میاں صاحب کسی راز کو فاش کرنا ہی چاہتے ہیں تو بتائیں کہ اتنا بھاری مینڈیٹ کیسے اور کہاں سے ملا، آصف زرداری

میاں صاحب کسی راز کو فاش کرنا ہی چاہتے ہیں تو بتائیں کہ اتنا بھاری مینڈیٹ کیسے اور کہاں سے ملا، آصف زرداری

میرپورخاص: سابق صدرمملکت اورپاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ اگر میاں صاحب کسی راز کو فاش کرنا ہی چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اس بات سے پردہ اٹھائیں کہ انہیں اتنا بھاری مینڈیٹ کیسے اور کہاں سے ملا؟،میاں صاحب پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں پھر کسی اور پر اعتراض اٹھائیں،  پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ کبھی پنجاب اور کبھی سندھ سے چھینا جاتا ہے اور ہماری حکومت کو گرانے کی سازشیں کی جاتی ہیں اور ان سازشوں کی تیاری میں میاں صاحب خود بہ نفس نفیس شریک تھے اس لیے اب وہ قوم کو مزید بے وقوف نہیں بنا سکتے ہیں۔


ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کومیرپور خاص میں کارکنان سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ آصف زرداری نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب آپ کو دھن دولت کی طاقت اور عیش و عشرت مبارک ہو جب کہ پیپلز پارٹی کے پاس عوام کی طاقت ہے اور ہم اسی میں خوش میں ہیں کیوں کہ ہم نے کبھی اقتدار کے لیے کسی اور طاقت کا سہارا نہیں لیا۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا ویژن ذوالفقار بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا ہے جسے میں آگے لیکر چل رہا ہوں اس لیے ہمیشہ غریب محنت کشوں کی حقوق کی بات کروں گا اور ہر وہ کام کروں گا جس میں ہاریوں اور محنت کشوں کا فائدہ ہو جس کے لیے میں وڈیروں کے نہیں بلکہ اپنے ہاریوں کے ساتھ کھڑا  ہوں۔

آصف زرداری نے کہا کہ ہمارا مینڈیٹ کبھی یہاں تو کبھی وہاں سے چھینا جاتا ہے، چاہتا ہوں میاں صاحب سارے راز فاش کر دیں اور پہلے اپنے بارے میں بتائیں کہ ان کو مینڈیٹ کیسے ملتا ہے؟۔ہم نے پاور میں آنے کیلئے کسی کا سہارا نہیں لیا، نواز شریف ہم پر کسی سہارے کا الزام نہیں لگا سکتے، ہمیں تو ہمیشہ لہروں کے خلاف تیرنا پڑا، ہمارے پاس عوام کی اور میاں صاحب کے پاس دولت کی طاقت ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ میرے کندھوں پر شہید بھٹو اور شہید محترمہ کی ذمہ داریوں کا بوجھ ہے، ہمارے ہاتھ میں صرف جھنڈا اور تیر کا نشان ہے اور ہم وڈیروں کے نہیں ہاریوں کیساتھ ہیں۔ آصف زرداری نے کہاکہ ہر وہ کام کروں گا جس سے ہاری اور محنت کش کو فائدہ ہو، اگر ملوں کو نقصان ہو رہا ہے تو ان سے بھی بات کر رہے ہیں لیکن ہم ہاریوں کے حق کا دفاع کریں گے، اگر وہ ملیں نہیں چلا سکتے تو ہمیں چابیاں دیدیں، ہم چلائیں گے۔