کرونا کی نئی لہر…… بچاؤ کے اقدامات ضروری ہیں

کرونا کی نئی لہر…… بچاؤ کے اقدامات ضروری ہیں

پچھلے سات دنوں میں یورپ، امریکہ اور ویسٹرن پیسفک ریجن میں لاکھوں کی تعداد میں کرونا کے کیسز سامنے آئے ہیں اور ان براعظموں میں ہلاکتیں ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں چلی گئی ہیں۔ اس کے برعکس حیران کن بات یہ ہے کہ افریقہ، ساؤتھ ایسٹ ایشیا اور میڈیٹیرین ریجن میں کیسز کی تعداد میں اتنا اضافہ نہیں ہوا۔ افریقہ میں ہر سو میں سے صرف 49 افراد کو ویکسین لگی ہے جبکہ ستائیس فیصد لوگ ایسے ہیں جن کو ویکسین کی دونوں ڈوز لگیں اور صرف 3.5 فیصد لوگ ایسے ہیں جنہیں بوسٹر ڈوز لگی اس کے باوجود افریقہ اور ایسٹرن میڈیٹیرین ریجن میں بھی لوگوں میں بوسٹر ڈوز بہت کم ہے لیکن وہاں بھی کووڈ چند ہزار کیسوں میں آ رہا ہے لیکن یورپ اور امریکہ میں جہاں پہلے ہر 100 فیصد شہریوں کو ویکسین لگ چکی  اور تقریباً 70 سے 80 فیصد لوگ مکمل طور پر ویکسینیٹڈ ہیں اور 30 سے 50 فیصد لوگوں کو بوسٹر ویکسین بھی لگی ہوئی ہے وہاں کرونا ایک مرتبہ پھر سر اٹھا رہا ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ امریکہ، کوریا، جاپان، فرانس، جرمنی میں بہت تیزی سے کرونا کا مرض پھیلتا جا رہا ہے۔ جب سے کرونا کی وبا آئی  اس وقت سے دنیا بھر میں 65 کروڑ 19 لاکھ 18 ہزار 402 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 66 لاکھ 56 ہزار 601 افراد کی موت ہوئی جو تقریباً ایک فیصد کے قریب ہے جبکہ دنیا بھر میں 13 ارب 7 کروڑ 37 لاکھ 12 ہزار 554 ویکسین لگائی گئیں۔ پاکستان کے اعداد وشمار کے مطابق آج تک 15 لاکھ 75 ہزار 486 لوگ کرونا کا شکار ہوئے جس میں سے 30 ہزار 6سو 35 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ پاکستان بھر میں 31 کروڑ 70 لاکھ 80 ہزار 887 ڈوزز استعمال کی گئیں۔ پاکستان میں کرونا کے مرض میں مبتلا ہونے والوں میں سے 1.94 فیصد لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔ اگر آج تک کے اعداد وشمار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ پاکستان میں کرونا کے کل کیسز 15 لاکھ 75 ہزار 484 ٹوٹل رجسٹرڈ کیسز آئے ہیں۔ پچھلے  7 دن میں 62 کیسز کنفرم ہوئے اور آج تک کل اموات 30 ہزار 6 سو 35۔ پچھلے سات دنوں میں کوئی موت نہیں ہوئی۔ ہر سو لوگوں کو ویکسین لگائی گئی ہے۔ تقریباً 59.4 فیصد لوگ اس وقت فل ویکسینیٹڈ ہیں اور بوسٹر ڈوز 22.1 فیصد لوگوں کو لگی ہے۔

ابھی تک پاکستان میں کرونا کی تین بڑی اور تین چھوٹی لہریں آ چکی ہیں جن کے دوران کرونا کے مریضوں کی تعداد میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے۔ کرونا وبا کے ذریعے 3 جنوری 2020ء کو شام 4 بج کر 54 منٹ پر پہلے مریض کی موت واقع ہوئی اس کے بعد پہلی بڑی لہر 16 اپریل سے لے کر 3ستمبر تک دیکھنے میں آئی۔ اس کے بعد اپریل 2021ء سے لے کر 14 جون 2021ء تک کرونا کی دوسری بڑی لہر پھر جولائی 2021ء سے لے کر اکتوبر 2021ء تک کرونا کی تیسری بڑی لہر دیکھنے میں آئی۔ اس کے علاوہ نومبر 2020ء میں پہلی چھوٹی لہر، دسمبر 2020ء اور جنوری 2021ء میں دوسری چھوٹی لہر اور جنوری، فروری اور مارچ 2022ء میں تیسری چھوٹی لہر دیکھی گئی۔ اپریل 2022ء سے دسمبر 2022ء تک کرونا سے ہونے والی بیماری کی شرح کو بھی کنٹرول کر لیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ اس سے ہونے والی اموات پر بھی قابو پا لیا گیا۔ اس کی بڑی وجہ ویکسین کا استعمال تھا۔ جیسے جیسے ویکسین کا استعمال کیا جاتا رہا، ویسے ویسے کرونا کے مرض پر قابو پانا آسان ہوتا گیا۔ باقی فلو وائرس کی طرح کرونا وائرس کی ویکسین بھی ایک سیزن کے لئے کافی ہوتی ہے اس لئے آج کل اس کی بوسٹر ڈوز کا اثر آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے اس لئے ضروری ہے کہ کرونا کی ایک اور بوسٹر ڈوز لگوائی جائے تاکہ آنے والے مہینوں میں کرونا میں مبتلا افراد کی تعداد میں اضافہ نہ ہو ورنہ عین ممکن ہے کہ کرونا کی ایک بڑی لہر دوبارہ پاکستان پر حملہ آور ہو جائے۔ اس لئے کہ اب پہلے لگنے والی بوسٹر ڈوز کا اثر زائل ہوتا جا رہا ہے۔

اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو گا کہ 2020ء اور 2021ء میں کرونا کی وبا نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہسپتال کرونا کے مریضوں سے بھر گئے اور علاج کرتے کرتے خود ڈاکٹر کرونا کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے گئے، خوف وہراس نے پوری دنیا کو سنسان کر دیا، گلیوں، بازاروں کی رونق ماند پڑ گئی اور صنعت، زراعت اور تجارت میں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے چین اور دیگر ممالک میں کرونا ویکسین بنا لی گئی اور لوگوں کو حکومتی سطح پر یہ ویکسین لگائی جاتی رہی۔ جیسے جیسے ویکسین لگنا شروع ہوئی اس کے ساتھ ساتھ کرونا سے ہونے والی اموات میں بہت کمی دیکھی گئی اور دنیا بھر میں کرونا کی وبا بھی آہستہ آہستہ کنٹرول میں آ گئی۔ پہلے لوگوں نے ماسک کا استعمال شروع کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سماجی فاصلہ رکھنے کے اصول پر عمل پیرا ہوئے، میل جول میں فاصلہ رکھا جاتا رہا، بہت سارے دفاتر، تقریبات یہاں تک کہ مذہبی رسومات کے دوران بھی احتیاط برتی جانے لگی جس کی وجہ سے 2021ء کے اواخر میں اور 2022ء کے شروع میں کرونا پر نسبتاً قابو پا لیا گیا۔ اس دوران کرونا کی بہت ساری نئی اقسام بھی دیکھنے میں آئیں۔ کئی نئی Mutations بھی سائنس دانوں نے دیکھی ہیں۔ کافی عرصہ دنیا بھر میں کرونا کی وبا سے سکون رہا لیکن ایک دفعہ پھر یورپ، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں کرونا سر اٹھا رہا ہے اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ اس وقت خطرہ اس بات کا ہے کہ پاکستان میں مارچ 2022ء کے بعد سے کرونا بہت حد تک کنٹرول میں تھا اور کئی مہینے کوئی بھی نیا کیس سامنے نہیں آیا لیکن اب دنیا میں کرونا کی نئی قسم سر اٹھا رہی ہے۔

ضرورت ہے کہ کرونا کی نئی قسم کے سدباب کے لئے اقدامات کئے جائیں ورنہ کئی امکانات موجود ہیں مثلاً کرونا کی ویکسین، پرانی قسم کے خلاف تھی، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ویکسین نئی قسم کے خلاف مؤثر نہ رہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جس علم اور تجربے کے ساتھ ہم نے کرونا کی وبا کا مقابلہ کیا وہ علاج اس قسم کے خلاف کارگر ثابت نہ ہو یا اس قسم کے پھیلاؤ کے طریقے پرانی قسم سے نسبتاً مختلف ہوں اور جیسے یہ دوسرے علاقوں میں ایک دفعہ پھر وبائی شکل اختیار کر رہی ہے، تو یہ پھیلتے پھیلتے دوبارہ دنیا کو اپنی لپیٹ میں نہ لے جائے۔ اس دفعہ پھر دیکھنے میں آ رہا ہے کہ مغربی ممالک جہاں لوگ نسبتاً صفائی ستھرائی کا زیادہ خیال رکھتے ہیں، جن کی فی کس آمدنی مشرق کے مقابلے میں زیادہ ہے، جہاں اوسط عمر زیادہ ہے، جہاں بڑی عمر کے افراد زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں، وہی علاقے وبا کی زد میں آ رہے ہیں لیکن آہستہ آہستہ بین الاقوامی سفر کے ذریعے جو جہازوں سے بھی ہو سکتا ہے، بحری جہازوں سے، یہاں تک کہ سڑک کے ذریعے یہ وائرس ایک براعظم سے دوسرے براعظم میں پھیل سکتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ دوسرے ممالک سے آنے والے افراد کی پہلے کی طرح سکریننگ کی جائے، ایئرپورٹس اور بین الاقوامی ریلوے سٹیشنز پر تھرمل سکینر لگائے جائیں اور بین الاقوامی سفر کرنے والے لوگوں کو کرونا کا سرٹیفکیٹ لینا لازمی قرار دیا جائے تاکہ یہ وبا پاکستان میں نہ پہنچ پائے ورنہ 2020ء اور 2021ء میں جو ہزاروں اموات ہم نے دیکھیں اور جس طرح معیشت، زراعت، صنعت اور تجارت کا پہیہ جام رہا، ایک دفعہ پھر ملک اس کی لپیٹ میں نہ آ جائے۔ پہلے ہی پاکستان کے حالات بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ ہر جگہ ڈیفالٹ کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ لوگ بینکوں میں سے پیسے نکلوانے اور لاکرز خالی کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ایسے میں ایک دفعہ پھر یہ وبا پاکستان میں آ گئی تو بہت بڑی تباہی مچا سکتی ہے۔ اس لئے محکمہ صحت اور دیگر محکمہ جات کو مل کر ایک جامع حکمت عملی تیار کرنا ہو گی اور اسی کے مطابق اس کرونا وبا کو کنٹرول کرنا ہو گا۔