بڑے اے پولیٹیکل، ہم کہاں کھڑے ہیں؟

بڑے اے پولیٹیکل، ہم کہاں کھڑے ہیں؟

پاکستان کی معیشت مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ مہنگائی اپنے عروج پر ہے۔ قدر زر میں شدید گراوٹ ہے۔ ڈالر کی قیمت آسمان کی طرف اڑی چلی جا رہی ہے۔ اسحاق ڈار نے بظاہر ڈالر کی اڑان پر رکاوٹ لگا دی ہے لیکن عملاً ایسا ممکن نہیں ہو سکا ہے۔ زرمبادلہ کی کھلی منڈی میں ڈالر کی قیمت 25، 26 روپے زائد ہے اور یہاں بھی ڈالر دستیاب نہیں ہے بینک ریٹ یا کنٹرول ریٹ پر تو ڈالر کہیں بھی دستیاب نہیں ہے۔ ہماری ضروری درآمدات بھی مسائل کا شکار ہو چکی ہیں ہماری صنعت کی ترقی تو دور کی بات ہے اس کی معمولی رفتار بھی قائم نہیں رہ پا رہی ہے ہماری صنعت، زراعت پر انحصار کرتی ہے حالیہ طوفانی بارشوں اور اس کے نتیجے میں سیلاب کی تباہ کاریوں نے ہماری زراعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ خام مال کی درآمد میں کمی نے بھی پیداواری عمل کو شدت سے متاثر کیا ہے۔ ہماری صنعت اپنی پیداواری صلاحیت سے نصف پر چل رہی ہے۔ عالمی معیشت بھی مسائل میں الجھی ہوئی ہے یوکرائن کی جنگ، طویل جنگ نے عالمی معیشت پر انتہائی مضر اثرات مرتب کئے ہیں اس طرح کے عالمی اور علاقائی مایوس کن حالات کے باعث ہماری قومی معیشت بدحالی کا شکار ہے۔

مہنگائی کا طوفان بلاشبہ سونامی کی شکل اختیار کر چکا ہے قدر زر میں گراوٹ اور توانائی کے ذرائع بشمول پٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل، گیس اور بجلی وغیرہم کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہو چکا ہے مہنگائی میں اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات کی منڈی میں ہماری مصنوعات مقابلے سے باہر ہوتی چلی جا رہی ہیں ایسے تمام عوامل نے مل جل کر قومی معیشت میں ہلچل مچا دی ہے۔ انفرادی معیشت مکمل طور پر بدحالی کا شکار ہو چکی ہے۔ بیروزگاری کے ساتھ ساتھ قوتِ خرید میں کمی اور مہنگائی کے سونامی نے عوامی انفرادی معیشت کی بھی کم توڑ کر رکھ دی ہے۔ معاملات خوشگوار اور قابل بھروسہ ہرگز نہیں ہیں۔ منظر پر مایوسی اور پشیمانی طاری ہے۔

دوسری طرف سیاسی منظرنامہ بھی اطمینان بخش نہیں ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ہماری تمام چھوٹی بڑی قومی علاقائی، لسانی مذہبی تمام جماعتیں کسی نہ کسی سطح پر اقتدار میں شامل ہیں۔ تیرہ جماعتوں کا اتحاد مرکز میں مقتدر ہے۔ پیپلز پارٹی مرکز اور سندھ میں حکمران ہے۔ پاکستان کی شاید ہی کوئی قابل ذکر سیاسی جماعت اقتدار سے باہر ہو گی لیکن صورت حال یہ ہے کہ سیاسی بحران کی باتیں ہو رہی ہیں عمران خان کی پارٹی کے پی کے اور پنجاب میں حکمران ہے۔ یہاں پنجاب میں ان کی حکومت چودھری پرویز الٰہی کے دس ممبران کی حمایت سے انہی کی سربراہی میں قائم ہے۔ عمران خان 10 اپریل 2022 میں مرکز سے فارغ ہونے کے بعد سے زبردست احتجاجی موڈ میں تیر تلوار بننے کی کاوشیں کر رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی کھو جانے کے بعد شدید غصے میں ہیں۔ وہ پی ڈی ایم کی حکومت کو ماننے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں انہیں سلیکٹڈ ہی قرار دے رہے ہیں جنرل باجوہ کو 

ریٹائرمنٹ کے بعد بھی حاضر سمجھ کر شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے جاری سیاسی نظام کا دھڑن تختہ کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کر کے دیکھ لیا ہے حتیٰ کہ انہوں نے دونوں صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا آخری پتہ بھی کھیل دیا لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ وہ اس سے پہلے قومی اسمبلی سے مستعفی ہو کر بھی دیکھ چکے ہیں لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔ اب وہ نہ صرف حکومت کو ناکام بنانے بلکہ سسٹم کو ہی بلڈوز کرنے کی پالیسی پر گامزن ہو چکے ہیں ان کے نزدیک ملک، قوم، ریاست سب کچھ بے معنی ہو چکا ہے ان کے طرزِ عمل سے تو ایسا ہی نظر آ رہا ہے وہ ملک کو ڈیفالٹ کرانے پر بلکہ عملاً ڈیفالٹ کی طرف دھکیلنے پر ڈٹے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ نازک معاشی معاملات کو سیاسی بے چینی بڑھا کر مزید نازک بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

