اپنی اپنی صفات کی خوشبو

اپنی اپنی صفات کی خوشبو

سیّد طاہر نظامی صاحب کی بنوائی ہوئی فہرستِ مشائخ دہلی میں ایک نام پر ہم ٹھٹھک گئے، وہ نام تھا حضرت محمود بحارؒ۔ میں نے فوراً زیرِ لب یہ نام مکمل کیا ”حضرت محمود بہار برقعہ پوش“ مجھے یہ نام ایک عرصے سے ازبر تھا۔ تفصیل اس یاد اور یادداشت کی یہ ہے کہ یہ ناچیز اوائل عمری میں ایک سید خاندان سے منسلک تھا، وہ لوگ اس بزرگ کی آل اولاد میں سے تھے۔ گزشتہ سے پیوستہ ماہ کے ایک کالم ”یاد رفتگان“ میں بھی اجمالاً سید سرفراز علی رضوی کا تذکرہ ہوا تھا۔ اس خاندان کے ساتھ ہمارا تعارف علی بھائی کی معرفت ہوا، پھر علی بھائی درمیان میں غائب ہو گئے اور ہم اس خاندان کے روبرو ہو گئے۔ رضوی صاحب جنہیں ہم سب دوست انکل کہتے تھے، ایک ہمہ جہت شخصیت تھے، کمال درجے کے شاعر اور ایک بلند پایہ فلسفی تھے۔ ان کے ساتھ خوب خوب گفتگو رہتی۔ یوں سمجھیں کہ ہم ہمجولیوں کی طرح آپس میں گھنٹوں بلاتکان بے تکلف گفتگو کرتے۔ ان دنوں اتفاق ہسپتال میں نوکری تھی، ڈیوٹی سے فارغ ہوتے ہی میری دوڑ ان کی طرف لگ جاتی۔ یہ مرشد کی رحلت کے بعد کے احوال ہیں۔ مختلف النوع افکار و احوال کے لوگ ان کے گھر کا رخ کرتے، پُرتکلف چائے کے ساتھ مرقع مرصع گفتگو سے محظوظ ہونا مہمان یہاں اپنا حق تصور کرتے۔ انکل سرفراز پی ڈبلیو ڈی میں چیف انجینئر کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ ان کا واحد مشغلہ غور و فکر اور مہمان نوازی تھا۔ اس میں ان کی اہلیہ راشدہ رضوی پیش پیش تھیں۔ آپا راشدہ کو میں بلاتکلف موجودہ دور کی رابعہ بصری کہہ سکتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے، یہ کالم اگر ان کی نظر سے گزرا تو ملاقات پر مجھے ڈانٹ پڑے گی لیکن کچھ سچ کہہ دینے چاہئیں خواہ معاشرہ اس کی اجازت دے یا نہ دے۔ آپا ہم سب کی جگت آپا ہیں۔ اللہ ان کی زندگی میں برکت دے، عشروں سے وھیل چیئر پر ہیں لیکن ہر گرے پڑے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرتی ہیں۔ میری زندگی میں ان کے بہت سے احسانات ہیں۔ اعلیٰ روحانی تجربات سے متصف ہیں اور ماضی کے بہت سے بزرگوں کی محبت انہیں حاصل ہے۔ خالص کلاسیکل صوفیانہ شاعری کرتی ہیں۔ پردہ داری کی وجہ سے کافی عرصہ اپنے تخلص کے بغیر شعر کہا کیے۔ اب کچھ عرصہ سے بچوں کی درخواست پر آج کل مقطع میں اپنا نام بطور تخلص استعمال کرتی ہیں۔ عمر کے اس حصے میں ہیں کہ مجھ سمیت ان کے بچے اپنے بچوں کی شادیاں کر چکے ہیں۔ آج کل لوگوں سے ملاقات بہت محدود کر چکی ہیں۔ میں ان کے گھر کو روحانیت کا کنڈرگارٹن کہتا تھا۔ ہماری آپا سادہ سادہ سی باتوں میں، بچوں کو ادب آداب اور اخلاقیات کے بنیادی اسباق سکھا دیا کرتیں۔ بے غرض اور بے لوث لوگ آسمان کے وہ ستارے ہیں جو زمین پر اتر آئے ہیں۔ اللہ غریقِ رحمت کرے انکل سرفراز جس محکمے میں چیف انجینئر تھے وہ کھاؤ پیو قسم کا محکمہ تھا، ان کے کلرکوں کا معاشی سٹیٹس ان سے زیادہ ہوتا تھا۔ سمن آباد کی ایک گلی میں کرایہ کے گھر میں مقیم تھے، اسی گلی میں انہی کے محکمے سے ان کا ایک ہم نام سرفراز نامی کلرک بھی رہتا تھا۔ دونوں کے مکانوں کی ٹیپ ٹاپ میں اتنا فرق تھا کہ لوگ سمجھتے کہ یہ سرفراز شاید کلرک ہے اور وہ باؤ 

