سادہ سا ٹیسٹ جو والدین بننے کے خواہش مند جوڑوں کی مشکل آسان کر سکتاہے

سادہ سا ٹیسٹ جو والدین بننے کے خواہش مند جوڑوں کی مشکل آسان کر سکتاہے

لندن :برطانیہ کے طبی مرکز، گلاسکو سینٹر فار ری پروڈکٹو میڈیسن ‘کے سائنس دان حاملہ خواتین کے خون کے نمونے حاصل کر کے ان میں ہارمونز کی سطح اور حمل کے تعلق پر تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہر پانچ میں سے ایک حاملہ عورت کا بچہ کسی وجہ سے جنم لینے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے۔ لیکن اب ماہرین نے ایک ایسا طریقہ دریافت کر لیا ہے جس کے ذریعے اس بارے میں پہلے سے پتا لگا کر احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔


ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بڑی عمر کی خواتین میں حمل ضائع ہونے شرح ہر چار میں سے ایک ہے۔ایک نئی سائنسی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ حمل ٹہرنے کے محض چند روز بعد ایک عام اور سادہ ٹیسٹ کے ذریعے یہ تعین کیا جاسکتا ہے کہ حمل ضائع ہونے کا امکان کتنا ہے۔

لیکن اب ماہرین کو پتا چلا ہے کہ حمل ٹھہرنے کے فوراً بعد جسم میں ہارمونز کی سطح یہ طے کرنے میں مدد دیتی ہے کہ ا س حمل کے محفوظ رہنے کے امکانات کتنے ہیں۔برطانیہ کے ایک طبی مرکز، گلاسکو سینٹر فار ری پروڈکٹو میڈیسن ‘کے سائنس دانوں نے دو ہزار سے زیادہ حاملہ خواتین کے خون کے نمونے حاصل کر کے ان میں ہارمونز کی سطح اور حمل کے تعلق پر تحقیق کی۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ حمل کے عرصے میں ہارمونز بڑی تعداد میں پیدا ہوتے ہیں اور خون میں ان کی سطح نمایاں طور پر بلند ہوتی ہے۔ خون میں ہارمونز کی مقدار بڑھنے کا عمل حمل کے ابتدائی تین مہینوں میں بہت تیزی سے ہوتا ہے۔اسقاط حمل سے مراد یہ ہے کہ پہلے 24 ہفتوں کے دوران بچہ ضائع ہو جائے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک حمل ضائع ہو جاتا ہے۔

اکثر اوقات اسقاط حمل کی وجہ کا پتا نہیں چلتا۔لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عموماً اس کا سبب جنین کا کوئی مسئلہ ہوتا ہے۔ اسے بچانا ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن حمل گرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ماں یا باپ میں سے کسی کے اندر کوئی نقص ہے۔اگر حمل 14 ویں اور 26 ویں ہفتے کے درمیان گرتا ہے تو اس کی وجہ عموماً انفکشن یا طویل عرصے تک ماں کی صحت کی خرابی ہوتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی خاتون کے مسلسل تین حمل یا اس سے زیادہ گر جائیں تو اس کے ندر کوئی پیچیدگی ہو سکتی ہے۔ عموماً ہر 100 میں سے ایک سے عورت ا س صورت حال سے گذر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں اسے ماہر معالج کے پاس جانا چاہیے۔ عام طور پر علاج سے 60 فی صد سے زیادہ خواتین صحت یاب ہو جاتی ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ حمل کے 8 ہفتوں بعد جن خواتین میں ہارمونز کی سطح 86 فی صد ہو، ان کا حمل عموماً کامیاب رہتا ہے۔

اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے متعلق ایک ادارے جی سی آرایم کے ڈائریکٹر مارکو گوڈائن کا کہناہے کہ ہار مون کی سطح سے ہمیں واضح راہنمائی ملتی ہے اور اس کی مدد سے ہم بہتر طورپر مریضوں کو نفسیاتی اور جذباتی لحاظ سے تیار کر سکتے ہیں.

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں.