گرین فل ٹاور سانحہ میں مسلمان فیملی نے والدین سے محبت کی نئی مثال قائم کردی

گرین فل ٹاور سانحہ میں مسلمان فیملی نے والدین سے محبت کی نئی مثال قائم کردی

لندن : مسلمان فیملی نے محبت کی ایک نئی مثال قائم کر دی ٗگزشتہ دنوں گرین فل ٹاور میں آگ لگنے پر بچوں نے بوڑھے والدین کو چھوڑ کر جانے سے انکار کر دیا اورپوری فیملی ایک ساتھ اسی آگ میں جل گئی۔

تفصیلات کے مطابق گوروں کے دیس میں جہاں بوڑھے والدین کو اولڈہاؤسز میں چھوڑ کر اپنی زندگی میں مصروف ہونے کا رواج ہے وہاں پر ایک مسلمان فیملی نے نئی روایت قائم کر کے سب کوحیران کر دیا ہے۔ محبت کا یہ انوکھا واقعہ اس وقت ہوا جب گزشتہ دنوں لندن کے گرین فل ٹاور میں آگ لگ گئی تو ہر کوئی اپنی جان بچانے کیلئے بلڈنگ سے باہر کا راستہ ڈھونڈنے لگا لیکن 17ویں منزل پر تین بچوں نے اپنے والدین کوچھوڑ کر جانے سے انکار کر دیا ٗ قمرو میاں بوڑھے ہونے کی وجہ سے حرکت کرنے سے بھی معذور تھے اور ٹاور میں اب کوئی راستہ نہیں بچا تھا جہاں سے والدین کواٹھا کر نکالاجا سکتا تو 29سالہ عبدالحمید ٗ 26سالہ عبدالححنیف اور 22سالہ حسنہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بوڑھے والدین کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے چاہے اس میں ان کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے ۔

حسنہ  کی ایک ماہ بعد شادی ہونے والی تھی ۔فون پر اپنے رشتہ داروں کو ان بہن بھائیوں نے یہ کہا کہ وہ ان کے دنیا سے جانے پر دکھی نہ ہوں کیونکہ وہ مرنے کے بعد دنیا سے اچھی جگہ پرجا رہے ہیں۔خاندان ان کے لئے بہت اہم ہے وہ ساتھ زندہ رہے ہیں تو ساتھ ہی دنیا سے بھی جائیں گے۔ اس خاندان کے رشتہ داروں کے مطابق رات گئے 3:10 تک اس مثالی خاندان سے فون پر رابطہ رہا جس کے بعد آگ نے ان کے فلیٹ کوبھی اپنے حصار میں لے لیا۔