سرفراز ایکسیئن ہے۔ ایک دن کہنے لگے، نوکری کے دوران میں بس دو قسم کی کرپشن کی ہے۔ ایک یہ کہ سرکاری فون کا ذاتی استعمال کیا ہے، اور دوسرا یہ کہ سرکاری گاڑی پر ذاتی ٹورز بھی کرتا رہا ہوں۔ میں ان کا منہ دیکھ رہا تھا، کاش آج کل سب افسران بس اسی قسم کی ”کرپشن“ پر اکتفا کر لیں تو ملک خوش حال ہو جائے۔ میاں بیوی کے ذاتی ٹورز بزرگوں کی زیارتوں کے گرد گھومتے تھے۔ ملک بھر میں جہاں کسی درویش کی اطلاع ہوتی، ان سے ملنے پہنچ جاتے۔ فری لانس فلسفی تھے، لیکن قدرتی رجحان دین اور روحانیت کی طرف تھا۔ کسی جگہ بیعت نہ تھے، لوگ کہتے کہ آپ کہیں بیعت کیوں نہیں ہوئے۔ ایک شانِ استغنا کے ساتھ کہتے، بھئی! جسے ہماری ضرورت ہے، وہ ہمیں آ کر لے جائے۔ اس بات پر میاں بیوی میں خوب دانشورانہ نوک جھونک رہتی۔ آپا کا خیال تھا کہ انہیں اب تک کسی کا ہاتھ تھام لینا چاہیے، انکل جواب آن غزل میں اپنی فلسفیانہ توجیہات کا ایک انبار لگا دیتے۔ آپا جہاں وابستہ ہوئیں، اس پیر خانے کا خوب احترام کرتے لیکن خود معرض رہے۔

آمدم برسر مطلب، سیّد محمود بحارؒ برقعہ پوش انکل رضوی کے جدّ امجد تھے۔ اکثر ان کے واقعات سنایا کرتے۔ انہیں برقعہ پوش اس لیے کہتے کہ وہ ہر وقت چہرے پر نقاب کیے رکھتے۔ جذب کی کچھ ایسی کیفیت وارد رہتی کہ جو شخص بھی آنکھ اٹھا کر چہرے کی طرف دیکھتا وہ مجذوب ہو جاتا، اس لیے فسادِ خلق سے بچنے کے لیے خود ہی برقع پوش اور گوشہ نشین ہو گئے۔ حضرت نظام الدین اولیاؒ کے ہم عصر بھی تھے اور دستِ راست بھی۔ بہت سے موقعوں پر حضرت نظام الدین اولیاؒ نے اپنے معاملات میں ان سے مشاورت اور معاونت طلب کی۔ دو واقعات معروف ہیں۔ جب حضرت نظام الدین اولیاؒ کی خلافت کا فیصلہ ہونا تھا تھا تو آپؒ نے نصیرالدین چراغ دہلویؒ اور امیر خسروؒ کو حضرت محمود بحار برقع پوشؒ کی خدمت میں کھیر کا ایک بڑا سا تھال دے کر بھیجا۔ حضرت محمود بحارؒ اپنے ہاتھوں سے لپالپ کھیر تیزی سے تناول کرنے لگے، جذب کی وجہ سے آپؒ کے منہ سے رال ٹپک رہی تھی، اور وہ رال کھیر کی تھال میں بھی شامل ہو رہی تھے، اتنے میں حضرت محمود بحارؒ نے کھیر کا وہی تھال امیر خسروؒ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا، تم بھی کھاؤ۔ امیر خسروؒ شاہی ماحول کے پروردہ تھے، نفاست طبع ان کے مزاج کا حصہ تھی۔ انہوں نے ہاتھ بڑھانے میں تھوڑا سا تساہل کیا۔ یہ دیکھ آپؒ نے وہی تھال فوراً نصیر الدین چراغ دہلویؒ کے سامنے کر دیا۔ اسی میں خلافت کا فیصلہ ہو گیا۔

