فیصلے ایوان میں ہوں اگر وہاں نہ ہوں تو عدالتوں میں ہوں اگر وہاں بھی نہ ہو سکا ہو تو پھر چوک چوراہوں میں ہوتے ہیںہم اسلیے چوک و چوراہوں کی بات کرتے ہیں کہ جمہوری معاشرے میں آخری عدالت فورم کی عدالت ہوتی ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ ہماری عدالتوں میں اندھے بہرے اور گونگے نہیں ہیں وہ انشاء اللہ صحیح فیصلہ کریں گے.