سلیمانی پر حملے کا مقصد جنگ کو روکنا ہے، ٹرمپ

سلیمانی پر حملے کا مقصد جنگ کو روکنا ہے، ٹرمپ
سلیمانی پر امریکی حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے جنرل قاسم سلیمانی پر حملے کا مقصد ایران سے جنگ کا آغاز نہیں بلکہ جنگ کو روکنا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اس حوالے سے ایک بیان میں یہ بھی کہنا ہے کہ قاسم سلیمانی امریکی سفارت کاروں اور فوجیوں پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور اسی لیے انہیں نشانہ بنایا گیا۔


ایرانی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی پر امریکی حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔

عراق سے ملحق سرحد پر ایرانی لڑاکا طیاروں کی پروازیں جاری ہیں اور امریکا بھی مشرقِ وسطیٰ میں مزید 3 ہزار فوجی بھیجنے کی تیاریاں کر رہا ہے جبکہ اسرائیل نے شام اور لبنان سے ملحق اپنی سرحد پر سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ جنرل سلیمانی کی موت سے پیدا ہونے والی مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال سے نمٹ لے گی۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای تہران میں مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کے گھر جا کر اہلِ خانہ سے تعزیت کی جبکہ اسماعیل کو القدس فورس کا نیا کمانڈر مقرر کر دیا۔

روسی صد ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ امریکی کارروائی خطے کی صورتِ حال کو مزید خراب کر سکتی ہے۔

ڈیمو کریٹس نے صدر ٹرمپ کے اس اقدام کو کھلی جنگ قرار دیا ہے اور ڈیموکریٹس اس معاملے پر ری پبلکن کے یکسر خلاف ہیں اور ممکن ہے یہ ان کی انتخابی حکمتِ عملی ہو۔

امریکی صدارتی امیدار بننے کی ڈیمو کریٹ خواہش مند تلسی گبارڈ نے ایرانی جنرل کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے جنرل سلیمانی کو مار کر ایران کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ٹرمپ کا ایسا جنگی اقدام ہے جس کی کانگریس سے منظوری نہیں لی گئی، ٹرمپ نے ایران کے خلاف غیر آئینی اقدام کیا ہے۔