معاشی و سیاسی حالات نازک ہونے کے باوجود مایوس کن ہرگز نہیں ہیں مشکلات کا حجم بہت وسیع، وزنی اور شاید ناقابل برداشت حد تک بڑھا ہوا ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ سب کچھ ختم ہونے کو ہے ہم ڈیفالٹ نہیں کر رہے ہیں ہم پریشان کن صورت حال کا شکار ہونے کے باوجود، پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہیں پہنچے ہیں، ہماری طاقت ور ترین اسٹیبلشمنٹ اپنی سیاسی سرگرمیوں سے نہ صرف تائب ہو چکی ہے اور اس کا اعلان بھی کر چکی ہے بلکہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے آئندہ اے پولیٹیکل رہنے کا اعلان کر چکے ہیں اور سردست ایسا لگ رہا ہے کہ وہ فی الاصل اپنے عہد پر قائم ہیں۔

عمران خان کو اب خود، اپنے بل بوتے پر سیاست کرنا پڑے گی تو وہ کچھ نہ کچھ تو ضرور سیکھیں گے وہ ابھی تازہ تازہ زخم خوردہ ہیں حالات حاضرہ کے ساتھ سمجھوتہ کرنے میں تھوڑا سا تو وقت لگے گا۔ دوسری طرف 300 ارب ڈالر کی ہماری معیشت ہے جس میں زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبے ہیں۔ گزرے سال میں معیشت کے ان شعبوں نے بالترتیب 3.4 فیصد، 6.5 فیصد اور 4.6 فیصد بڑھوتی پائی جبکہ معیشت کی مجموعی بڑھوتی 4.8 فیصد کا تخمینہ ہے۔ ہماری ورک فورس 7 کروڑ سے زائد افراد پر مشتمل ہے اور یہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ جاری مالی سال (2022-23) کے لئے ہم نے تقریباً 7500 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف مقرر کیا ہے 31 دسمبر 2022 تک ہم نے ہدف کے مطابق ٹیکس جمع کر لیا ہے 300 ارب روپے کا شارٹ فال ظاہر ہو رہا ہے جو شاید اگلے مہینے تک جب دسمبر کے کھاتے فائنل ہوں گے تو پورا ہو جائے۔ یہ سب کیسے ہو رہا ہے؟ معاملات خراب ضرور ہیں لیکن پہیہ تو چل ہی رہا ہے صنعت و حرفت جاری ہے۔ کارخانے چل رہے ہیں، کاروبار ہو رہے ہیں لیکن یہ سب کچھ جیسے ہونا چاہئے ویسے نہیں ہو رہا ہے معاشی پہیہ مطلوبہ رفتار سے نہیں چل رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم معاشی گرداب میں پھنس چکے ہیں۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاملات کیسے ٹھیک ہوں گے؟ ہم معاشی گرداب سے کیسے نکلیں گے؟ ہمارے معاشی مسائل اور موجودہ معاشی بدحالی کی دو وجوہات ہیں ایک وجہ تو بذات خود ہمارا معاشی ماڈل ہے ہم جو اپنے اخراجات کے مطابق آمدنی نہ ہونے کے باعث قرض لینے کی دائمی عادت کا شکار ہیں ہم طویل عرصے سے اپنے وسائل سے زیادہ میں زندگیاں گزارنے کے عادی ہو چکے ہیں لیکن اس حساب سے اپنے مالی وسائل بڑھا نہیں سکے بلکہ اس طرف توجہ ہی نہیں دی اس کا نتیجہ ہے کہ ہمارے اندرونی و بیرونی قرضوں کا حجم ہماری معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ بن چکا ہے ہماری مجموعی ٹیکس آمدنیوں کا نصف تقریباً قرض کے اصل زر اور سود کی ادائیگیوں میں گزر جاتا ہے پھر دفاعی اخراجات کے علاوہ کارسرکار چلانے کے اندھا دھند اخراجات نے ہمارے معاملات دگرگوں کر دیئے ہیں۔ کام چوری اور بددیانتی کے کلچر نے پیداواری صلاحیت بھی منجمد کر رکھی ہے۔ اب حالات اس قدر بگڑے چکے ہیں کہ ہمیں انقلابی قسم کی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ اپنے اخراجات پر قومی اور دینی جذبے کے ساتھ قابو پانا ہو گا اور نئے طرز فکروعمل کو اپنا کر اپنے معاشی معاملات درست کرنا ہوں گے وگرنہ ہم کسی بڑے حادثے کا شکار بھی ہو سکے ہیں۔

دوسری وجہ ہمارے معاشی بگاڑ کی ہماری سیاست ہے، سیاسی انارکی، مار دھاڑ احتجاج، ہٹوبچو، وغیرہم نے غیریقینی کی صورتحال قائم کر رکھی ہے ایسی صورت نے معاشی صورتحال کے بگاڑ کو تیز کر دیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاستدان تدبر کا مظاہرہ کریں اور ذاتی و جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کو جاری معاشی صورتحال سے نکالنے کی تدبیر کریں۔