نواز لیگ اورماڈرنائزیشن

 نواز لیگ اورماڈرنائزیشن

میرے لئے یہ دلچسپ اطلاع تھی کہ مسلم لیگ نون نے ایک ’ریسرچ اینڈ پالیسی پلاننگ یونٹ‘ بنا رکھا ہے۔اس بارے مجھے سب سے پہلے خواجہ رفیق شہید فاونڈیشن کے زیر اہتمام سیمینار پر رانامشہود احمد خان نے بتایا اورپھر اس کی متحرک رکن سائرہ افتخار کی طرف سے بیرسٹر امجد ملک کے اعزاز میں ایک ظہرانے میں شرکت کی دعوت ملی۔ وہاں پر موجود لوگوں کی اکثریت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی تھی یا وہ ملٹی نیشنلز کے ساتھ وابستہ تھے اور بااثر سمجھے جاسکتے تھے۔ میں نام کسی کا نہیں لوں گا کہ ہوسکتا ہے کہ نواز لیگ انہیں پبلک نہ کرنا چاہتی ہو لیکن وہاں پر ٹرانس جینڈر کی نمائندگی بھی تھی تو ان کا کام ناچنا نہیں تھا، چارٹرڈ اکاونٹینسی کا بڑا نام تھا اور حال ہی میں ان کی ملاقات امریکی صدر جوبائیڈن سے بھی ہوئی تھی، جی ہاں، اسی جو بائیڈن سے ملاقات جس کی ایک فون کال کے لئے جناب عمران خان نے ہر طرح کے حربے استعمال کئے تھے حتیٰ کہ اپنی طرف سے امریکا جیسے ملک کو بلیک میل کرنے کے لئے وطن عزیز کی خارجہ پالیسی اور اقتصادی صورتحال تک کو داو پر لگا دیا تھا، وہاں وہ پاکستانی تھے جن کا تعلق مختلف ممالک کے سفارتخانوں سے بھی تھا اور بین الاقوامی اداروں سے بھی۔ مجھے دوسری مرتبہ یہ لگا کہ نواز لیگ نے ماڈرنائزیشن کے تقاضے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے پہلے میرا تعارف مسلم لیگ نون کے پروفیشنل ونگ سے ہوا تھا جس کی روح رواں مسلم لیگ نون کی رکن پنجاب اسمبلی سعدیہ تیمور ہیں۔اس پروفیشنل ونگ کو وہ مسلم لیگ نون لاہور کے جنرل سیکرٹری خواجہ عمران نذیر کے تعاون سے چلا رہی ہیں اور میں نے کئی ایونٹس میں ان کی زبردست قسم کی شمولیت اور پرفارمنس دیکھی ہے۔

کہتے ہیں اوردرست کہتے ہیں کہ یہ دور سوشل میڈیا کا ہے مگر مجھے علم نہیں کہ نواز لیگ کا سوشل میڈیا سیل کس طرح کام کرتا ہے۔ نہ کبھی انہوں نے رابطہ کیا اور نہ میں نے کبھی جاننے کی خواہش کی مگر جو اطلاعات پہنچتی ہیں وہ اتنی اچھی نہیں ہیں۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ نواز لیگ کا سوشل میڈیا سیل مختلف ماجھے گامے لیڈروں کے بیٹوں، بیٹیوں اور بھتیجے بھتیجیوں سے بھرا پڑا ہے اور اگر کوئی جگہ بچ جاتی ہے تو وہاں بھی انہی کے سفارشی لوگ بھرتی ہوجاتے ہیں اور ان کا کام صرف نمبر ٹانگنا ہے۔ اس کاحال توپارٹی کی مدر آرگنائزیشن سے بھی برا ہے اور مدر آرگنائزیشن کا حال یہ ہے کہ لاہور پارٹی کا دل اور دماغ سمجھاجاتا ہے مگر سوا برس پہلے پرویز ملک کے انتقال کرنے کے بعد اس شہر میں پارٹی کا کوئی تنظیمی صدر ہی نہیں ہے جہاں پی ٹی آئی کے صدر اورجنرل سیکرٹری ہی سکہ بند کارکن نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ چالیس کے لگ بھگ ترجمان بھی ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ مجھے لاہور میں صحافت کرتے ہوئے عشرے گزر گئے مگر مجال ہے کہ مسلم لیگ نون لاہور کے سیکرٹری انفارمیشن تک کی کبھی کوئی کال آئی ہو یا انہوں نے کسی پروگرام کے لئے کسی لیڈر کا نام دیا ہو کہ وہ پارٹی کو ڈیفنڈ کرے گا۔ میں ان کے بارے آج زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ وہ والد کی وفات کی وجہ سے صدمے کی حالت میں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے والد محترم کو جنت الفردوس میں جگہ دیں۔ آمین۔

صورتحال یہ ہے کہ مسلم لیگ نون، پی ٹی آئی کے بیانیے کے مقابلے میں کمزور نظر آتی ہے۔ اس کے سوشل میڈیا پر رضا کار اپنے طور پر لڑائی تو لڑتے ہیں مگر وہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی جو کسی کمانڈ اور آرگنائزیشنل سٹرکچر کے بغیر ہو۔ ایک بڑا مسئلہ مسلم لیگ نون کی قیادت کا سیاسی اور سماجی موضوعات پر دفاعی رویہ ہے۔ وہ ہر جگہ اپنی وضاحتیں دیتے نظر آتے ہیں جبکہ جنگ وہی جیتتا ہے جو آگے بڑھ کے حملہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ حملہ کرنے کی اہلیت عمران خان اور پی ٹی آئی کے پاس ہے۔ اس وقت مہنگائی سب سے بڑا ایشو ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے حامیوں سے ہر شے کو ستائیس کلومیٹر کی حکومت کے ساتھ جوڑ کے نواز لیگ کو مہنگائی کے محاذ پر دیوار سے لگا رکھا ہے حالانکہ قیمتیں چاہے مرغی کی ہوں یا آٹے کی، کنٹرول صوبائی حکومتوں نے ہی کرنی ہوتی ہیں۔ شہباز شریف کے بعد حمزہ شہباز نے بھی اپنی مختصر حکومت میں آٹے پر سب سڈی دی جو دس ارب روپے سالانہ سے بھی زائد کی تھی۔ اب وہ سب سڈی ختم ہوچکی ہے اور آٹا مہنگا ہونے پربھی نواز لیگ کو ہی ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ کوئی یہ بتانے والا بھی نہیں کہ برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت اگر سوا پانچ سو روپے کلو ہو گئی ہے تو اس میں سارا قصور طارق بشیر چیمہ کا نہیں ہے جنہوں نے جی ایم او اورایکسپائرڈ سویابین کی خوراک پر اعتراض کیا مگر پولٹری ایسوسی ایشن نے اعتراضات کا جواب دینے کی بجائے فیڈ کی فراہمی کو بنیاد بناتے ہوئے سب سے سستے گوشت کو تاریخ کے مہنگے ترین درجے میں لے گئے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نواز لیگ کے پاس الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی خبروں اور سوشل میڈیا کے ٹرینڈز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نظر نہیں آتی، ہاں، اس ایشو پر بات اور کام ہوجاتا ہے جس کا خود وزیراعظم نوٹس لے لیں۔

اس ڈسکشن میں رانا مشہود احمد خان نے محترمہ مریم نواز کے پولیٹیکل سیکرٹری ذیشان کی توجہ دلائی۔ میری تجویز تھی کہ سوشل میڈیا کی مرکزی، صوبائی، ضلعی اور پھرصوبائی اسمبلی کے حلقے کی سطح پر تنظیم اور واٹس ایپ گروپس ہونے چاہئیں۔ مرکزی سطح پر ٹرینڈز کا فیصلہ ہو اور ان کو چلانے کے لئے نیچے تک لائن جائے بہرحال ایک میڈیا پروفیشنل کے طورپر میں تجویز ہی کر سکتا ہوں، کام تو انہوں نے خود کرنا ہے۔ جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو اس وقت ایک بڑا اور اہم فیصلہ سامنے آیا ہے کہ محترمہ مریم نواز کو مسلم لیگ نون کی سینئر نائب صدر مقرر کرتے ہوئے چیف آرگنائزر بھی بنا دیا گیا ہے۔ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے کیونکہ نواز لیگ میں مریم نواز کی مقبولیت سے انکا رنہیں کیا جاسکتا، یہ فیصلہ مریم نواز کے سیاسی مستقبل کوبھی سپورٹ کرے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم لیگ نون جو اس وقت ہر ضلعے میں کم از کم دو گروپوں میں تقسیم ہوچکی ہے اسے پسند ناپسند سے بالاتر، سو فیصد میرٹ اور سنیارٹی پر، ایک بنایا جائے۔ ان کے آپسی اختلافات ختم کئے جائیں ورنہ حالات یہ ہیں کہ ہر ضلعے میں مسلم لیگ نون کا راستہ کاٹنے کے لئے تحریک انصاف سے پہلے مسلم لیگ نون خود موجود ہے۔ میں ہمیشہ سے قائل ہوں کہ ملک میں جمہوریت مانگنے والی سیاسی جماعتوں میں خود جمہوریت ہونی ضروری ہے۔ آپ ’ٹاپ‘ پر جمہوریت نہیں لا سکتے کہ آپ اپنی پارٹیوں کو اپنی محنت اور کرشمے کانتیجہ سمجھتے ہیں تو کم از کم اسے ضلعی اور صوبائی سطح پر تولائیں تاکہ لوگوں کو اپنا مستقبل بہتر اور محفوظ نظر آئے۔ 

قصہ مختصر، ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ ہی ’سروائیول آف دی فیٹسٹ‘ کا جنگل والا اصول دوبارہ لاگو ہوتاچلا جا رہا ہے۔ شہباز شریف کو مقتدر حلقوں کے ساتھ معاملات طے کرنے دیجئے کہ اگر سٹیڈیم اپنے حامی تماشائیوں سے بھرا بھی ہوتو کھیل تو کھلاڑی نے ہی پیش کرنا ہوتا ہے مگر تماشائیوں پر توجہ دیجئے، وہ دوسری ٹیموں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