محاورہ نما جملہ ”برسرِ تغلق“ بھی حضرت محمود بحار برقعہ پوشؒ کے ساتھ منسوب ہے۔ تاریخی واقعہ ہے کہ تغلق بادشاہ حضرت نظام الدین اولیاؒ کی عزت و شہرت سے حد درجہ خائف تھا، وہ انہیں دلی سے باہر نکالنا چاہتا تھا۔ ایک مرتبہ کسی فوجی مہم پر جانے سے پہلے اس نے کہہ دیا کہ میری دلی میں واپسی سے پہلے یہ درویش شہر سے باہر چلا جائے، وگرنہ جنگ کے لیے تیار ہو جائے۔ تغلق اپنی مہم سے واپس لوٹ رہا تھا کہ آپؒ کے مریدوں میں سراسیمگی پھیل گئی، لیکن آپؒ انتہائی پُرسکون تھے اور یہی کہتے ”ہنوز دلی دور است“ (ابھی دلی دور ہے) اور یہ بھی محاورہ بن گیا ہے۔ حضرت نظام الدین اولیاؒ نے اپنے ایک مرید کو حضرت محمود بحارؒ کی خدمت میں بھیجا اور یہ صورتِ حال ان کے گوش گذار کی گئی۔ اس وقت حضرت محمود بحارؒ ایک تربوز ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، آپؒ نے جلال میں اس تربوز کو دیوار پر مارا اور کہا ”برسرِ تغلق“ (تغلق کے سر پر)۔ لکھا ہے کہ عین اسی وقت تغلق فتح کا جشن منانے کے لیے دلی کے باہر ایک چوبی خیمہ گاہ میں داخل ہوا، اس کے داخل ہوتے ہی وہ خیمہ گر گیا اور چوبی تختے اس کے سر پر اس طرح لگے کہ سر پھٹ گیا اور وہ مر گیا۔ تکوینی نظام کے بارے میں جاننے والے ہی اس بارے میں بہتر جانتے ہیں۔ اگر کسی باطنی نظام کو بندہ مان کر نہ دے تو اسے کرامت اور تصرف کے بجائے ”حادثہ“ اور ”اتفاق“ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ہر انسان آزاد ہے، اپنی سی رائے رکھنے میں …… اور دین میں کوئی جبر نہیں۔

حضرت محمود بحارؒ کی خانقاہ دلی کی معروف خانقاہوں میں سے نہیں ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور کو بڑی مشکل سے سمجھانا پڑا، وہ سوچ کر کہنے لگا کہ ہاں پندرہ سولہ برس قبل میں یہاں ایک زائر کے ہمراہ جا چکا ہوں، لیکن آپ اطمینان رکھیں، میں ڈھونڈ لوں گا۔ دلی کے مضافات میں ایک عام سی آبادی ہے، ڈرائیور نے بتایا کہ اس آبادی کی بنیاد اندرا گاندھی نے رکھی تھی۔ ہمارے لاہور میں ٹاؤن شپ کا علاقہ اس کی مثال ہو سکتی ہے۔ اونچی اونچی چار پانچ منزلہ فلیٹ والی عمارتوں میں گھری ہوئی ایک گلی کے آخری سرے پر ایک قدیم مسجد ہے، جس کے صحن سے گذر کر حضرت محمود بحارؒ کی تربت مبارک ہے۔ یہ مسجد ”مسجد محمود بحارؒ“ کہلاتی ہے۔ اس تک پہنچنے میں کافی تگ و دو کا سامنا ہوا، کئی بار وہ راستہ بھولا، اور کتنی ہی بار اس نے اس بستی میں مقیم اپنے کسی دوست سے فون پر راستہ سمجھا، گوگل اس درگاہ اور مسجد کے بارے میں مکمل خاموش تھا۔ مسجد میں چند نمازی بیٹھے، ہم نے اپنا تعارف کرایا تو دو نوجوان ہمارے ہمراہ ہو لیے، خانقاہ کا احاطہ کھلوا دیا۔ مزار کی جالیوں کے چاروں طرف سیاہ رنگ کے پردے لٹکے ہوئے تھے۔ گویا مزار کے باہر ہی سے معلوم ہو رہا تھا کہ یہ کسی برقع پوش کا مزار ہے۔ جس طرح زندگی میں آپؒ گوشہ نشیں اور برقعہ پوش رہے، اسی طرح زندگی کے بعد بھی آپ کے مزار کا رنگ ڈھنگ ویسا ہی تھا۔ ان نوجوانوں نے بڑے تپاک سے ہمیں چائے بسکٹ پیش کی اور بطور خاص مزار شریف کے اندر داخل ہونے والا دروازہ بھی کھلوا دیا۔ یہاں اپنی پذیرائی محسوس ہو رہی تھی۔ ایک چادر پیش کی، یہاں دعا کی اور ان کی آل اولاد کو دعا میں وسیلہ بنایا۔ مزار کے احاطے کے پیچھے ایک پرانی طرز کا حجرہ تھا، جس کے بارے میں وہاں کے لوگ یہ بتاتے ہیں کہ یہ آپؒ کی چلہ گاہ تھی، لیکن کتابوں میں درج ہے کہ یہ چلہ گاہ حضرت نظام الدین اولیاؒ سے منسوب ہے اور نظام پاکؒ غیاث پور سے یہاں اسی مسجد میں جمعہ کی نماز کے لیے تشریف لایا کرتے۔ مزار اقدس کی کھڑکیوں پر لٹکے ہوئے پردے دیکھ کر مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا شعر ذہن میں گونجنے لگا۔

اپنے اپنے مزار میں واصفؒ

اپنی اپنی صفات کی خوشبو